سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کمرہ نمبر ایک سے ۔۔۔ بالمشافہ انصاف
اصغر خان کیس کی سماعت کے بعد اشتر اوصاف سائیڈ پر ہوئے تو اگلا کیس وزرا اور سرکاری افسران کا استحقاق سے زائد گاڑیوں کے استعمال کا تھا۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نئیر عباس روسٹرم پر آئے۔ موصوف کی پونی ٹیل کے انداز سے متاثر ہو کر آج کل عبداللہ ملک بھی بالوں پر ربڑ بینڈ پہن رہے ہیں۔ بہر حال ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ افسران کے زیر استعمال ایک سو پانچ لگژری گاڑیوں میں سے اسی فیصد واپس لے لی گئی ہیں۔ انیس گاڑیاں جلد واپس لے لی جائیں گی، اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ باقی انیس گاڑیاں کیوں نہیں واپس لی گئیں؟ نئیر عباس نے بتایا کہ کچھ افسران جن کے زیر استعمال یہ گاڑیاں ہیں وہ ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ان کے گھروں سے جا کر گاڑیاں اٹھا لائیں۔ یہ گاڑیاں قوم کے پیسوںسےچل رہی ہیں۔ انہیں ڈمپ نہیں کریں گے ، ہمارے ذہن میں ہے کہ انہیں کہاں کھڑا کرنا ہے اور کہاں استعمال کرنا ہے۔
چیف جسٹس نے سی بی آر اور ایف بی آر افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اسمگل شدہ گاڑیاں لئے پھر رہے ہیں ان سے یہ گاڑیاں واپس لیں۔چیئرمین ایف بی آر کیوں نہیں آئے؟ ہم افطاری کے بعد بھی بیٹھیں گے ، چئیرمین کو بلائیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کچھ وقت مانگا اور کہا کہ اگلی سماعت اسلام آبادمیں رکھ لیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں کیوں نہیں؟ یہیں لاہور میں ہی سماعت ہوگی۔ نئیر عباس نے حتمی رپورٹ اور باقی ماندہ گاڑیوں کی ریکوری کے لئے مزید وقت مانگا جس پر عدالت نے انہیں منگل تک کا وقت دے دیا۔ اس کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق وفاقی وزیر زاہد حامد کے زیر استعمال گاڑیوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تو زاہد حامد خو دبھی روسٹرم پر آگئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زاہد صاحب آپ کے پاس اب بھی (سرکاری) گاڑی ہے؟ زاہد حامد نے نفی میں جواب دیا تو چیف جسٹس نے پوچھا کتنی گاڑیا ں تھیں آپ کے پاس۔ زاہد حامد نے کہا کہ میرے استعمال میں دو گاڑیاں تھیں۔ بحثیت وفاقی وزیر گیارہ ماہ تک ایک گاڑی استعمال کی جو وزارت چھوڑتے ہی واپس کر دی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اور گاڑی آپ کے پاس تھی جس کو رکھنے کا استحقاق نہیں تھا۔ اس پر زاہد حامد نے کہ اس بارے وزیر اعظم کو اختیار حاصل تھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے رولز انیس سو اسی کی شق کا چوبیس حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم وزرا، وزرا مملکت، مشرا اور سٹاف کو استحقاق سے بڑی گاڑی الاٹ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ان گاڑیوں کی منظوری وزیر اعظم نے نہیں دی۔ مجھے آپ دکھا دیں کسی ایک جگہ بھی گاڑیوں کی منظوری سے متعلق وزیر اعظم نے اپنے دستخط کئے ہوں۔ یہ منظوریاں وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے دیں۔ فواد حسن فواد کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ وزیر اعظم کی جگہ ایک بھی دستخط کر یں۔ ایسی منظوریوں کا حق صرف وزیر اعظم کا ہے، فواد حسن فواد کا نہیں۔ امریکی صدر کھوکھا تک نہیں دے سکتا یہاں ڈھائی کروڑ لاگت کی لگژری گاڑیاں خرید لی جاتی ہیں۔ فیصل آباد والے عابد شیر علی کس حیثیت سے مرسڈیز استعمال کر رہے ہیں؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ عابدشیر علی گاڑی واپس جمع کرا چکے ہیں۔ زاہد حامد نے اس موقع پر اجازت لینے کے سے انداز میں چیف جسٹس کو دیکھا تو انہوں نے کہا آپ فارغ ہیں جناب،!پھنسنا چاہتے ہیں تو پھنس جائیں بصورت دیگر آپ فارغ ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے زاہد حامدکی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے منیر نیازی کے یہ اشعار پڑھے۔۔
کج اونج وی راہواں اوکھیاں سن“ کج گل وچ غماں دا طوق وی سی ‘کج شہر دے لوک وی ظالم سن، کج ”مینوں“ مرن داشوق وی سی۔۔ اور پھر زاہد حامد نے چل دینے میں ہی عافیت جانی۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو صوبے بھر میں ریکور کی گئی گاڑیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جن افسران نے استحقاق کے برعکس غیر قانونی طور پر گاڑیاں خریدیں ان کے خلاف کاروائی ہوگی۔ ان گاڑیوں کی اب نیلامی ہو سکتی ہے۔ باقی رقم ان افسران سے یا ان بورڈز سے وصول کریں گے جنہوں نے یہ گاڑیاں خریدیں۔ چیف سیکرٹری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے صوبے میں پانچ وزرا سے استحقاق سے زائد گاڑیاں واپس لے لیں۔ ان میں وزیر قانون رانا ثنا اللہ بھی شامل ہیں۔ اس پر چیف جسٹس مسکرائے اور ریمارکس دئیے کہ چیف سیکرٹری صاحب آج تو آپ بہت ‘سپیسیفک’ ہیں، خیر ہیں ناں؟ آج پریس والوں کے سامنے خود کو کلئیر تو نہیں کرنا چاہ رہے؟ اس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے۔
ا س کے بعد باقی تینوں صوبوں کے متعلقہ حکام نے بھی اپنے اپنے صوبوں میں گاڑیوں کی وصولی بابت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ کے نمائندہ لا آفیسرز کو چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ان کی رپورٹوں سے مطمئن نہیں۔ ریکوریاں مکمل کر کے حتمی رپورٹیں عدالت میں جمع کرائیں۔
چیف جسٹس صاحب کے سامنے ان کی بائیں جانب چوتھی قطار کے وسط میں بیٹھے ہم عدالتی کاروائی سن رہے تھے کہ اچانک ساتھ بیٹھی ایک سینئر وکیل خاتون نے ہمارے کان میں سرگوشی کی کہ عائشہ احد ملک کورٹ روم میں آنے والی ہے۔ ہم نے استفسار کیا کہ کیوں؟ آپ کو کیسے معلوم؟ عائشہ احد ملک کی عرضی ہم نے ہی تیار کی ہے۔ خاتون وکیل نے جواب دیا۔ ہم چونک گئے کہ معاملہ کچھ سنجیدہ ہے۔ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو دور ہجوم میں عائشہ احد ملک سفید لباس میں سیاہ منکوں والی تسبیح پڑھتی دکھائی دیں۔ اشارے سے انہیں اپنی قطار میں آکر بیٹھنے کا مشورہ دیا تو دائیں جانب بیٹھے ایک جونیئر وکیل نے ان کے لئے اپنی نشست خالی کر دی۔ یوں عائشہ احد ملک سے سرگوشیوں میں مدعا سننے کا موقع ملتا رہا۔ عائشہ احد اپنے ہمراہ فائلوں کا پلندہ اٹھائے ہوئے تھیں، وہ بار بار ایک ہاتھ سے تسبیح کے دانے پھیرتیں اور دوسرے ہاتھ سے فائلوں کی ترتیب درست کرتی رہیں۔ وقفے وقفے سے وہ ‘ایاک نعبدہ وایاک نستیعن’ کا ورد قدرے بلند آواز میں کرتی رہیں۔ گاڑیوں کی ریکوری کا کیس جاری تھا ، چیف جسٹس ساتھ ساتھ متعلقہ حکام کو ہدایات بھی جاری کر رہے تھے کہ اچانک انہوں نے کورٹ میں بیٹھے افراد کو مخاطب کیا اور کہا کہ کل انہیں ان کے موبائل فون پر ایک نا معلوم نمبر سے مسیج وصول ہوا ، جس میں کسی بچی نے کہا اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ کون ہے وہ بچی؟ میرے اسٹاف نے اس نامعلوم نمبر پر رابطہ کر کے اس بچی سے کہا تھا وہ آج کورٹ میں حاضر ہو۔ کیا وہ بچی آج کورٹ میں موجود ہے ؟ عائشہ احد ملک جو تقریباً بیس منٹ سے کمرہ عدالت میں موجود تھیں فورا اٹھ کھڑی ہوئیں اور ہاتھ اٹھا کر کہا کہ جی میں نے آپ کو مسیج کیا تھا۔
اس پر چیف جسٹس نے انہیں روسٹرم پر بلا لیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ عائشہ احد ملک نے اپنا اور اپنے والد کا نام چیف جسٹس کو بتایا۔ چیف جسٹس نےمزید استفسار کیا کہ جی! بتائیں کیا خطرہ ہے آپ کی زندگی کو؟ کیا مسئلہ ہے آپ کا؟ اس پر عائشہ احد ملک بتایا کہ وہ حمزہ شہباز شریف کی منکوحہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہیں؟ عائشہ احد ملک نے کہا کہ جی تمام ثبوت موجو دہیں، ہم ڈونگا گلی اور لند ن میں اکٹھے رہے اور یہ بات زمانے کے علم میں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ بتائیں؟ مسئلہ کیا ہے؟ کیسے آپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے ، باقی باتیں چھوڑیں، جو مسیج آپ نے کیا اس بارے بتائیں۔ عائشہ احد ملک نے کہا کہ ساڑھے سات برس بیت گئے ہیں، حمزہ شہباز اور اسکی فیملی نے مجھ پر اور میری بچی پر جو اس وقت پندرہ برس کی تھی ، دھمکیاں دینے اور ایک فلپائینی ملازم کے اغوا سمیت کئی جھوٹے مقدمات درج کرائے۔ مجھ پر تھانے میں تشدد کیا گیا۔ جان سے ماردینے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ میں نے شہباز شریف کو بس اتنا کہا تھا کہ میں آپ کے دروازے پر آرہی ہوں میرا مسئلہ حل کریں۔ اس پر ان لوگوں نے مجھے تھانوں اور کچہریوں میں گھسیٹا اور ذلیل کیا۔ مجھ پر ہوئے تشدد کے خلاف آج دن تک پولیس نے پرچہ درج نہیں کیا حالانکہ مقدمہ درج کرنے کے احکامات عدالت نے جاری کئے تھے۔ میری بیٹی کی پڑھائی چھوٹ گئی، اب وہ بائیس برس کی ہو چکی ہے۔میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں اور کچھ نہیں تو اس بچی کا نام ہی مقدمات سے نکال دیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جو کیسز عدالت میں ہیں ان کا ٹرائل تو بہر حال ہو گا ہم کیسز تو ختم نہیں کر سکتے۔
عائشہ احد ملک نے کہا کہ حمزہ شہباز اور ان کے کچھ لوگ مجھے اب بھی دھمکیاں دے رہیں ہیں، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ملک سے باہر چلی جاوں۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز کدھر ہیں؟ ایڈوکیٹ جنرل تذبذب کا شکار ہوئیں تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایڈوکیٹ جنرل گھبرا کیوں جاتے ہیں؟ بلائیں حمزہ شہباز کو، جہاں بھی ہے عدالت میں پیش کریں۔ ہماری پچھلی قطار میں سابق وزیر صحت سلمان رفیق بیٹھے تھے، چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سلمان رفیق کو علم ہو گا کہ حمزہ کہاں ہے۔ اس پر سلمان رفیق نے کھڑے ہو کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جنا ب اس بارے مجھے کچھ علم نہیں۔ چیف جسٹس نےریمارکس دئیے کہ سارا دن حمزہ کے ساتھ گھومتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے پتہ نہیں وہ کدھر ہے؟ حمزہ شہباز جہاں کہیں بھی ہیں دو گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش ہوں۔ کچھ دیر بعد ایڈوکیٹ جنرل پنجاب عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز ملک سے باہر ہیں اور وہ تین سے چار وز تک واپس آئیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے انہیں تین سے چار روز بعد ہی بلا لیں۔ اس پر عائشہ احد نے کہا کہ جناب میں نے چھ تاریخ کو عمرے پر جانا ہے، میں نہیں آسکوں گی۔ چیف جسٹس نے پوچھا آپ کب واپس آئیں گی، انہوں نے جواب دیا کہ وہ آٹھ دس روز بعد واپس آئیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے عید کے فوری بعد حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر تے ہوئے آئی جی پنجاب کو عائشہ احد کی سکیورٹی یقنی بنانے اور ان پر تشدد کے الزام میں حمزہ شہباز سمیت رانا مقبول، مقصود بٹ ، رانا علی عمران اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اور کورٹ آرڈر ہونے کے باوجود عائشہ احد ملک کی درخواست پر مقدمہ درج نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں اور ایڈوکیٹ انجم حمید کو ہدایات کیں کہ وہ عائشہ احد کے کیسز کی تفصیلات لکھ کر عدالت میں جمع کرائیں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



