کل پھر آنا
اسکول سے پیرس جانے کا پروگرام بنا ہے۔ دونوں بھائی بہنوں نے اپنا اپنا نام لکھوادیا ہے۔ اس سفر کے لیے انھوں نے پیسے ماں سے لے لیے ہیں۔ اسی بات کا تو کبیر کو غرور ہے۔ ارے، پیسہ کماتا ہوں، تم لوگوں پر خرچ کرتا ہوں اور کیا کروں ؟ اس بار جب اسکول سے پیرس جانے کا پروگرام بنا تو دونوں ہی بچوں نے اپنے اپنے نام دے دیے۔ ریما بھی خوش تھی کہ دونوں بچے اکٹھا رہیں گے۔ مگر تبھی کبیر نے اعلان کر دیا، "ریما، میں دوہفتوں کے لیے دلّی جا رہا ہوں۔ وہاں سے ممبئی جاو ¿ں گا۔ وہ ایسا ہے کہ ائیر لائن کے ‘ایکسپینشن ‘ کی بات چل رہی ہے، میرا وہاں ہونا ضروری ہے۔ "
"میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں نا، دو ہفتے میں بھی اپنے میکے ہو کر آ جاؤں گی۔ آج کل ماں کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی ہے۔ "
” سوچا تو میں نے پہلے یہی تھا مگر انشورنس والوں نے روف ریپر کے لیے یہی ٹائم لکھا ہے۔ ابھی وہ لوگ پھنس رہے ہیں تو ہم کروا لیں ورنہ ہم کہتے رہیں گے اور ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔ کل تین دن کا کہہ رہے ہیں۔ "
” توٹھیک ہے، میں کام کروا کے آ جاو ¿ں گی…آپ ہی سوچیے ، نہ تو آپ یہاں اور نہ بچے۔ میں کروں گی کیا؟”
کبیراور بچے ریما کو اکیلا چھوڑکر اپنے اپنے کاموں کے لیے نکل گئے۔ اگلی ہی صبح انشورنس کمپنی کی طرف سے راجگیر آ پہنچے، کھڑے ہو کر کام کرنے کے لیے باہر پائپ جوڑکر اسکیفو لڈنگ تیار کرنے لگے۔ کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کام کرنے والے مغربی یورپ کے لوگ لگ رہے تھے، کچھ الگ ہی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ ریما کے اندر کا ہندوستانی اب بھی زندہ تھا۔
"آپ لوگ چائے پئیں گے ؟”
ایک نے تو منع کر دیا، بقیہ دو نے کافی کی خواہش ظاہر کر دی۔ ریما کے لیے اور بھی آسان ہو گیا۔ ایک کی بلیک کافی تھی، دوسرے کی وہائٹ…دونوں کو ہی شکر سے پرہیز تھا۔ ریما نے فٹافٹ کافی بنا کر انھیں تھمادی۔ چھت کے اوپر سے عجیب عجیب آوازیں آ رہی تھیں۔ ریما کو تنہائی کاٹ رہی تھی۔ آج اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ بھی کبیر کی طرح ٹی۔ وی لگا کر اور روشنی میں سونے کی کوشش کرے گی۔ مگر اسے ایسے ماحول میں نیند کہاں آتی ہے۔
"آپ رات کو ٹی۔ وی اتنی زور سے کیوں چلاتے ہیں ؟ ساری لائٹس بھی جلا کر سوتے ہیں، آپ کو نیند کیسے آتی ہے ؟”
"اپنی اپنی عادت ہے۔ ” ریما، کبیر کی ڈھٹائی کا مقابلہ بھلا کیسے کرتی۔
"میڈم! ایک بوتل پانی ملے گا؟” ایک راجگیر کی آواز آئی۔
ریما اپنی سوچ سے باہر نکلی اور پانی لا کر راجگیر کو دے دیا۔ کبیر نے جاتے جاتے بھی احکامات صادر کرنے نہیں چھوڑے تھے۔ "دیکھو جب ایک بار اوپر سے ٹائلز ہٹ جاتی ہیں تو کوئی بھی چور اوپر سے گھر کے اندر پہنچ سکتا ہے۔ آج کل چوریاں بہت ہو رہی ہیں۔ پھر ہمارے گھر میں تو بہت سی چیزوں کا انشورنس بھی نہیں کرایا گیا ہے۔ "
ریما کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ رات میں کیا کرے گی۔ پہلے اس نے سوچا کہ بشریٰ کو ہی بلا لے۔ دونوں سہیلیاں رات بھر باتیں کریں گی، وقت گذرنے کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ لیکن پھر اس نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ ڈرنے کی کیا بات ہے، جو ہو گا دیکھا جائے گا۔
رات میں اس نے کچھ تازہ نہیں بنایا تھا۔ فرج میں سے بچا ہوا کھانا نکالا۔ ایک پلیٹ میں چاول، آلو کی سبزی اور چکن کری ڈال کر مائیکرو ویو میں ڈھائی منٹ تک گرم کیا۔ تھوڑا سا کھیرا بھی کاٹ لیا۔ کھیرے کو دیکھتے ہوئے جذبات میں تھوڑی سی ہلچل ہوئی لیکن پھر ان پر قابو پا کر کھانا کھانے لگی۔ اس نے ٹی۔ وی چینل بدلا۔ کوئی رومانٹک فلم آ رہی تھی۔ ہیرو ہیروئن کو وہ پہچانتی نہیں تھی، بوسے کا منظر دیکھ کر اسے بھی کچھ کچھ ہونے لگا۔ کچھ سوچا، پھر سر کو جھٹکا دیا، ٹی۔ وی بند کر دیا اور اوپر سونے کے لیے چل دی۔ بستر پر لیٹی اور اپنی زندگی پر سوچنے لگی۔
اسے اپنی زندگی کی سبھی کھٹی میٹھی یادیں اس کے ساتھ شرارت کرتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ بچپن، جوانی، شادی اور کبیر کے ساتھ گذاری ہوئی زندگی ؛ سب اسے گدگداتے، تڑپاتے، پریشان کرتے اور آنکھیں بند کرنے پر مجبور کرتے رہے۔ کیا ہر آدمی پچاس تک پہنچتے پہنچتے خرچ ہو جاتا ہے ؟ کیا ہر عورت اس کی عمر میں آ کر زیادہ سیکس چاہنے لگتی ہے ؟ اس کے ساتھ کی عورتیں تو اپنی سیکس لائف کے قصے چٹخارے لے لے کر سناتی ہیں۔ وہ بے چاری ہر بار اپنا دل مسوس کر رہ جاتی ہے۔
اچانک ریما کی نیند ٹوٹ گئی۔ نیچے کوئی برتن گرنے کی آواز آئی تھی۔ شوہر کی تاکید یاد آ گئی، "گھر کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ جب چھت کی۔ ٹائلز نکلی ہوں تو چور آسانی سے گھر میں گھس سکتے ہیں۔ ” کیا نیچے کوئی چور ہے ؟ ہمت نہیں ہورہی تھی کہ بستر چھوڑکر نیچے جائے۔ اگر واقعی کوئی ہوا تو وہ اکیلی کیا کرے گی۔ اب چوبی فرش پر کسی کے دبے پاؤں چلنے کی آواز بھی آنے لگی ہے۔ کبیر کہہ بھی رہا تھا یہ فرش ٹھیک نہیں بنا ہے۔ بلڈر کے ساتھ خط و کتابت بھی چل رہی ہے لیکن کم از کم پتہ تو چل رہا ہے کہ نیچے کوئی موجود ہے۔ کہیں کوئی بلّا تو نہیں ؟ کوئی لومڑی بھی ہو سکتی ہے ؟ روزانہ گارڈن میں تو آتی ہی ہے۔ کہیں آج پیچھے کا دروازہ کھلا تو نہیں رہ گیا؟
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


