خبرناک کا علی میر کون ہے؟


وجاہت مسعود صاحب کی محبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آج ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں جس کا ایک زمانہ دیوانہ ہے۔ اسے سات خون معاف ہیں۔ میں نے اپنی آ نکھوں سے دیکھا ہے کہ لوگ اسے ملتے وقت سمجھ نہیں پاتے کہ اپنی عقیدت کا اظہار کیسے کریں۔ ویسے تو یہ بہت سے مشہور لوگوں کے ساتھ ہوتا ہو گا لیکن میر محمد علی جس کی نقل اتارتا ہے اور بسا اوقات اچھا خاصا تماشا بنا دیتا ہے وہ بھی برا بھلا ہمیں کہہ دیتا ہے لیکن علی میر کے فن کا معترف ہی ہوتا ہے۔

علی میر صرف پروگرام خبرناک ہی میں تین سو سے زیادہ کردار ادا کر چکے ہیں اور میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں یہ مثال کہیں نہیں کہ آ واز اور شباھت کا امتزاج اتنا مکمل ہو کہ ناظر فریب کو حقیقت سے قریب تر مان لے اور اس پر یقین کرنے میں لذت حاصل کرے ۔ شاید اسی لیے الزبتھ بولٹن، علی میر پر مقالہ لکھ کر ٹیکسس کی آ سٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے والی ہیں۔ آپ میں سے وہی لوگ علی میر کو ملے ہوں گے جنہوں نے کبھی پروگرام میں شرکت کی ہو گی کیونکہ علی میر بظاہر سماجی میل جول میں بہت سرگرم نہیں لیکن اس کے لیے، دراصل سماج صرف کارآمد اور ضرورت پڑنے پر کام آ نے والے لوگوں سے ملنے جلنے کا نام نہیں اور اسی لیے وہ ہر اس شخص کے پاس یا ساتھ نظر آئے گا جسے علی میر کی ضرورت ہو گی۔ اسے کسی نے اونچی آ واز میں بولتے کسی نے نہیں سنا۔ بازاری قسم کی زبان بولتے نہیں دیکھا البتہ میں اکثر "غیر پارلیمانی” زبان بول کر اس کے شرمانے سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں بلکہ اس کے سامنے فحش لطیفہ سنا کر سب کے سامنے اسے سنانے کی گزارش کرتا ہوں اور وہ بیچارہ سہ گونہ مشکل میں پڑ جاتا ہے کہ ایک تو کوئی یاوہ گوئی منہ سے نکال نہیں سکتا، دوسرا وہ برملا یہ کہہ کر کہ ایسی گھٹیا بات نہیں کرے گا میرا یا کسی کا بھی دل نہیں توڑے گا تیسرا وہ اس خیال سے بھی بچنا چاہتا ہے کہ اس کی موجودگی میں ایسی واہیات باتیں بھی ہوئیں۔

خود کو اہمیت دینے میں انکسار کا یہ عالم ہے کہ اسے زبردستی دو لوگوں کے ساتھ پرائیڈ آف پرفارمنس لینے بھیجا اور آپ میری بات پر یقین کیجیے کہ وہ ایوارڈ آج بھی سٹوڈیو کے کچن میں پڑا ہے۔ اس کے لیے ایوارڈ کی اہمیت یہ ہے اور دوسری طرف اس وقت کے میزبان نے حسد میں جہاں اور بہت کچھ کہا وہاں علی میر کو (خدا نخواستہ) مرنے کی بد دعائیں تک دیں۔ صرف اس لیے کہ ایوارڈ ملنے کے بعد علی میر نے اس میزبان کا بھی ایسے ہی شکریہ ادا کیا جیسے پروڈکشن ٹیم اور میک اپ آرٹسٹ سمیت پورے سٹوڈیو کا۔

Ali Mir with Elizabeth Bolton. She has written a thesis of PHD on Khabarnak and the satire as a genre of comedy in News media. She has been working with us as well. She has dedicated a full chapter on Ali Mir. Has been in University of Austin (Texas)

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ علی میر کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور اس کے مرحوم والد وزیر جنگلات رہ چکے ہیں۔ کشمیر میں زلزلے کے وقت علی میر نے زندگی کی بے ثباتی اور مجبوری کو بہت قریب سے دیکھا جب کراچی کے ایک بوسیدہ سے ہوسٹل میں اسے ہر روز تباہی اور بربادی کی داستانیں سننے کو ملتیں اور وہ تڑپتا کہ کاش اپنے لوگوں کے لیے کچھ کر سکے۔ اپنا آپ منوانے کے لیے اس نے شہر کراچی میں بھوک بھی کاٹی اور چھوٹے چھوٹے فرعونوں کی رعونت بھی دیکھی البتہ جیو نیوز میں شامل ہونے کے بعد اس کے درد کا مداوا ہوتا رہا۔ برے وقت میں اس کے ٹیلنٹ کو پہچاننے اور سراہنے کا احترام ہے کہ آ ج وہ علی میر جیو والا کہلاتا ہے۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن خبرناک کی روح علی میر ہے۔

یہ بھی بتاتا چلوں کہ علی میر کو خبرناک میں متعارف کروانے والے چینل کے سی۔ای۔او میر ابراہیم ہیں ورنہ اس پروگرام کا بنیادی خیال تو شاید چل ہی نہ سکتا۔ علی میر کی کام سے کمٹمنٹ کا یہ عالم ہے کہ وہ سب سے پہلے آتا اور سب سے آخر میں جاتا ہے۔ پرانے میزبان صاحب علی میر کو صبح گیارہ بجے گیٹ اپ کرواتے اور رات کو دو بجے بولنے کا موقع دیتے لیکن میں نے کبھی علی میر کے ماتھے پر شکن نہیں دیکھی۔ جو لوگ علی میر سے کبھی کبھار ملتے ہیں وہ ہمیشہ تذبذب کا شکار رہتے ہیں کیونکہ یا تو وہ اسے موٹا دیکھتے ہیں اور یا بہت دبلا۔ دراصل علی میر ایک دن فیصلہ کر کے اگلے سیکنڈ سے اس پر علم در آمد کرنے لگتا ہے۔ اگر کھانے پر آ تا ہے تو پراٹھوں پر ملائی چل رہی ہو گی اور اگر ڈایٹنگ کا قصد کیا ہوا ہے تو ملک بھر کے لیموں اپنی خیر مناتے نظر آتے ہیں۔

گزشتہ میزبان کے سامنے اس وقت بہت دلچسپ صورتحال پیدا ہو جاتی جب سامعین میں سے کوئی کہہ دیتا ، "جناب ہم تو علی میر سے ملنے آئے ہیں ۔ یہ بندہ آپ کے پروگرام کی جان ہے” اور علی میر اسے میزبان کے پیجھے سے اشارے کرتا کہ پلیز رک جاؤ، میری تعریف نہ کرو، ان کی کرو۔ اب تو لوگ علی کو پہنچانتے ہیں لیکن بہت پہلے تک وہ اپنی شکل میں لگتے ہی نہیں تھے کہ اتنے بڑے کمال کر سکتے ہیں۔ علی میر اب پیشے کے اعتبار سے تو اینکر اور آ رٹسٹ ہیں لیکن تعلیمی اعتبار سے انجینیر ہیں۔

گانے کا شوق ان کے رگ و پے میں ہے اور جس دن ان کے گانے کی ریکارڈنگ ہو اس دن دنیا میں ایک بھونچال آیا ہوتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے ساری دنیا ان کا گانا سننے کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ ہندکو علی میر کی مادری زبان ہے اور اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ دلیپ کمار بھی گھر میں ہندکو ہی بولتے ہیں۔ دل سے رومانوی رول بہت پسند کرتے ہیں اور ایک شان بے نیازی سے رومانس جھاڑتے ہیں ۔ یاد رہے کوئی کردار کرتے ہوئے وہ واقعی اپنی ذات کی نفی کردیتے ہیں۔ "دنیا میں علی میر ایک ہی پیدا ہوا ہے” ، ” علی بھائی ! آئن سٹائن بھی اپنے کام کا علی میر تھا” ۔ لوگ یقین سے یہ باتیں کہتے ہیں لیکن ہم علی میر کو چھیڑنے کے لیے۔

Facebook Comments HS