ششانک شکلا: بازدید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام طور پر جب کوئی موت کا ذکر کرتا ہے تو انسان کا رد عمل بہت حیرت میں ڈوبا ہوا نہیں ہوتا۔ موت سے ہماری شناسائی اتنی پرانی ہے کہ ہم اس کے ذکر پر ذرا بھی نہیں چونکتے، ہم نے اسے زندگی کی ہی طرح کائنات کا ایک ضروری حصہ تسلیم کر لیا ہے۔ یعنی زندگی ہے تو موت ہے، جیسے سکھ ہے تو دکھ ہے، مگر پھر کیوں یہ بات کبھی کبھی اتنی ناقابل قبول ہوجاتی ہے کہ آپ چاہ کر اپنی اس ہزاروں برس کی شناسائی کے گھیرے سے نکل کر دکھ کے پتھریلے ساحلوں پر جا بیٹھتے ہیں، سوچتے ہیں، بہت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا ہی کیوں؟ اس ہونے نہ ہونے کا کوئی جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کوئی سرا یا کوئی سبب ڈھونڈتے ہیں، جس سے دل کو سمجھایا جا سکے اور آخر تھک ہار کر اس حیرت میں ڈوبے ہوئے پتھریلے ساحل کے دونوں طرف ٹھاٹھیں مارتے زندگی کے مستقل پرشور سمندرمیں اترتے چلے جاتے ہیں۔ پرایوں کا دکھ دنیا میں کوئی نہیں مناتا، اگر ایسا ہوتا تو ہم موت کے شکار بہت سے ایسے لوگوں کی بے وقت پرواز پر قابو پا سکتے تھے، جن کا اس محفل زندگی سے اٹھ جانا دراصل ہمارے سبب ہے۔ دکھ تو انسان اپنے کا مناتا ہے یا پھر صرف اپنا مناتا ہے، اس تعلق کا دکھ مناتا ہے، جس کے دوسرے طرف کا سرا اچانک کوئی شخص چھوڑ کر راکھ یا مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجائے۔

یہ جو میں آئیں بائیں شائیں کررہا ہوں، اس کا کچھ سبب بھی ہے۔ کل صبح میری آنکھ کھلی تو اردو پریس کلب کے جنرل سکریٹری طارق فیضی صاحب کی کال آ رہی تھی۔ نیند کا خمار اتنا گہرا تھا کہ میں گھنٹی سن کر بھی اس پر توجہ دینے کی ہمت خود میں نہیں پا رہا تھا۔ مگر پھر فون ریسیو کیا۔ دوسری طرف وہ بھل بھل رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک بری خبر ہے۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے تو معلوم ہوا کہ ششانک شکلا اس دنیا میں نہیں رہا۔ میں چونک گیا، میں نے پوچھا کہ ایسا کیسے ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ایک سڑک حادثے میں اس کی جان گئی ہے۔

فون تو میں نے رکھ دیا مگر ششانک کی آواز میرے کان میں گونجنے لگی، اس نے چہک کر جیسے ابھی کہا ہو۔ ۔ ۔ ‘تصنیف بھائی!’ وہ ہمیشہ تصنیف کی یائے معروف کو اور لمبا کردیا کرتا تھا۔ خالص کانپوریا لہجہ، چمکدار آنکھیں، گورا چٹا رنگ، چمچماتے دانت، شریفوں کی قسم کے تراشے گئے بال اور ایک کالی قمیص جو ہمیشہ اس کے بدن کا حصہ رہی۔ عمر یہی کوئی پچیس چھبیس برس ہوگی۔ حوصلوں اور ارادوں سےبھرا ہوا ایک نوجوان، جون ایلیا کا ایسا عاشق کہ ان پر کئی پروگرامز کرا دیے۔ لوگ چڑا کرتے اور کہتے کہ بھئی اور بھی شاعر ہیں، آپ ہیں کہ صرف جون کے ہی پیچھے پڑے ہیں، مگر اس نے ان سب باتوں کی پروا نہیں کی۔ جون سے اس کے عشق کی وجہ ان کی شاعری سے زیادہ ان کے یہاں موت کی وہ فینٹسی تھی، جس کے دوانے بہت سے دوسرے نوجوان بھی ہیں۔ اس کے جانے کے بعد دوستوں نے بتایا کہ وہ اکثر کہتا تھا کہ جون کو جوانی میں مرنا تھا، وہ نہیں مر سکے، میں ان کی یہ خواہش ضرور پوری کروں گا۔

مگر ششانک کی جون ایلیا سے محبت کا راز اس کی کالی قمیص کے راز سے کچھ گتھا ہوا تھا، وہ ہر پروگرام میں وہی کالی قمیص آخر کیوں پہنتا تھا۔ دوست چھیڑا کرتے کہ لگتا ہے آپ کے پاس اور دوسرے رنگ کے کپڑے نہیں ہیں۔ بہت لوگ جاننا چاہتے تھے، کچھ کو یہ بھی لگتا تھا کہ وہ صرف کسی نئے پن کے چکر میں، کچھ الگ رہنے یا کرنے اور دوسروں کی نظروں میں چڑھنے کے لیے یہ حربہ استعمال کرتا ہے۔ میں نے بہت وقت تک تو اس کی کالی قمیص پر دھیان ہی نہیں دیا، مگر جب دھیان دیا تو پوچھا نہیں۔ لوگوں کے اتنے ذاتی معاملات میں پڑنے کی آخر کیا ضرورت ہے۔ مگر ایک روز رات کو وہ ہلکے نشے میں تھا، شراب کے نشےمیں نہیں۔ شراب کو تو وہ ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا۔ اس کی وجہ بھی بڑی دلچسپ ہے، کہا کرتا تھا کہ ہمارے دھارمک گرنتھوں میں لکھا ہے کہ جو آدمی شراب کا ایک قطرہ بھی پی لے، وہ دوبارہ آدمی کے روپ میں پیدا نہیں ہوسکتا، اور تصنیف بھائی،مجھے تو دوبارہ آدمی ہی بن کر پیدا ہونا ہے۔ وہ نشہ کیا کرتا تھا گانجے وغیرہ کا۔ اکثر مجھے خاص سٹائل میں بتاتا، آج فلاں جگہ سے مال لائے ہیں، پھونکیں گے۔ میں نے نہ کبھی اسے ناصح بن کر منع کیا اور نہ میں نے یہ کہا کہ آخر ایسا کیوں کرتے ہو، مگر اسی نشےمیں ایک دن کالی قمیص کا راز روشنی میں آگیا۔ اس نے پورا قصہ سنایا۔

ہوا یہ کہ کسی پروگرام میں اس کی ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی، وہ لڑکی سب سے الگ تھلگ کسی غزل کو سن کر رو رہی تھی اور دور بیٹھی تھی۔ ششانک کی شاعری ضرور بے بحر تھی، مگر اس کے پاس ایک شاعرانہ اور جذباتی دل تھا، بے حد جذباتی اور بے حد شاعرانہ۔ میں یہ شرط نہیں لگا رہا ہوں کہ جن کے پاس یہ دو خوبیاں نہ ہوں وہ لوگ محبت نہیں کرسکتے، مگر ششانک کی خالص محبت میں ان دو عناصر کا گہرا ہاتھ تھا۔ خیر، وہ اس لڑکی سے ملا، اسے ٹشو پیپر دیے اور پھر عشق کے پاٹھ پڑھنے کا آغاز ہو گیا۔ وہ دونوں بہت کم وقت کے لیے ایک رشتے میں بندھے تھے، لڑکی نے کسی مجبوری کی وجہ سے اس رشتے سے ہاتھ اٹھالیا تھا، مگر ششانک اس ایک طرفہ تعلق کی بیل کو ایسے اپنے سینے پر لپیٹ چکا تھا کہ وہ اس کا لہو لے کر ہی اس سے الگ ہوئی ہو گی۔ اس نے بتایا کہ وہ دونوں کسی پہاڑی مقام کی سیر کو گئے تھے، جہاں انہوں نے بہت معمولی سے عرصے میں ایک دوسرے کی محبت کے بڑے لمبے مرحلے طے کیے۔ ہنسے بھی اور روئے بھی۔ ششانک یہ سب بتاتے ہوئےخود آبدیدہ ہوجاتا تھا۔ اس لڑکی کا اصلی نام اس نے مجھے بھی نہیں بتایا، بس اسے چڑیا چڑیا کہا کرتا تھا۔ مجھ سے کہتا تھا کہ تصنیف بھائی! آپ عشق میں اتنی برداشت کہاں سے لاتے ہیں کہ جس لڑکی کو آپ پسند کرتے ہوں، جس سے محبت کرتے ہوں، وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو،آپ سے ملے بھی نہیں اور آپ اس سے جذباتی ہوکر جھگڑا بھی نہ کربیٹھیں! ہم تو اتنا برداشت نہیں کر پاتے، ہم تو لڑ لیتے ہیں۔ میں ہنس کر کہتا کہ میں صرف محبت ہی کے سہارے نہیں رہتا ہوں نا! ادھر ادھر بھی تو منہ مارتا ہوں، تو کہتا تھا بس ! ہم سے یہی نہیں ہو پاتا۔ یہاں کوئی لڑکی ذرا سا ہمارے سامنے لہرائی اور وہاں ہم نے اسے سیدھا کیا کہ دیکھو بھیا ! دوستی تک تو بات ٹھیک ہے، پیار تو ہم صر ف ایک ہی لڑکی سے کرسکتے تھے، سو ہم نے کر لیا۔ اور واقعی اس نے محبت کی، مطلب یہ سڑکوں والی نہیں، آئی گئی نہیں، ایک سچی محبت، وہ جو ہم قصے کہانیوں میں سنتے آئے تھے، جس کا ہم مذاق اڑاتے آئے تھے، جس کو شاعری کے سانچے میں فٹ کرکے ہم لوگوں سے واہ واہ کی آوازیں نکلوا کر خوش ہوا کرتے تھے۔ ششانک نے اس سارے کھیل کو حقیقت میں جیا۔ میں ہنس کر جب اس سے پوچھتا تھا کہ تم لڑتے ہو تو وہ کیا کہتی ہے۔ تو بتاتا کہ ہمیں بلاک کر دیتی ہے۔ فیس بک سے بھی اور واٹس ایپ سے بھی۔ پھر ہم بات ہی نہیں کر پاتے تو جھگڑا کیا کریں گے۔ پھر خود ہی ہنس دیتا۔ مگر اس کی ہنسی میں کوئی خنجر سے زیادہ تیز دھار دار دکھ تھا۔

حالانکہ میں اس بات کو پوری طرح مانتا ہوں کہ رشتوں میں الگ ہونے اور ساتھ رہنے کے لیے دو لوگوں کی مرضی ضروری ہے۔ مگر کیا اتنا مشکل ہے کسی کی محبت کو سمجھنا کہ ہم اس جذبے سے ڈرنے لگیں۔ ششانک جیسی محبت تو خیر کوئی نہیں کر سکتا کہ جب اس لڑکی نے کہہ دیا کہ محض ایک بار کہ ‘آپ پر کالا رنگ بہت پھبتا ہے’ تو اس نے دوسرے رنگوں سے ایسی کٹی کرلی کہ دنیا اس کے لیے ایک ایسے کالے کپڑے میں بدل گئی، جس سے وہ خود کو ڈھانپ کر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ میری ایک دوست نے بتایا کہ وہ کہتا تھا کہ ‘لوگ جب مرتے ہیں تو سفید رنگ کے کپڑے پہنے جاتے ہیں، ہمارے مرنے پر کالے کپڑے پہننا۔ ‘میں اب سوچتا ہوں کہ وہ لڑکی کیا ششانک سے مل کر، اسے اپنی محبت کا واسطہ دے کر، اسے کچھ خوبصورت لمحے نہیں دے سکتی تھی، ششانک جس خوشی کے لیے اپنے من کو چھیل کر، راتوں میں نشے کی ادھ موئی سیج پر لیٹ کر اس لڑکی کے رنگین خواب دیکھا کرتا ہوگا کیا شادی، وادی جیسی بیکار کی رسموں کے خوف سے باہر نکل کر وہ اسے کچھ ایسی راتوں سے نہیں نواز سکتی تھی، جہاں ششانک کا وجود اپنی تکمیل کے سارے مراحل طے کرلیتا۔ آج اس کی موت پر مجھے اس کے ادھورے خوابوں سے زیادہ، اس کی ادھوری محبت کا دکھ ہے، اس کا جیون ایک شمع کے گرد گھومتے ایسے پروانے کی صورت بن گیا تھا، جو روشنی تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔ مگر باز نہیں آتا۔

ششانک میں ایسی خوبیاں تھیں، جو عام طور پر لوگوں میں نہیں ہوتی ہیں، اسی لیے تو اس کی موت پر کیا اپنا کیا بیگانہ، سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔  وہ دہلی میں کناٹ پلیس میں ہنومان مندر پر اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دفعہ میں بھی وہاں اس کی دعوت پر گیا تھا۔ پہلی بار راجیو، گوپال، نوشاد، اتکرش وغیرہ سے وہیں ٹھیک سے ملاقات ہوئی۔ ہنومان مندر کے ٹھیک سامنے ایک مسجد ہے، وہ ان دونوں کے درمیان میرے ساتھ بیٹھا طرح طرح کی زٹلیات، فحشیات اور برازیات کی باتیں کرتا رہا۔ قہقہے بلند ہوتے رہے۔ مذہبی عقائد کا مذاق بنایا گیا، ہنسی ٹھٹھول ہوئی اور پھر ہم لوگ کافی ہوم جاکر کچھ کھانے پینے لگے۔ اب حساب لگا رہا ہوں تو پتہ چل رہا ہے کہ اس کے ساتھ میرا صرف ایک سال سے کچھ اوپر کا تعلق رہا۔ مجھے اس سے طارق فیضی نے ہی ملایا تھا۔ دلی میں جتنے بھی لوگ ہیں، پڑھنے لکھنے والے یا شو آف کرنے والے، یا ایونٹس کرانے والے یا کسی بھی طریقے سے شاعری و ادب کو پسند کرنے والے۔ وہ ششانک سے جڑے ہوئے لوگ تھے۔ اسے پسند کرنے والے بہت تھے، ناپسند کرنے والے شاید کچھ ہوں۔ مگر سب اس کے ارادوں کا لوہا ضرور مانتے تھے۔ اس نے بہت کم وقت میں اتنے ہنگامے مچائے کہ لوگ اس کے کام کی اہمیت کو تسلیم کرنے لگے۔ مشہور و معروف شخصیت سیف محمود صاحب جب کراچی لٹریچر فیسٹول میں گئے اور جون ایلیا کے سیشن میں انہوں نے حصہ لیا تو وہاں بھی ششانک کا ذکر انہوں نے کیا۔ اتنی جلدی ایک ایسے لڑکے کا پڑھے لکھے لوگوں کے دلوں اور ان کی نظروں میں جگہ بنالینا کمال کی بات ہے، جس کو شاعری کے بارے میں جانے ہوئے بھی دو تین سال سے زیادہ کا عرصہ نہیں ہوا تھا۔ کل کے حادثے کے بعد جب اس کے سبھی دوست کناٹ پلیس میں وہیں مندر و مسجد کے بیچ جمع ہوکر آنسوئوں، آہوں اور کراہوں میں ایک دوسرے سے گلے لگ لگ کر، سسکیاں بھر بھر کر اس کا دکھ منارہے تھے تومجھے وہ دن بہت یاد آرہا تھا۔

آپ سوچ سکتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں موتیں ہوتی ہیں، آئے دن لوگ مر ہی تو رہے ہیں۔ طرح طرح کے ظلم و ستم کا شکار ہورہے ہیں تو اس کائنات ظلم و ستم میں ایک حادثے کی حیثیت ہی کیا ہے۔ لیکن ششانک کی موت نے مجھے دھچکا اس لیے پہنچایا ہے کیونکہ میں نے جس لڑکی پر محبت کی نظمیں لکھیں، اس سے میں کبھی نہ ملتا اگر ششانک نہ ہوتا۔  ششانک شکلا ہی وہ شخص تھا، جو خود تو لازوال محبت کرگیا مجھے بھی ایک ایسی شخصیت سے ملا گیا، جس کی آرزو میں زندگی کا طویل سفر بغیر کسی غم و اندوہ کے گزارا جا سکتا ہے۔ میں نے ‘محبت کی نظمیں’ کا دیباچہ لکھ کر بھی سب سے پہلے اسے ہی سنایا، سن کر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا، پھر کہنے لگا کہ مجھے آپ سے جلن ہوتی ہے، کاش میں ایسا لکھ پاتا تو وہ لڑکی شاید راضی ہوجاتی۔ میں نے اس سے کہا کہ تم بے وقوف ہو، لڑکیاں لکھنے سے راضی نہیں ہوتیں۔ ان کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ تم بھی اس کی مجبوری سمجھو اور اپنی زندگی کو آگے بڑھائو۔ کسی اور کا ہاتھ تھامو۔ تو جواب میں کہتا کہ وکیل صاحب (وہ اپنے والد کو وکیل صاحب کہا کرتا تھا) کسی نہ کسی سے شادی کرا ہی دیں گے، مگر ہم اس لڑکی سے کہہ دیں گے کہ شادی تو ہو گئی، مگر شاید ہم ویسی محبت کبھی نہ کرسکیں، جیسی چڑیا سے کرتے ہیں۔

مجھے اس کا بولنے کا انداز بہت پسند تھا۔ خاص کانپوری لہجے میں جب وہ قصے سنایا کرتا تو جی باغ باغ ہو اٹھتا۔ اس کے بولنے میں بناوٹ نہیں تھی، دفتر کی بے پناہ مصروفیت کے باوجود تھکتا ہی نہیں تھا۔ کوئی کام کہو حاضر، کوئی بات کرنی ہو حاضر۔ میں اس سے کہتا بھی تھا کہ تمہیں تو میں گھنٹوں سن سکتا ہوں، تم گالیاں بڑے مزے مزے کی دیتے ہو۔ جواب میں ہنس کر کہتا کہ آپ ہماری کتنی بھی تعریف کریں، یاد رکھیے گا، ہم آپ کو دیں گے نہیں۔۔۔۔ اور میں کھلکھلا کر ہنستا۔

ششانک چلا گیا ہے، ایک بھیانک حادثے نے اس کی جان لے لی ہے۔ اب ٹکڑوں میں بٹی ہوئی اس کی یادیں جوڑ کر دیکھ رہا ہوں تو لگ رہا ہے کہ موت اس کے لیے ایک فینٹسی بن گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب جون ایلیا کو لوگوں نے بتایا کہ ایک لڑکی آپ سے بہت محبت کرتی ہے تو انہوں نے غصے سے کہا کہ وہ جھوٹ بولتی ہے۔ لوگوں نے پوچھا کیوں۔ کہنے لگے کہ سچی ہوتی تو میرے عشق میں اب تک جان دے چکی ہوتی۔ ششانک عشق میں سچا تھا۔ یہ بات ثابت ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •