پاور گیم کا بھیانک منظر نامہ
آپ کا کیا خیال ہے، صدر ٹرمپ اگلا الیکشن بھی جیت جائیں گے؟ اس کے لیے جو بھی کرنا پڑا، وہ کریں گے؟ ایسا کرنے میں مغربی معاشرہ پہلے سے زیادہ غیر محفوظ اور پیرانائیڈ ہوتا ہے، تو ہوتا رہے۔ جن ایشوز پر موصوف بر سر اقتدار آئے ہیں، ان ایشوز کو زندہ رکھنا، اسی طرح کے نئے ایشوز پیدا کرنا اور جہاں ممکن ہو سکے ان ایشوز میں شدت اور کلائمیکس لانے کی کوشش کرنا سیاسیات کے اصول نہ سہی، پاور گیم کے اصول تو ہیں۔ سیاسی سائنس دان بہتر بتا سکتے ہیں، سیاست اور پاور گیم میں کیا فرق ہے۔
سیاسی ایشو، پالیسیاں اور نظریات ہی کو سیاست کہتے ہیں کیا؟ سیاست میں فتح حاصل کرنے کے لیے جو تدابیر اور ٹیکنیکس آزمائی جاتی ہیں، ان کا اگرچہ اصول و ضوابط اور اخلاقی حدود و قیود کے اندر رہنا سیاسی پارٹی یا سیاسی گروپ کے منشور اور بنیادی دستور کا حصہ مانا بھی جائے۔ پھر بھی کہا جاتا ہے کہ پاور گیم بلائنڈ ہوتی جاتی ہے۔ کب آپ بھول جائیں کہ جیت جانا باقی ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔ یہی وہ خطرناک روش ہے جو انسان کو دوسرے انسان کا خون بہانے اور دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ مسلط کرنے، بلکہ اپنے ملکوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے سازش کرنے، بلوہ اور فساد پیدا کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس روش کو پاور گیم کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پاور گیم کو سیاست کا حصہ۔ یہ سیاسیات کی انڈر لائینز ہیں، جو سیاسیات کی تھیوری میں نہیں ملتی ہوں گی۔
ایک امریکی شہری سے پوچھا آپ کیا کرتے ہیں۔ بولے کہ وہ لا کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ میں نے پوچھا کون سا لا پڑتے ہیں، آپ؟ بولے آپ کا کیا مطلب ہے اس بات سے؟ میں نے پوچھا، کیا آپ امریکن لا پڑتے ہیں؟ ہنس پڑے۔ میں نے کہا، آپ سمجھ گئے ہوں گے، کہ امریکن لا سے کیا مراد ہے۔ یعنی طاقت ور کا قانون۔ میں بھی ہنس پڑا۔ طاقت ور ہنسے تو ہنس دو۔ روے تو رو دو۔ اطاعت میں عافیت ہے۔
یہ سوال ہمیشہ سے تجزیہ کاروں کے سامنے موجود ہوتا ہے، کہ دنیا اب کس سمت کروٹ بدلنے والی ہے؟ کیا کوئی نیا بین الاقوامی تنازِع جڑ پکڑ رہا ہے؟ کسی ریجنل وار کے خطرات نظر آرہے ہیں؟ کوئی اگلا معاشی بحران سر پر کھڑا ہے؟ ہم سب پیشن گوئی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چوں کہ دنیا تیزی سے گلوبل ولیج بنتی جارہی ہے، اس لیے اثرات سب تک پہنچتے ہیں۔ آپ کے اور میرے چولھے ہانڈی تک پہنچ سکتے ہیں۔
ٓاسرائیل کی کاوش رنگ لائیں اور امریکا نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کردیا ہے۔ باوجود یوروپ کی منت سماجت کے؛ باوجود باقی دنیا کے چیخنے چلانے کے۔ امریکا نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ بے شک یہ اسرائیل کی بڑی فتح ہے۔ کیا مشرق وسطی میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور ہول ناک جنگ ہونے جارہی ہے؟ امریکا کی اقتصادی پابندیوں کو یوروپ اور باقی دنیا والے کیسے ہینڈل کریں گےَ؟ باقی دنیا نے تو ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل برقرار رکھی ہے۔ یا تو سپر پاور کو یقین ہے کہ وہ باقی دنیا کو خاطر میں لاے بغیر ایران جیسے ریجنل گینگسٹر کو اطاعت پر لے آئے گا۔ یا سپر پاور کو یہ یقین ہے کہ اس نئے تنازِع میں مزید کمائی کرے گا اور اپنی پوزیشن مستحکم کرلے گا۔ اپنی دھاک بٹھائے گا۔ اپنی طاقت کا لوہا منوا لے گا۔
امریکی صدر کے قریبی ساتھیوں نے جو جمع تفریق کررکھی ہے اس میں اپنی سپر پاور سٹیٹس کا رسکی ٹیسٹ کرنا مقصد تو نہیں ہوگا۔ آپ کو اسرائیل اور سعودی عرب کا اتحاد کیسا لگتا ہے؟
جنگ یا تنازِع شروع ہونے لے کر اختتام تک براہ راست فریقین کے یہاں تو خون ریزی کی داستانیں رقم ہوتی ہی ہیں۔ باقی پوری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور عشروں تک اس تنازِع اور جنگ کے بھیانک سائے پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ بستیاں اور شہر اجڑتے ہیں۔ انسانیت اس درد اور کرب سے صدیوں تک پیچھا نہیں چھڑا پاتی۔ جنگ اور تنازِع تاریخ کا ڈارک چپٹر ہوتا ہے۔ انسانی رویوں اور اقدار پر ان مٹ نقوش چھوڑ دیتا ہے۔ جس تنازِع میں سپر پاور براہ راست ملوث ہو، وہاں تو انسان گاجر مولی کی طرح کاٹا جائے تو بھی دنیا احتجاج کرنے سے گریز کرتی رہتی ہے۔
اگر ایران نے اطاعت قبول نہ کی تو پھر کیا ہوگا؟ عراق، لیبیا، شام اور اب ایران ہٹ لسٹ پر ہے۔ تیل کی قیمتیں کیا رُخ اختیار کریں گی؟ کتنے ملین پناہ گزین اپنا ملک چھوڑیں گے؟ انھیں یوروپ والے اپنی سرحدوں پر روک دیں گے کیا؟ ایسی صورت ہوئی تو مغربی دنیا غیر محفوظ اور پیرانائیڈ ہوتی جائے گی۔ دہشت گردی کے مزید واقعات ہوں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ مغربی دنیا میں دائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں مزید مقبول ہوں گی۔ نیشل ازم کو فروغ ملے گا۔ صدر ٹرمپ دوبارہ الیکشن جیت جائیں گے۔ قیمت بھاری ہے اس پاور گیم کی، لیکن یہ قیمت ادا کسی اور نے کرنا ہے۔ کم زور نے مرنا ہے اور طاقت ور نے اپنی طاقت کو طول دینا ہے۔
کوئی ایسی بات ہے جو سپر پاور کو روک سکے کہ وہ ایسا نہ کرسکے؟ کوئی دلیل، کوئی مذہبی یا اخلاقی اصول جو طاقت ور کو یہ احساس دلا سکے، کہ جزا اور سزا کا دن آنا ہے، اور یہ کہ وہ انسانی کھوپڑیوں سے اپنی عمارتوں کے مینار تعمیر کرنے سے باز آ جائیں۔ سپر پاور مان لے گی کیا؟ روس اور چین کہاں تک سپر پاور کو اگلا خون ریز ایڈونچر کرنے سے روک سکتے ہیں؟ کتنا روک سکتے ہیں؟ ایران کی تباہی اور بربادی کی قیمت لگے گی؟
مغرب میں دائیں بازو کی سیاسی قوت کا سمبل، ٹرمپ کو کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ بڑے عرصے سے پاور اور اقتدار سے دور رہے ہیں۔ کیوں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا تباہی اور بربادی کے نتیجے میں سہم سی گئی تھی۔ چناں چہ تنگ نظری، انتہا پسندی اور نیشل ازم کو پذیرائی ملنے میں، کئی عشرے لگے ہیں۔ اب جب دائیں بازو کی قوتیں اقتدار میں آگئی ہیں، تو اپنے بس میں طاقت کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیں گی۔ اس کے بجائے، وہ پوری کوشش کریں گی کہ کسی نہ کسی طرح پاور کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں رہے۔ پاور تھیوری یہی نہیں ہے کہ پاور کے لیے لڑو۔ پاور کو حاصل کرو۔ پاور کو وسعت دو اور دیتے جاو۔ ہر قیمت پر۔ دنیا کے پاس دو آپشن ہیں، یا تو سپر پاور کی اطاعت قبول کرلے، یا ایک اور سپر پاور ڈھونڈ لائے۔ نہیں تو کمزور مرنے کے لیے تیار ہوجائے۔


