گم شدہ افراد کے لئے سندھ کے بیٹے بیٹیوں کا احتجاج
میرا کچھ وقت اس احتجاجی کیمپ پر گذرا، قصہ کچھ یوں ہے کہ سندھ میں سورٹھ لوہار، نظیر آریجو، سسئی اور کچھ دیگر خواتین نے جب اپنے پیاروں کے بازیابی کے لئے کراچی میں احتجاجی کیمپ قائم کی تو اس کیمپ میں سندھ حکومت کی ناک کے نیچے ان کے اور دوسرے اہلکاروں نے خواتین کو گھسیٹا ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے یہ جو کچھ ہوا، اس کا رد عمل اسلام آباد میں بھی ظاہر ہوا اور سندھی طلبہ نے یونیورسٹی کی دوسری کاؤنسلز جن میں پشتون، بلوچ، سرائیکی، پنجابی اور گلگت کاؤنسلز کو ساتھ لے کر احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ قائم کردیا، پہلے تو ان کو یہ کیمپ قائم کرنے کی اجازت نہیں مل رہی تھی لیکن اسلام آباد انتظامیہ میں موجود سندھ کے آفیسر جو کہ خود بھی قائد اعظم یونیورسٹی کے طالبعلم رہ چکےہیں ، انہوں نے طلبہ کو اس شرط پر اسلام آباد کیمپ قائم کرنے دیا کہ وہ دوسرے دن احتجاج ختم کردیں گے، طلبہ نے آپس میں چندہ اکٹھا کر کے ڈیکوریشن کی دکان سے خیمے لائے اور کیمپ قائم کر دیا، اسی رات کو پشتین موومنٹ کے رہنما منظور پشتین بھی اس کیمپ پر پھنچ گئے، منظور پشتین سے متعلق ایک حلقے کا خیال یہ ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کی پشتون کاؤنسل ہی پشتین کی اصل طاقت ہے۔
مہران کائونسل کے احتجاج کی حمایت پاکستان عوامی ورکرز پارٹی نے بھی کی اس پارٹی کے کئی رہنما بھی کیمپ پر پہنچے، جب دوسرا دن نکلا یعنی بدھ کی صبح ہوئی تو اسلام آباد انتظامیہ، پولیس، رینجرز، سیکیورٹی اور حساس اداروں کے اہلکار طلبہ کا گھیرا تنگ کرتے نظر آئے لیکن طلبہ نے رات گئے ہی اعلان کردیا تھا کہ احتجاجی کیمپ تین دن تک جاری رہے گی.نیشنل پریس کلب کے احاطے میں اور بھی کئی کیمپس لگائے گئے ہیں لیکن گمشدگیوں کے خلاف کیمپ انتظامیہ اور ریاستی مشینری کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا، وہاں سب کو احتجاج کرنے کی اجازت بھی ہے، اگر احتجاج سے کسی کو روکا گیا ہے تو ان طلبہ کو روکا گیا، جو گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج رکارڈ کروانے آئے تھے، میری آنکھوں کے سامنے فرشتے، اہلکار کارندے طلبہ کو کیمپ ختم کرنے کا کہتے رہے، اسلام آباد میں اسی دن گرمی کا درجہ حرارت بھی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تھا طلبہ نے احتجاج اور کیمپ ختم کرنے سے انکار کردیا، تیز دھوپ میں ڈھائی بجے کے قریب اسلام آباد پولیس نے ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں شاگردوں کو دھوپ سے محفوظ رکھنے والی کیمپ اکھاڑ کر پھینک دیا اور خیمے بھی موبائل میں ڈال کر کے لے گئے، اسلام آباد پولیس کو یہ بھی حکم ملا تھا کہ احتجاج میں شامل لوگوں کی پکڑ کر تھانے لایا جائے، لیکن جوان نسل طلبہ بغیر کسی مزاحمت پرامن انداز میں احتجاج کرتے رہے اور انتظامیہ پر واضع کیا کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے وہ ختم نہیں کریں گے، اگر آپ کو گرفتار کرنا ہے تو ہم تیار ہیں۔
پولیس کیمپ اکھاڑ کر لے گئی لیکن کسی طالبعلم کو گرفتار نہ کرسکی، طالبعلم بڑے حوصلے سے تپتی دھوپ میں نعرے بازی کرتے احتجاج رکارڈ کرواتے رہے، پھر اس کیمپ میں جو اصل میں کیمپ بھی نہیں تھا آہستہ آہستہ لوگ آتے گئے قافلہ بنتا گیا، اسلام آباد میں موجود کچھ غیر سرکاری سندھی بھی اپنے خاندانوں کے ساتھ اسی احتجاج میں شریک ہوئے، اسی رات سندھ سے آنے والی سورٹھ لوہار اور تنویر آریجو بھی کیمپ پر پہنچیں تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا، رات کو اچھے خاصے لوگ اکٹھے ہوئے، اس صورتحال اور بڑھتے ہوئے احتجاج کو دیکھ کر اسلام آباد انتظامیہ کو غصہ آگیا، طلبہ کی منتیں بھی ہوتی رہیں اور دھمکیاں ملتی رہیں سارا زور اس بات پر تھا کہ احتجاج کو ختم کیا جائے. اب اسلام آباد انتظامیہ کا موقف تھا کہ منظور پشتین کی آمد سے صورتحال خراب ہوئی ہے یہاں اینٹی اسٹیٹ نعرے بازی ہوئی ہے یہ ایک بہانا تھا کہ لڑکوں کو ڈرا کے بھگایا جائے۔
مہران کاؤنسل کے طلبہ جیسا کہ تیسرے دن بھی کیمپ لگانے کا اعلان کر چکے تھے اس لئے انہوں نے رات گئے کیمپ ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کردہ کہ احتجاج دو دنوں تک جاری رہے گا، رات گئے اپنے گمشدہ پیاروں کی تلاش میں نکلی نظیر آریجو، سورٹھ لوہار کی آمد، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں کے آنے سے احتجاجی کیمپ قائم کرنے والوں کے حوصلے بلند ہوئے، لوگ بڑھنے سے اسلام آباد انتظامیہ کی نیندیں حرام ہو گئیں، پھر آخری دن بھی احتجاج کرنے والوں کے سر پر کوئی سایہ نہیں تھا انتظامیہ نے کیمپ واپس کرنے سے انکار کر دیا اور نیا کیمپ لگانے کی اجازت بھی نہیں دی۔ سندھ کی بیٹیاں دہکتے سورج کی کڑی دھوپ میں احتجاج جاری رکھے ہوئے تھیں۔ تین دن لگاتار احتجاج کرنے کے بعد رات کو ریلی نکال کر اس احتجاج کے ذریعے پانچ مطالبات رکھے گئے جو مطالبات مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہیں، ملک، آئین، قانون، اصول پالیسیاں، قاعدے سب سر آنکھوں پر لیکن گمشدگیاں غیر آئینی ہیں۔ یہ حقیقت چاہے کسی کو پسند آئے یا نہ آئے لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پاکستان ایک ملک ہے اس کا ایک آئین ہے۔ ستر سال سے جو جھگڑا چل رہا وہ آئین پر چلنے یا نہ چلنے کا جھگڑا ہے۔ گمشدگیاں غیر آئینی ہیں لیکن آج کی صورت حال میں گمشدگیوں کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار دینے کے بجائے اس کے خلاف احتجاج کرنے اور آواز بلند کرنے کو غیر آئینی، ملک دشمنی یا لاقانونیت کا نام دیا جا رہا ہے۔ گمشدگیوں کو روکنے کا آسان طریقہ موجود ہے لیکن اس سے پہلے اس ملک کو ایک مستقل نظام دینا پڑے گا، روز روز کے نئے تجربے بند کرنے پڑیں گے۔
پراسکیوشن اور عدل کے نظام میں اصلاحات بھی اس صورتحال میں لائی جا سکتی ہیں، جب پالیسیاں بنانے کا اختیار پارلیمنٹ اور ان کے منتخب نمائندوں کو ہوگا، اس کے لئے بھی شرط یہ ہے کہ انداز حکمرانی آصف زرداری، اور میاں نواز شریف جیسا نہ ہو بلکہ مکمل جمہوری ہو اور نہ ہی انداز سیاست عمران خان جیسا ہونا چاہیے، سیاستدانوں، حکمرانوں سمیت سارے اداروں کو اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک مضبوط و مستحکم نظام کی جانب قدم بڑھانے کی ضرورت ہے، جہاں اپنے ملک، اس کے اداروں اور حکومتوں کو اپنے شہریوں پر اعتماد ہو، ریاست کا کردار ماں جیسا ہو تو شہری بھی بغاوت نہیں کریں گے، قوانیں موجود ہیں، شہریوں سے پہلے ان پر ادارے عمل کریں۔ اگر قوانین کمزور ہیں تو ان کی خامیاں ختم کی جا سکتی ہیں، جب تک قوانیں کے مطابق گرفتاریاں، قوانین کے مطابق سماعت اور قانون کے مطابق سزائیں نہیں ملیں گی تب تک ریاست اور شہریوں میں بی یقینی ختم نہیں ہوگی، اور اسی اضطرابی کیفیت میں جیتے رہیں گے۔ گمشدگیوں کا حل بھی ریاست کے پاس ہے وہ سوچے کہ ایک خاندان کے فرد کو اٹھا کر غائب کر کے وہ اس خاندان کو باغی بنا کر مسائل کرنا چاہتی ہے یا مروج قوانین اور آئین پر عمل کرکے گمشدہ لوگوں کو عدالتوں میں پیش کرکے سزائیں دلا کر یہ اضطرابی کیفیت ختم کرنا چاہتی ہے۔



