گم شدہ افراد کے لئے سندھ کے بیٹے بیٹیوں کا احتجاج


سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجداری مقدمات سے متعلق ایک بڑا فیصلہ دیا ہے، اس فیصلے کے دو تین نکات اہم ہیں، پہلا یہ ہے کہ ایک مقدمہ میں دو ایف آئی آرز نہیں درج کی جا سکتیں، دوسری اہم بات یہ ہے کہ صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کی گرفتاری نہیں کی جاسکتی، ایف آئی آر کے بعد تفتیش ہوگی، پولیس کے پاس ناقابل تردید شواہد ہوں گے تو ملزم کو گرفتار کیا سکتا ہے، ورنہ پولیس کسی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ پاکستان میں پولیسنگ سروس، پولیس کا نظام، پراسیکیوشن اور اس کے بعد نظام عدل و انصاف کی جو کھال ادھیڑی گئی ہے، وہ تو سب جانتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی آر میں تفتیش کے بغیر گرفتاری سے روکا ہے، لیکن یہاں تو پولیس شک کی بنیاد پر ملزم کے سارے خاندان کو پکڑ کر کے بند کر دیتی ہے، شک کی بنیاد پر یا نامعلوم افراد پر ایف آئی آر کاٹ دی جاتی ہے، اور پھر اس میں نام ذاتی عناد کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں.. داخلے کیے جاتے ہیں، گرفتاری، رہائی جسے عرف عام میں پکڑ دھکڑ کہا جاتا ہے پاکستان کی پوری پولیس کے پاس کمائی کا ذریعہ اسی ایک ہی نظام کے تحت ہوتا ہے، افتخار چودھری سے موجودہ فعال چیف جسٹس تک اس ناکارہ سسٹم کی بہتری کے لئے رتی برابر کام نہیں ہوا۔ یہ بات سب کو ماننی چاہیے.

اس وقت ملک میں آہستہ آہستہ اپنے دیس باسیوں کی جبری گم شدگیوں کے خلاف تحریک زور پکڑ رہی ہے، اس کی اہم وجہ آئین اور قانون پر بے اعتمادی اور عملدرآمد نہ ہونا ہے، شہریوں کے گم شدگیوں کے معاملات میں پولیس کی ایف آئی آر وغیرہ کی تو ایک دھیلے کی بھی حیثیت نہیں، خفیہ والے آتے ہیں لوگوں کو دن دھاڑے اچانک اٹھا کر چلے جاتے ہیں پھر ان کو حبس جا میں رکھا جاتا ہے، پولیس بے بس ہو کر رہ جاتی ہے، اکثر واقعات میں لاعلم رہتی ہے، سول انتظامیہ بے بس و لاچار بن جاتی ہے، انتظامیہ تو کیا وزیروں کی حالت بھی وہی ہوتی ہے، جیسے سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال یا ناصر شاہ کی اس وقت ہوئی تھی، جب وہ کراچی میں شہریوں کی بازیابی سے متعلق قائم کیمپ پر پہنچے، گمشدہ باپوں کی بیٹیاں ان کو اپنا درد سنا رہیں تھیں لیکن ان وزرا کے پاس تسلی دینے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ ابنائے وطن کی گمشدگی پاکستان کا پرانا مسئلہ رہا ہے، بلکہ اب تو وہ ریاست کے سر کا درد بنتا جا رہا ہے، اس کے باوجود اس کو حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

پرویز مشرف نے ملک کے مارشل لا چیف عرف چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنے وطن کے کئی شہری اٹھا کر امریکا کے سپرد کیے، دراصل بیچ دئیے۔ اس لاقانونیت کا اعتراف انہوں نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں بھی کیا ہے۔ ان گمشدگیوں یا حوالگیوں کے بدلے سربراہ مملکت امریکا سے پیسے وصول کرتے رہے ہیں، دنیا کے ممالک اشیا کی برامدات سے پیسے بناتے ہیں، ہمارے ملک کے فوجی آمر نے اپنے شہریوں کی ھیومن ٹریفکنگ یعنی لوگوں کی غیر آئینی غیر قانونی اسمگلنگ کے ذریعے پیسے کمائے، پھر ان پیسوں کا حساب کتاب بھی ہڑپ کر گئے۔

ملکی مفادات اور سلامتی کی بات کرنے والے کسی بھی ادارے نے اس شخص سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ لوگوں کو بیچنے سے جو ملا وہ مال کہاں گیا؟ وہ پیسے قومی خزانے میں جمع ہوئے یا آرمی چیف نے اپنے جیب میں ڈالے؟ یہ بھی پتا نہیں کہ فی فرد کے حساب سے روپیہ طے ہوا یا سودا کچھ اور ہوا؟ایک آدمی بیچنے کے بدلے کتنے پیسے ملے؟ وہ پیسے کہاں ایڈجسٹ ہوئے؟ دوسری طرف نواز شریف ابھی تک ایمل کانسی کے طعنے بھگت رہا ہے… یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اپنے ملک سے لوگ اٹھائے گئے اور ان میں سے کئی افراد امریکا کے ذریعے گوانٹانامو بے بھیجے گئے، کئی لوگوں کو غیر قانونی حراستی مراکز میں رکھا گیا، ان میں سے کئی مر گئے جن کی لاشیں تک ورثا کو نہیں ملیں اور کئی بے حال ہو کر واپس گھر پہنچے، 2003 سے ایسی گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے اور یہ سب کچھ وسیع تر قومی مفادات، ملکی سلامتی، ملکی مفاد کے نام پر ہو رہا ہے۔

منظور پشتین کی تحریک کو جو بھی نام دیں لیکن تحریک جبری گمشدگیوِں کے خلاف ابھری، جو اسلام آباد سے شروع ہوکر فاٹا سے ہوتی ہوئی سارے خیبرپختونخواہ کے بعد اب پورے ملک میں پھیل کر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اب اس تحریک کے رہنما الیکشن یعنی پارلیمانی سیاست کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو صرف کی پی کے اور فاٹا نے ہی نہیں بلکہ سندھ اور بلوچستان نے بھی خوب بھگتا اور ابھی تک بھگت رہے ہیں، اب تو ان گمشدگیوں کے خلاف سندھ میں بھی ایک تحریک شروع ہو چکی ہے۔ کراچی سے شروع ہوئے احتجاجی کیمپ کا دائرہ بڑہ کر پورے سندھ تک پہنچ چکا ہے۔ کراچی احتجاجی کیمپ پر بیٹھی سندھ کی بیٹیوں کے ساتھ پولیس اور دیگر کارندوں کی بدسلوکی کے خلاف سب سے پہلے سوشل میڈیا پر آواز بلند ہوئی بعد میں وہ احتجاج تحریک میں تبدیل ہوکر سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، دھرنوں یا احتجاجی کیمپس کی صورت میں نظر آ رہا ہے.

ایسا ہی ایک کیمپ اسلام آباد میں بھی قائم کیا گیا، گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے منظور پشتین، نظیر آریجو، سورٹھ لوہار، سسئی سے ثنا اللہ امان تک سب کا مطالبہ بلکل سادہ چھوٹا سا اور معمولی ہے کہ جن لوگوں کو اغوا کرکے گم کیا گیا ہے ان کو ملک کے آئین کے تحت چوبیس گھنٹوں میں عدالتوِں میں پیش کیا جانا چاھئے اگر ابھی تک ان کو پیش نہیں کیا گیا تو اب ان کو عدالتوں میں لایا جائے، ان لوگوں کو ان کا جرم بتایا جائے، ان کے خلاف کوئی شواہد ہیں تو مقدمات چلائے جائیں، اگر ان پر جرم ثابت ہوجائے تو ان کو سزا دی جائے ان سب باتوں میں کونسی بات ملکی سلامتی اور مفادات کے خلاف ہے؟ اسلام آباد میں مہران اسٹوڈنٹس کاؤنسل کی کال پر تین دن کے احتجاجی کیمپ نے انتظامیہ، پولیس، سیکیورٹی ایجنسیز اور حساس اداروں کو کتنا پریشان کیا۔ ان کا ایک گواہ میں خود بھی ہوں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 57 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar