سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کمرہ نمبر ایک سے ۔۔۔ بالمشافہ انصاف


عدالت میں پنجاب پولیس کی جانب سے سیاستدانوں اور دیگر شخصیات کو دی گئی سکیورٹی سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنے لوگوں کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے؟ ڈی آئی جی لیگ عبدالرب نے کہا کہ کل اکتیس سیاستدانوں کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ اظہر صدیق روسٹرم کی جانب لپکے اور فائل ہوا میں لہراتے ہوئے چیف جسٹس سے استدعا کہ کہ جنا ب ان اکتیس افراد کے نام ایک بار ضرور پڑھ لیں۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اظہر صاحب سنجیدہ معاملہ ہے، وہ کام نہ کیجئے گا جو مناسب نہ ہو۔ اس پر اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے ایک بار عدالت سے استدعا کی جناب ایک بار ان سیاستدانوں کے نام ضرور پڑھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ جناب پنجاب پولیس نے طاہر القادری اور عمران خان کے علاوہ تمام سکیورٹی مسلم لیگ ن کے رہنماوں اور ان کے اہل و عیال کو دے رکھی ہے۔

(سرکاری خرچ پر جن مزید شخصیات کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے ان میں سابق وزیر دفاع خرم دستگیر خان، انوشہ رحمٰن اور مریم اورنگزیب، دانیال عزیز، عابد شیر علی، طلال چوہدری ، حنیف عباسی، جہانگیر خانزادہ، محمد ایوب اور رانا جمیل حسین، شہباز تاثیر، آمنہ تاثیر،فیصل شاہکار، مشتاق سکھیرا، امین وینس اور عبداللہ سنبل کو بھی سیکیورٹی دی گئی ہے)

 اس پر چیف جسٹس نے فہرست پڑھتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کہ نواز شریف، شہباز شریف، احسن اقبال ، ایاز صادق اور زاہد حامد کی تو سمجھ آتی ہے، لیکن یہ رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، عابد شیر علی، احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال کو کس لئے سکیورٹی دی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں تین بار انوشہ رحمان کا نام لیا اور استفسار کیا کہ ان محترمہ کو کس کھاتے میں سکیورٹی دی جارہی ہے۔ یہ مریم کون ہے؟ دانیال کون ہے؟ عابد شیر علی کون ہے؟ ان سب کو سکیورٹی کیوں دی جا رہی ہے؟ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ دانیال اور طلال خود ملزم ہیں اور ملزمان کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگ ایک طرف عدلیہ کو گالیاں دیتے ہیں اور دوسری طرف سیکیورٹی مانگتے ہیں، آئی جی صاحب! آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کو سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے۔

 اس پر آئی جی نے کہا کہ ان افراد کو خطرات کے پیش نظر سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ عدالت نے متعلقہ ضلعی کمیٹیوں کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سکیورٹی فراہم کرنے کا جواز پیش کریں۔ چیف جسٹس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ آج تو اظہر صدیق نے بھی اچھا کام کر دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ٹیکس دینے والوں کی رقم سے ان سیاستدانوں کو سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، ایک سکیورٹی اہلکار پچیس سے تیس ہزار میں پڑتا ہے، اور ایک سیاست دان کم از کم اس حساب سے ساٹھ ہزار میں۔ چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ قوم کا پیسہ ہے اسے لٹانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس ملک میں حاکمیت صرف اللہ کی اور قانون کی ہوگی۔ بتایا جائے یہ حمزہ شہباز کو کتنی سکیورٹی دی گئی ہے؟ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ حمزہ کو ون۔فور سکیورٹی دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرے پاس بھی ون۔فو ر سکیورٹی ہے، مجھے تو رینجرز نے سکیورٹی فراہم کی ، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ مجھے سکیورٹی نہیں دے سکتے۔ آپ نے ہی آکر کہا تھا کہ ناں آپ سکیورٹی نہیں دے سکتے۔ عدالت نے سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات کرنے والی کمیٹیوں کو بھی طلب کر لیا۔ اس موقع پر سندھ سے آئے حکام نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں چار ہزار دو اٹھائیس افراد سے سکیورٹی واپس لی گئی ہے، بلوچستان بارے معلوم ہوا کہ وہاں آٹھ سو افراد کو سکیورٹی دی گئی جبکہ کے پی کے میں کمی کرتے ہوئے سات سو چار افراد کو سکیورٹی دی جا رہی ہے۔ عدالت نے لائٹر نوٹ پر ریمارکس دئیے کہ ان سب سے بہتر تو پنجاب ہے جہاں پولیس نے ایک پارٹی تو چن لی جسے سکیورٹی دینی ہے۔

اسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تو سیکرٹری صحت پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ تیرہ پلانٹ نصب کر دئیے گئے ہیں، مزید پلانٹس جلد لگا دیئے جائیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اسپتالوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی انتظامات نہیں تھے، عدالتی حکم پر پلانٹس نصب ہونا خوش آئند ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری ہیلتھ علی جان کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ سے متعلق اس قدر شکایات کیوں ہیں؟ آپ خواتین ملازمین کو کیوں تنگ کر کے تبادلے کرتے ہیں؟ آپ اپنی اتھارٹی کا رعب جماتے ہو؟ آپ نے ایک خاتون کا تبادلہ پنڈ دادنخان کر دیا۔ آپ کو بات کرنے کا طریقہ نہیں آتا؟ علی جان وضاحتیں دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن چیف جسٹس نے ان کے طرز کلام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کیسے بات کرتے ہیں؟ آپ پر تو نیب کیس بھی ہے۔ میرا موبائل فون لے کر آئیں میں انہیں بتاوں کہ ان پر کیا چارجز ہیں اور ان کی کارکردگی کیا ہے۔ کیوں نہ آپ کو بلوچستان بھیج دیا جائے۔ بلوچستان جا کر عوام کی خدمت کریں۔ علی جان کے قریب کھڑے ان کے رفقا نے انہیں سمجھایا اور ساتھ ہی جسٹس اعجازالاحسن نے بھی ہاتھ سے انہیں شانت رہنے کا اشارہ دیا تو علی جان قدرے سنبھلے اور اپنے رویے پر معذرت کر لی جس پر چیف جسٹس نے انہیں او ایس ڈی بنا کر بلوچستان بھیجنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ اس موقع پر صحافی حسن رضا نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں افسروں کی بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے کبھی بلوچستان میں خدمات انجام نہیں دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو پتہ ہے کہ آگے کیا ہونے لگا ہے؟ ان سب کو ‘شفل’ کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اسپتالوں کے کیس کے دوران عام انتخابات کا بھی تذکرہ سننے کو ملا۔ سیکرٹری صحت نے ایک کام میں تعطل کا بتایا تو چیف جسٹس نے الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ یہ انتخابات تھوڑی ہیں جو ہر صورت میں پچیس جولائی کو ہی ہونا ہیں۔ پھر بتا رہا ہوں کہ الیکشن پچیس جولائی کو ہی ہوں گے۔

پنجاب یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت دن بھر کے بعد سہ پہر کے وقت ہوئی ، اس موقع پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے جامعہ پنجاب میں مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے لئے سرچ کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے میرٹ پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا کہ امیدواروں کی فہرست میرٹ کے حساب سے پیش کی جائے۔ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے عدالت کو بتایا کہ درخواست (کوالیفکیشن) کے پنسٹھ اور انٹرویو کے پینتیس نمبر رکھے گئے تھے یوں سو نمبر وں کے مجموعے میں سے ڈاکٹر نیاز احمد اختر تراسی نمبر لے کر پہلے نمبر پر آئے ہیں، ڈاکٹر منصور سرور اسی نمبر لے کر دوسرے اور ڈاکٹر زکریا ذاکر اٹھہتر نمبر لے کر تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سرچ کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے حکومت کو ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو وائس چانسلر جامعہ پنجاب لگانے کا حکم دیا اور ڈاکٹر نیاز کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ڈاکٹر صاحب سپریم کورٹ نے آپ پر اعتماد کیا ہے پوری ایمانداری کے ساتھ فرائض انجام دیں اور کسی دباو میں آئے بغیر جامعہ پنجاب کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنائیں۔

اس کے بعد ریلوے آڈٹ کیس کی باری آئی تو چیف جسٹس نے فرگوسن کمپنی سے ریلوے کا آڈٹ کرانے کے ٹی او آرز کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں طے شدہ مدت میں فرانزک آڈٹ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے وائس چانسلر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی تو ادارے کی سربراہ ڈاکٹر طیبہ کی کوالیفکیشن زیر بحث آئی، ڈاکٹر طیبہ نے کہا کہ قانون کی رو سے اس انسٹی ٹیوٹ کی وائس چانسلر کیلئے پی ایچ ڈی ہونا لازم نہیں۔ ادارے سے برطرف ہوئے ملازمین ضابطے کے تحت فارغ کئے گئے۔ اس موقع پر فیشن ڈیزائن کے اساتذہ اور طلبہ ڈاکٹر طیبہ کے خلاف احتجاجاً بولتے رہے۔ چیف جسٹس نے آپ کی کوالیفیکشن کا معاملہ وزارت کامرس کے سپرد ہے وہ اس بارے رپورٹ دیں گے۔ ادارے سے فارغ سٹاف کی رپورٹ کی کاروائی عدالت میں پیش کریں۔ ڈاکٹر طیبہ کچھ کہنے لگیں تو اچانک روسٹرم سے نیچے گر گئیں۔ چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود ڈاکٹرز کو ہدایات کیں کہ انہیں فوری دیکھا جائے، حبس اور گرمی کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ڈاکٹر طیبہ چند لمحوں بعد ساتھیوں کے سہارے اٹھ کھڑی ہوئیں اور چل دیں۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود غیر ضروری افراد کو نکل جانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سماعت جاری رکھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 60 posts and counting.See all posts by ajmal-jami