نواز شریف کا نورانی چہرہ اور شیخ رشید


پاکستانی سیاست میں ایک تو شیخ رشید کا خوش بیانی میں ثانی نہیں، دوسرے بے بنیاد دعوے کرنے میں ان کے کوئی پاسنگ بھی نہیں۔ تھوک کے حساب سے ان کی سیاسی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوچکی ہیں مگر پھر بھی دھڑلے سے سیاسی اجتماعات اور ٹی وی پر الٹی سیدھی ہانکتے رہتے ہیں۔ وہ نیوز چینلوں اور اینکروں کی محبوب شخصیت ہیں۔ پروگراموں میں اپنے ساتھ کسی کا وجود گوارا نہیں کرتے اور تانگہ پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود تن تنہا پروگراموں میں طلاقت لسانی کے جوہردکھاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب وہ ہر چینل کے لیے باآسانی دستیاب ہوتے ہیں تو پھر ان سے انٹرویو کے ساتھ خصوصی کی پخ کیوں لگائی جاتی ہے؟

خوشامد کرنے میں بھی موصوف اپنی مثال آپ ہیں۔ پرویز مشرف کے ظہور سے قبل ان کا شمار نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا ، وہ ان کے پہلے دونوں ادوارمیں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ 2002ءکا الیکشن انھوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑا ، انتخابی مہم میں ووٹروں سے کہا کہ وہ جیت کردونوں سیٹیں نواز شریف کے قدموں میں ڈال دیں گے، کامیابی کے بعد اپنے کہے سے پھر گئے اورمسلم لیگ ق میں شامل ہو کر وزارت حاصل کر لی، اور اس ڈکٹیٹر کا دم بھرنے لگے، جنھیں وہ سید پرویز مشرف کہتے تھے۔

 1995ءمیں ”فرزند پاکستان “کے نام سے شیخ رشید کی خود نوشت شائع ہوئی۔ اس وقت وہ ،اس نوازشریف کو ، جس پراب وہ دن رات گرجتے برستے ہیں، اپنا رہبرمانتے تھے، اس لیے کتاب میں جگہ جگہ انھوں نے نوازشریف کی خوب خوشامد کی ہے۔ کتاب کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں اپنے لکھے سے آپ مکر نہیں سکتے، اس میں لکھا سند سمجھا جاتا ہے اوربوقت ضرورت کام آتا ہے، ہم ”فرزند پاکستان “ میں سے چند ٹکڑے جو درمدح نواز شریف ہیں پیش کررہے ہیں ،جن کو پڑھتے ہوئے گمان گزرتا ہے کہ جیسے انھیں صالح ظافر کا قلم لگا ہو۔

*نواز شریف بھولا ، سادہ اور نہایت شریف آدمی ہے۔ وعدہ کا پاس کرنے والا آدمی ہے۔ اس میں اتنی حیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا اور نہ اس نے اقتدار میں کی ہے۔ وہ منہ بھر کر کسی کو انکار بھی نہیں کرسکتا لیکن آدمی کی شناخت میں وہ بلا کا ذہین آدمی ہے۔

 *وہ (نوارشریف) ایک خدا ترس ، پیرپرست ، اور پرخلوص انسان ہے۔۔۔ میں نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں اتنے مضبوط اعصاب کا آدمی نہیں دیکھا۔

 * شہباز شریف تو شاید نواز شریف کو چھوڑ سکتا ہے لیکن شیخ رشید امتحان کے وقت میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔

*میں نے نواز شریف کے ساتھ ہی اسمبلی ٹوٹنے کی اطلاع اور غلام اسحاق خان کی بے ربط تقریرسنی لیکن نواز شریف کا صبروسکون دیدنی تھا۔ ان کے حوصلے بلند تھے۔ نوازشریف کا پر اعتماد اور نورانی چہرہ مجھے اس روز جیسا نظر آیا وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ نفل پر نفل پڑھتے جارہے تھے۔ ایسا اعتماد میں نے بہت کم لیڈروں میں دیکھا ہے۔ ویسے بھی میں نے نواز شریف کو سخت پریشان کن حالات میں بھی پریشانی سے گبھراتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اکثر گھمبیر حالات میں وہ مری چلے جاتے تھے۔

*نواز شریف خوشخبری سننے کے بعد سجدہ ریز ہوگئے، جس عجزو انکساری سے انھوں نے نفل ادا کئے۔ اس سے زیادہ عجزو انکساری سے انھوں نے اس دن نفل ادا کئے تھے جس دن اسحاق خان نے 38 دن پہلے حکومت توڑی تھی۔ خدا کے دربار میں وہ اسی طرح سجدہ ریز تھے۔

* نواز شریف پر خلوص اور ٹھنڈی سوچ اور دوسروں کا احترام کرنے والے انسان ہیں۔

Facebook Comments HS