ہماری این جی اوز اور بیچارے سی کلاس قیدی


جب بھی کبھی کسی علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں وہ کسی ایک شخص، ایک گھر یا محلہ تک نہیں رکتے ۔ وہ  ایک طویل پٹی کو متاثر کرتے ہیں ، سن 2005 کا زلزلہ میری زندگی یا میری یاداشت کا پہلا زلزلہ تھا،

جب زلزلے کی خبر آئی ہماری کلاس نے اسے ایک لطیفہ سمجھا، گھر آکے معلوم ہوا کہ قیامت آ چکی ہے ۔  لوگ بدحواس ہیں موبائل کے نیٹ ورک نہیں آ رہے۔ لیکن ٹیلیویژن پر صرف اسلام آباد کا مارگلہ ٹاور دکھایا  جا رہا تھا۔ جیسے زلزلہ نشانہ لگا کے آیا اور اسلام آباد کے ایک اپارٹمنٹ کو گرا کے چلا گیا۔

حقیقت تو اسلام آباد سے آگے تھی، بالاکوٹ اور اس سے آگے کے علاقے خاک کا ڈھیر بن چکے تھے ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے اور بہت سے لوگ ملبے میں پھنسے رہے لیکن ان کی مدد کے لیے کوی پہنچ نہ پایا ۔ زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے  روز ایک لسٹ آتی جس میں بتایا جاتا کہ اب کیا بھیجا جائے۔ ہماری کلاس نے بھی اپنا حصہ ڈالا ۔

لیکن سرکاری ٹی وی چینل نے صرف وہی دکھایا جو اسے پسند آیا ، اب کون اپنی جان خطرے میں ڈالے پی ٹی وی اسلام آباد سے F-10جانا سب سے آسان ، ویسے بھی زلزلہ تو زلزلہ ہے جیسا یہاں ویسا ہی وہاں۔

کراچی سٹی کورٹ بھی ایک عجیب جگہ ہے ، صبح سویرے ہی لانڈھی اور سینٹرل جیل سے پرزن وین آنا شروع ہو جاتی ہیں،ان گاڑیوں میں  سی کلاس پرزینر (قیدی) آتے ہیں ۔ لانڈھی جیل سے آنے والے عام طور پہ ایک زنجیر سے آٹھ افراد باندھ کے کورٹ لائے جاتے ہیں، سینٹرل جیل سے آنے والے قیدی  ایک زنجیر سے تین باندھے جاتے ہیں۔ بچوں کو بھی اسی طرح لایا جاتا ہے۔ ان انڈر ٹرائل قیدیوں  کے گھر والے سٹی کورٹ میں موجود ہوتے ہیں ، یہ ان تمام لوگوں کی ملاقات کا دن ہوتا ہے۔ عورتوں اور بچوں کا رش کھانے کا سامان لیے کچھ وقت ساتھ گزارنے آتا ہے۔

آج بھی میرے سامنے تین معصوم صورت بچے ایک ہی زنجیر سے بندھے کورٹ روم کے سامنے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے، کچھ دیر بعد جج صاحب نے ان کی دو ہفتے بعد کی تاریخ لگائی اور پھر وہ دربارہ جیل چلے گئے۔

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں بے شمار این جی اوز مختلف ایجنڈے پر کام کرنے میں مصروف ہے اور کامیاب بھی ہیں، لیکن زیر التوا کیسز میں پھسے ہوئے افراد کے  ساتھ یہ  این جی اوز کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے، آج کل کیوں کہ می ٹو کا ٹرینڈ ہے اس لیے اکا دکا این جی اوز والی خواتین اپنی دکانداری چمکانے کے لیے کورٹ میں ڈیوٹی دینے آتی ہیں۔

افسوسناک ناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے یہ ٹھیکہ دار اپ کو کبھی بھی انسانوں کے ساتھ جانوروں والے سلوک کے خلاف آواز بلند کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ یہ تمام ادارے محض چند پیسوں کی خاطر ہائی پروفائل کیسز کی تشہیر اور اپنی دکانداری کی خاطر کورٹ آتے ہیں، چھوٹے اور جھوٹے مسئلے کو بڑا کر کے دکھانے کے لیے۔

بلکل ویسے ہی جیسے 2005 کے زلزلے کو سرکاری ٹی وی نے نشر کیا۔

جیل میں موجود ہزاروں افراد ، اپنے پیچھے ہزاروں گھروں کو چھوڑ کے قید ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، کیس چلتے نہیں۔

 جب کسی گھر کا ایک فرد جیل جاتا ہے تو اس گھر میں موجود  تمام بے قصور لوگ زلزلے کی پٹی میں آ جاتے ہیں، جیسے ایبٹ آباد، بالاکوٹ اور اس سے آگے کے علاقے خاک کا ڈھیر بن گئے، ویسے ہی گھر برباد ہو جاتے ہیں۔

لیکن ہمارے سماجی بہبود کے ادارے کسی ایک کیس کو چپک جاتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے  سرکاری کیمرہ فقط مارگلہ ٹاور دکھاتا ہے۔

Facebook Comments HS