بچوں میں ڈس لیکسیا (Dyslexia) کا مرض کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کریں؟
شناخت اورعلامات:۔
ڈس لیکسیا کی ماہر سیلی ای شیوٹز کے مطابق سب سے پہلا اشارہ بچوں میں دیر سے بات شروع کرنا اور دو سال کی عمر تک بھی نامکمل فقرے ادا کرنا ہے۔ وہ نظموں کو یاد کرنے میں بھی دشواری سے گزرتے ہیں۔ مندرجہ بالا علامات عموماً بچوں میں پائی جاتی ہیں۔
1) دشواری سے اور آہستہ آہستہ پڑھنا۔
2) بظاہر ذہین نظر آنے کے باوجود پڑھنے، لکھنے اور ہجے کرنے میں انتہائی مشکل کا سامنا کرنا۔
3) حروف یا الفاظ کو الٹی سمت میں پڑھنا مثلاً انگریزی کے حروف b اور d یا p اور q کے درمیان ہمیشہ کنفیوژن کا ہونا، اسکے علاوہ الفاظ جیسے Won کو Now یا Rat کو Tar پڑھنا۔
4) کچھ حروف کو کھا جانا مثلاً Cart کے بجائے Cat پڑھنا۔
5) حروف کو لفظوں میں خود سے شامل کر دینا یا اصل حرف کے بجائے دوسروں کو پڑھنا مثلاً Cat کو Cart پڑھنا یا Left کو Felt پڑھنا۔
6) حروف کی صوتی ادائیگی میں دشواری اور بعض دفعہ درست ادائیگی کے باوجود صحیح تلفظ کی ادائیگی سے قاصر ہونا۔
7) بعض دفعہ ایک لفظ کو دوسرے ہم معنی لفظ سے بدل دینا، مثلاً Dog کو Pup، حروف کو اوپر سے نیچے سیدھے سے الٹے سمت کی وجہ سے پڑھنے اور پھر لکھنے کے عمل کو مررر رائٹنگ (Mirror Writing) بھی کہا جاتا ہے جو مشہور مصور لینارڈوڈی وانچی کے لکھے خطوط میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ڈس لیکسیا تھا۔
8) تختہ سیاہ سے اتارنے میں دشواری ہوتی ہے اور تحریر کا خط ناقص، حروفِ تہجی میں چھوٹی بڑی اشکال کا امتزاج نظر آتا ہے۔ بعض الفاظ نامکمل ہوتے ہیں۔ ڈس لیکسیا کی اس قسم کو کہ جس میں لکھائی متاثر ہوتی ہے، Disgraphia یا ڈس گرافیا کہا جاتا ہے۔ ایسے بچے تحریر کو اپنے اظہار کا اچھا طریقہ بنانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
9) پڑھتے وقت اپنی سطروں کو کھو دینا، بڑے الفاظ کا تلفظ غلط ادا کرنا۔
10) پریشانی یا دباﺅ میں ہکلاہٹ۔
11) حساب میں دشواری جس کو ڈس کیلکولائی (Discalculi) بھی کہا جاتا ہے، دراصل ڈس لیکسیا ہی کی ایک شکل ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق عموماً 12 سال یا اسکےک بعد بھی 60 فیصد بچے حساب کے بنیادی سوالات حل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ تھامس ایڈیسن نامور موجد ہونے کے باوجود حساب کے معاملے میں کمزور تھا لہٰذا اسکا معاون حساب حل کرنے کا کام کرتا تھا۔ ایسے بچے عموماً ہاتھ کی پوروں یا انگلیوں پر حساب کرتے ہیں، ان کو وقت بتانے یا عام حساب کتاب میں بھی دشواری ہوتی ہے۔
ڈس لیکسیا کے اثرات:۔
پڑھنے میں کمزوری کے اثرات صرف جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ کمزوری نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب کرتی ہے اور نہ صرف متاثر کنندہ بلکہ والدین اور بہن بھائی بھی اسکے زیراثر ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ میں بالخصوص کہ جہاں عموماً کتابی علم تک معلومات محدود ہیں، ایسے افراد شرمساری، ذہنی دباﺅ، ہیجان، عدم اعتمادی اور عزتِ نفس کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ماضی میں جھانکیں تو اکثر بچے نظر آئیں گے کہ جن کو باآواز بلند کتاب پڑھنے میں جھجک مانع ہوتی تھی۔ شرم و خوف سے ان کا چہرہ جھکا ہوا ہوتا اور استادکی جانب سے احمق اور نالائق جیسے الفاظ کی بوچھاڑ انکی قسمت تھی۔ ان کو اعتماد کی کمی دوسری نئی چیزیں سیکھنے سے روکتی ہے۔ صبح اسکول جاتے وقت ان کی طبیعت مضمحل ہوتی ہے خصوصاً جس دن ان کا کوئی ٹیسٹ ہوتا ہے اور اگر انکے بہن بھائی اچھے طالب علم ہوتے ہیں تو ان پر گھریلو یا اسکول کا دباﺅ دوہرا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی کم علمی کی ناکامی کا ذمہ دار اپنے آپ کو ٹھہراتے ہیں حالانکہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ایک ڈس لیکسک بچے کے ذہن کو نارمل ذہن کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنی خفت اور شرمندگی چھپانے کیلئے کبھی یہ جماعت کے مسخرے کا روپ دھارتے ہیں تو کبھی تکلیف اور پریشانی پہنچانے کا ذریعہ اور یہ بڑے ہو کر معاشرے کا مجرم بھی بن سکتے ہیں۔ نیشنل سینٹر آف ایجوکیشن کے مطابق امریکہ کی جیلوں کے ایک تہائی مجرم قیدی لرننگ ڈس ایبلٹی یا سیکھنے کی اہلیت میں خرابی کا شکار ہیں۔ اسی طرح برٹش ڈس لیکسیا ایسوسی ایشن کی جون 2004ءکی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق کہ جو 34 نوعمر مجرموں پر کی گئی، 56 فیصد مجرم ڈس لیکسیا کی علامات کا شکار تھے۔
تدارک یا علاج:۔
گو ڈس لیکسیا ایک اعصابی بے ربطگی ہے لیکن اسکا علاج طب کے بجائے تعلیم میں مضمر ہے یعنی پڑھنے کے عمل کی دشواری پر علم سے قابو پانا جس کو ”علاج بذریعہ بالواسطہ پڑھنا“ کہا جاسکتا ہے۔ یہ ”علمی“ علاج بالعموم گھروں میں اور اسکولوں کے علاوہ کلینک اور پرائیویٹ اساتذہ کی مدد سے کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے تعلیم دان، زبان اور گفتگو کے معالج، تعلیمی نفسیات دان اور تربیت یافتہ ماہر تعلیم خصوصی سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے کے کچھ پروگرام حسب ذیل ہیں۔ آئی ای پی (Individualized Education Programme) یا انفرادی تعلیم کا پروگرام، یہ پروگرام بچوں کی اہلیت اور استعداد کے حساب سے انکی کامیابیوں کے مطلوبہ مقاصد یا مقام کو متعین کرتا ہے۔ اس میں بچے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیتوں کو ان کی کامیابیوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور کمزوریوں پر قابو پانے میں بھی محنت کی جاتی ہے۔
مستعمل طریقہ علاج:۔
1997ءمیں امریکہ کی کانگریس نے ایسے بچوں کی دشواری کے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ریڈنگ پینل (NRP) کے ماہرین کی خدمات طلب کیں کہ جس کی ذمہ داری اس سے متعلق تجاویز پر غور کرنا ہے۔ اسکے تحت جو سب سے بہترین کارگر طریقہ ہے وہ بچوں میں حروفِ تہجی کی صوتی یا آواز شناسی پر زور دینا ہے یعنی حروف کو پہچان کر ان کی آواز مخصوص آواز کی مدد سے لفظ پڑھنا، صوتی مشق اور حروف کی آواز سے لفظوں کی ہم رشتگی Phonic یا صوتی طریقہ تدریس کہلاتا ہے۔
ملٹی سنسری (Multisensory) پروگرام جس میں ایک سے زیادہ حواسِ خمسہ کو استعمال میں لایا جاتا ہے جس میں دیکھنے، ہاتھ سے لکھنے، دہرانے، چھوٹے اور آواز سننے کے عمل پر ترتیب وار عمل کیا جاتا ہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



