فاروق بندیال کی پگڑی، سوشل میڈیا اور تحریک انصاف
فوزیہ قصوری اور چوھدری نثار کو اگنور کرنا دونوں سیاسی جماعتوں کا غرور ہے اور غرور اللہ بھی پسند نہیں کرتا۔ ان دونوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال اپنی پارٹیز کو دیئے ہیں۔ ساری زندگی کا یہ صلہ ملا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ووٹ والے کسی کے نہیں بنتے۔ دوسرے تو سارے فصلی بٹیرے ہیں۔ خود اُڑ کر پکی ہوئی فصل پر جا بیٹھتے ہیں۔ لیکن ان کی بہت جدوجہد تھی۔
چوھدری نثار ایک خاندانی پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ انھوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے لئے جو نادرا کا نظام ٹھیک کیا ہے کوئی اور نہ کرسکتا۔ ورنہ تو لوگ کہتے تھے پاکستانی پاسپورٹ ہاتھ سے بنا کر اُوپر ویزہ لگ جاتا ہے کوئی پوچھ گُچھ نہیں ہوتی تھی۔ اور یہاں بھی جو ایمبیسز ہوتی ہیں بندوں کی مجبوری کا خوب فائدہ اٹھاتی ہیں۔ پاکستانی پولیس کی طرح ٹیبل کے نیچے سے ہاتھ کر کے پیسے لے لیتے اور کہتے ہیں چائے پانی دو تو پاسپورٹ لے جاؤ۔ لاکھوں افغانی اور ادھر اُدھر کے باشندوں کو پیسا لے کر پاسپورٹ ہاتھ سے بنا کر دیے گئے۔ جب تک چوھدری نثار نے نظام ٹھیک نہیں کیا، ہر دہشت گرد کا پاکستانی پاسپورٹ ہوتا تھا۔
اب آتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی طرف تو انصاف تب کیا جاتا ہے جب پہلے مقدمہ سُنا جائے لیکن یہ لوگ تو پہلے انصاف کرتے ہیں۔ بعد میں مقدمہ سُنتے ہیں۔ فاروق بندیال نے لاکھ جُرم کئے ہوں گے۔ ہم انسان ہیں کوئی فرشتے نہیں ہیں۔ مگر اس کو پارٹی میں شامل کر کے نکالنے کا طریقہ بہت غلط ہے۔ ہر بندے کی عزت نفس ہوتی ہے اور بندیال خاندان کے کافی ووٹ ہیں۔ کئی دہائیوں سے وہ سیاست میں رہ رہے ہیں اور سو سال پرانی بات کو اُچھالا گیا۔ نعیم الحق کی کوئی اپنی فیملی تو ہے نہیں جس کی عزت کا خیال ہو۔ اس لئے جو دل کرتا ہے کہ دیتا ہے۔ فاروق بندیال جیسا الزام عائشہ گلا لئی نے بھی تو لگایا تھا اگر نعیم الحق کو کوئی عہدہ دے دیا گیا تو پھر پاکستان تحریک انصاف کو باہر کے دشمن کی کوئ ضرورت نہیں ہو گی۔
فیصلے دماغ سے کئے جاتے ہیں سوشل میڈیا سے نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں فیصلہ کرتے ہوئے کئی بار سوچو اور سوچنے کے بعد جو فیصلہ کرو، اٹل ہو۔ ان کے فیصلے سوشل میڈیا سے یورپ کے ٹائم کی طرح تبدیل ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا بھی وہ جہاں جعلی اکاؤونٹ بنے ہوئے ہیں۔ فیصلہ ایک کپڑے کو کاٹنے کی طرح ہوتا اور کپڑا کاٹتے ہوئے کئی بار سوچا جاتا ہے کیونکہ وہ پھر بعد میں جُڑ نہیں سکتا۔ کسی بھی پاکسانی شہری جس سے اپ ووٹ لیتے ہو یا اُس کے خاندان کا ووٹ لیتے ہو اس کو یوں پارٹی میں شامل کر کے پھر بےعزت کر کے آپ کو نکالنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
ایسے فیصلے ایک صدر ٹرمپ کررہا ہےاور پاکستان میں تحریک انصاف کر رہی ہے۔ میں یوٹرن کے حق میں ہوں۔ یوٹرن لینا چاہئے۔ یہی جمہوریت ہوتی ہے اور یو ٹرن لینا ایکسیڈنٹ کرنے سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ لیکن کسی کو پارٹی میں شامل کر کے نکالنا یا اس کا ماضی اُچھالنا پہت ہی غلط بات ہے۔ اس سے اگلے بندے کی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے نعیم الحق کو کوئی حق نہیں یہ کہنے کا کہ فاروق بندیال کو کوئی سیاسی پارٹی شامل نہ کرے۔ اپ کوئی پاکستان کے وارث ہو۔ پہلے سوچ کر بندے کا بیک گراؤنڈ دیکھ کر پارٹی میں شامل کیا کرو۔ بچوں کی طرح ٹویٹ کر دیتے ہیں۔ اس کی فیملی یا بچوں پہ کیا اثر پڑ سکتا ہے اس بات کا اندازہ ہی نہیں لگاتے۔ یہ سیاست دان ووٹ بھی ہمارے لیتے ہیں اور غلام بھی ہمیں بناتے ہیں۔


