بچوں میں ڈس لیکسیا (Dyslexia) کا مرض کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کریں؟
اسکی بنیاد آرٹن، گیلہنم طریق پر رکھی گئی جو ڈس لیکسیا کی تحقیق کے بانی ٹی آرٹن تعلیم دان این گیلن ہیم نے دریافت کیا، اور بھی کئی طریقے اسکی بنیاد پر دریافت کئے گئے اور پاکستان کے کم وسائل علمی اداروں میں بھی اپنائے جاسکتے ہیں لیکن آج کل جدید تکنیک کے حوالے سے کچھ اور طریقے بھی عمل میں لائے گئے ہیں اور چونکہ اب پاکستان کے جدید شہروں میں کمپیوٹر عام ہیں تو کم از کم وہاں ضرور چند پروگرامز مثلاً Fast Forward پروگرام پر عمل ہوسکتا ہے کہ جس میں مختلف ذہنی سطح پر تعلیمی پروگرام ترتیب دئیے گئے ہیں جو بچہ ہیڈ فون لگا کر استعمال کرسکتا ہے۔
پڑھنے کے علاوہ کچھ ایسی تیکنیکس کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے جو پڑھنے میں مدد کے بجائے لکھائی اور پڑھائی کو آسان بناتی ہیں مثلاً A ٹیک کہ جس میں لکھائی کے بجائے کی بورڈ (Keyboard) کا استعمال ہے، اس میں ہجے جانچنے کا بھی نظام ہوتا ہے۔
آواز پہچاننے کا انتظام، یہ سافٹ وئیر مثلاً ڈرگن نیچرلی اسپیکنگ جو خود بخود کہے ہوئے الفاظ کو ورڈ پروسیسنگ فائل پر ٹائپ کرتا ہے۔ اسکے علاوہ کمپیوٹر پر لکھے الفاظ کو آواز میں تبدیل کرنے والے پروگرامز جس میں مطلوبہ درسی متن کمپیوٹر آپ کے سامنے آواز میں پڑھ کر سناتا ہے۔
ریڈنگ پین بھی ایک ایسا ہی آلہ ہے کہ جو لکھے ہوئے متن کو آواز میں تبدیل کردیتا ہے۔ بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی لے جایا جاسکتا ہے۔ یہ پین جب کمپیوٹر پر لکھی سطر پر رکھا جاتا ہے تو ان الفاظ کو بلند آواز میں پڑھتا اور انکی تعریف پیش کرتا ہے۔
گو عام کلاس کے کمرے میں بھی ایک ڈس لیکسک بچے کو پڑھایا جاسکتا ہے لیکن ایک استاد کے ساتھ انفرادی توجہ یا چھوٹے گروپ میں تعلیم کا نتیجہ بہت ہی اچھا ہوتا ہے۔
دماغی ورزش (Brain Gymnastics):
دماغی ورزش کے طریقے ڈاکٹر پال ڈاینیشن (پی ایچ ڈی چائلڈ ڈویلپمنٹ اور ایجوکیشنل اسپیشلسٹ) اور انکی اہلیہ گیل ڈاینیشن (ماہرِ حرکات) کی 30 سالہ تحقیق کا نچوڑ ہیں اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کارگر ثابت ہورہے ہیں۔ گو اس جدید سائنسی تعلیمی طریقوں کے موضوع کو احاطہ کرنے کیلئے علیحدہ جامع مضمون کی ضرورت ہے مگر فی الوقت یہ جانئے کہ جسم کی صحت کیلئے جسمانی ورزش بہت ضروری ہے اور دماغ جسم کا اہم حصہ ہے۔ یہ دماغی ورزشیں نہایت سادہ اور ارزاں ہیں مثلاً سبق شروع کرنے سے پہلے پانی پینا کہ جو ذہنی دباﺅ کو کم کرکے ذہن کو مرکوز کرتا ہے اور ایک مثال ہے کہ اپنی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو کالر کی ہڈی کے نیچے رکھ کر آہستہ آہستہ ملیں اور دوسرا ہاتھ ناف کے اوپر رکھیں۔ یہ طریقہ دماغ کی جانب خون کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ کھڑے ہو کر اپنا سیدھا ہاتھ الٹے پیر کے گھٹنے پر رکھیں، پھر الٹا ہاتھ سیدھے پیر کے گھٹنے پر، اس عمل کو بار بار دہرائیں۔ یہ ورزش دماغ کے سیدھے اور الٹے حصے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے اور دونوں جانب معلومات کا تبادلہ کرتی ہے۔ اسی طرح کی اور بے شمار مشقیں خصوصاً ڈس لیکسک یا عام بچوں کیلئے مددگار ہیں۔
تدارکی تدابیر کے نتائج:۔
2003ء میں ہونے والی ایٹن فورڈ یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق ان سب طریقوں سے نہ صرف پڑھنے کی اہلیت میں اضافہ ہوا بلکہ دماغ کی استعداد میں بھی نمایاں تبدیلی نوٹ کی گئی۔ اب کچھ اور معالجوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں کہ جن میں جسمانی حرکات یا توازنِ بصارت اور غذائیت میں ردوبدل کی گئی، مثلاً بصری علاج میں پڑھتے وقت اگر ایک آنکھ کو ڈھانک دیا جائے تو ماہرین کے مطابق اس سے بچے کے ذہن کو مربوط رکھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ ڈس لیکسیا میں حروف کے الٹ جانے اور گڈمڈ ہوجانے کی ایک بنیادی وجہ دہری بصارت یا ڈبل وژن سمجھی جاتی ہے اور آنکھ کے ڈھکنے سے اس پر فرق پڑتا ہے، یہ طریقہ بالخصوص 6-9 سال کی عمر کیلئے انتہائی مناسب ہے۔
مشقِ مسلسل:۔
ہمارے اسکولوں میں دہرانے کا مسلسل عمل ابھی بھی مستعمل ہے۔ یہ عمل ڈس لیکسک بچوں کیلئے سودمند ہے یعنی اتنا دہرانا کہ اس پر مہارت ہوجائے۔
غذائی علاج مثلاً اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا استعمال جو مچھلی میں پایا جاتا ہے اور دماغ اور بینائی کیلئے مفید ہے۔
محرک جین کے پتہ ہونے کے بعد مستقبل میں جین تھراپی بھی علاج کی ایک صورت ہوسکتی ہے۔
ممکن یہ بھی ہے کہ مستقبل میں کوئی ایسی دوا دریافت ہوسکے کہ دماغ میں زبان سے تعلق رکھنے والے مرکزے یا میگنو سیل کی خرابی کو دور کرسکے۔
مزید کیا حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے؟
بحیثیت والدین ہمارا فرض بچوں کی عزتِ نفس کو مجروح ہونے سے بچانا، ان کو مسلسل حوصلہ دینا اور مستقل مزاجی سے اپنی معاونت، محبت اور مدد فراہم کرنا ہے۔
بحیثیت استاد ضروری ہے کہ ہماری تدریس کا معیار بلند ہو، طبیعت میں تحمل، مستقل مزاجی اور حساسیت اور ہر وہ طریقہ آزمانے کا جذبہ ہو جو بچے کیلئے مددگار ہو۔
گو ڈس لیکسیا کی ماہر سوزن ہال کے مطابق ایسے بچوں پر بہترین کام کے جی یا پہلی جماعت میں ہوتا ہے لیکن جس وقت بھی شناخت ہوجائے پوری ذمہ داری سے بچے کی مدد کی جائے۔ بچوں کو ناقص العقل، احمق یا کام چور جیسے الفاظ سے مخاطب کرنے سے گریز کیا جائے، ان کو ان کے مخصوص طرائق سے علم آشنا کیا جائے تو وہ یقیناً معاشرے کا فعال کردار بن سکتے ہیں۔ وہ مشہور ہستیاں جو واضح طور پر ڈس لیکسک تھیں آج انسانی تاریخ کا معتبر حوالہ ہیں۔ ان میں شامل الیگزینڈر گراہم بیل، مائیکل فیراڈے، تھامس ایڈیسن، پکاسو، چرچل، بنسن، کرسٹین اینڈریسن کے علاوہ ٹام کروز اور وہوبی گولڈبرگ محض چند نمایاں نام ہیں۔ تفصیل لمبی ہے لیکن ہمارے تعاون سے بہت سے نام ہمارے ملک کے افراد کے بھی ہوسکتے ہیں جو ہماری آنے والی تاریخ کا حوالہ بن سکتے ہیں۔


