اردو اور ہندی کا مشترک لفظیاتی سرمایہ
اردو ہندی میں بہت سے الفاظ عربی فارسی سے آئے ہیں اور انھیں ہم دخیل الفاظ کے نام سے یاد کرتے ہیں، لیکن زبان کے مزاج کے مطابق، اس کی قواعد کے ذریعہ وہ الفاظ مقامی رنگ میں ڈھال لئے گئے ہیں۔ وہ الفاظ انھیں صرفیوں کے پابند ہوتے ہیں جن کی پا بندی ہمارے مقامی الفاظ کرتے ہیں۔ بطور مثال قلم سے قلمیں کتاب سے کتابیں، ہوا سے ہوائیں۔ دوا سے دوائیاں۔ اسی طرح انگریزی سے ماخوذالفاظ جیسے بو تل سے بو تلیں، کالج، کالجوں، الماری سے الماریاں وغیرہ۔
جغرافیائی حالات زبان کے مزاج و مذاق کو متاثر کرتے ہیں۔ ساری زبانیں تذکیر و تانیث، واحد تثنیہ جمع اور واحد متکلم و جمع متکلم کا یکساں نظام نہیں رکھتیں، اسی طرح تصریفی قواعد بھی یکساں نہیں ہیں۔ فارسی زبان میں غیر ذوی العقول کی جنس نہیں ہوتی لیکن اردو اور ہندی جس خطے کی پیداوار ہیں وہاں کے لسانی مذاق نے غیر ذی العقول کی بھی جنس کا ایک تصور قائم کیا اور اس کے مطابق عام چلن میں جامد اشیاءمیں بھی صنفی تفریق قائم کی جیسے کتاب، قلم، دوات، روشنائی، پیمانہ، جام، شراب وغیرہ۔ اسی طرح جنسی شناخت کو ظاہرکرنے کے لئے اردوہندی نے اشتقاقی لاحقوں کے سلسلے میں مقامیت کو ترجیح دی اور اپنی زبان، صوتی آہنگ اور مزاج کے مطابق جنس کو ظاہر کرنے کے لئے اشتقاقی لاحقے استعمال کئے۔ (یہ لاحقے ہمیں، ی، ن ی، ان، اور صرف ن کی صورت میں ملتے ہیں )مثالیں ملاحظہ کریں :
دیوانی دیوانی
شہزادہ شہزادی
بچہ بچی
بندہ بندی
کبوتر کبوتری
بیچارہ بیچاری
فقیر فقیرنی
جادوگر جادوگرنی
مہتر مہترانی
نو کر نو کرانی
استاد استانی
حبشی حبشن
مالک مالکن
سابقوں اور لاحقوں کا سرسری ذکر پہلے گزر چکا ہے اوراردو ہندی کے لفظیاتی اشتراک کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اردو ہندی کے روز مرہ اور تحریر زبان میں ایسے الفاظ استعمال میں لائے جاتے ہیں جا فارسی کے لاحقوں اور سابقوں سے بنتے ہیں۔ کامتا پرساد گرو نے بہت سے الفاظ لاحقوں اور سابقوں کا ذکر کیا ہے جو بالعموم اردو ہندی کی مشترک میراث نہیں خیال کئے جاتے اور اصیل پرست طبقہ ان سے پرہیز بھی کرتا ہے لیکن عملی زبان کے حقائق کے سامنے یہ اصیل پرستی کچھ وقعت نہیں رکھتی۔ مصنف نے لاحقوں اور سابقوں کی مثالیں کثرت سے دی ہیں۔ ہم اختصار کے پیش نظر ہر لاحقے اور سابقے کے تین تین الفاظ نقل کرتے ہیں۔
کم عمر /کم قیمت /کمزور /غیر ملک /غیر واجب /غیر سرکاری/دراصل/درکار /درحقیقت /نادان /نالائق/ناراض /بنام/بدستور/بدولت /بر خاست /بر طرف /بر وقت /با ضابطہ /باقاعدہ /با تمیز
لسانی لین دین میں ریخت اور ملاپ کا عمل بھی کیسا ہے کہ کہیں لاحقہ دیسی اور لفظ بدیسی اور کہیں لفظ دیسی اور لاحقہ بدیسی جیسے جو شیلا کی، نشیلا، دیوانہ پن، پاندان، اگالدان، چوہے دان، ٹھیکے دار پہرے دار وغیرہ۔
جملے اور زبان میں فعل کی اہمیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ فعل ہی عمل کے نتیجے اور اس کے زمانی مرحلے سے ہمیں با خبر کرتا ہے۔ ویسے بھی زندگی کی سرگرمی، وقت کے تغیرات، اس کا گزران اور لمحہ بہ لمحہ ہوتی تبدیلیاں فعل سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر فعل زندگی کا نا گذیر حصہ ہے تو زبان کا بھی ہے۔ اردو ہندی کی مشترک لفظیات میں افعال کا خانہ ہی وہ خانہ ہے جہاں حد درجے اشتراک پایا جاتا ہے۔ اس اشتراک کی کیفیت و کمیت دونوں ہی اس قدر زیادہ ہیں کہ ان زبانوں کی صرفی بنیادیں اور ساختیں تقریبا ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے لگی بندھی چلتی ہیں۔ اردو قواعد کی تنظیم جدید کرنے والے ماہر لسانیات عصمت جاوید نے لکھا ہے کہ :
”لسانیات کی رو سے دیکھا جائے تو ہندی اردو دو الگ الگ زبانیں نہیں ہیں کیونکہ ان دونوں کا اختلاف ان مشترکہ یا مختلف لفظیات سے نہیں بلکہ ان کی ساخت کے فرق سے ناپا جاتا ہے۔ اگر دونوں زبانوں کی نحوی ساخت ایک ہو، فعلی مادوں کا ذخیرہ ایک ہو، ضمائر اور کلمات جار ایک ہوں، گنتی ایک ہو اور کہاوتوں اور محاوروں میں بڑی حد تک یکسانیت ہو تو دونوں زبانیں ایک ہی کہلائیں گی۔ “ (اردوہندی کی مشترک لفظیات میں فارسی اورمفرس عربی عناصر کاتجزیہ، مشمولہ لغت نویسی کے مسائل، مرتبہ گوپی چند نارنگ، ص، ن 221)
اردو ہندی کے مابین استعمال ہونے والے مشترک افعال کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان افعال میں ٹھیٹ ہندوستانی افعال بھی ہیں اور فارسی عربی الفاظ کے ذریعہ بنائے گئے افعال بھی۔ یہ اشتراک غیر مرکب اور مرکب افعال میں بھی ہے اور فعلیہ محاوروں میں بھی۔ گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب ”اردو زبان و لسانیات“ میں ہندی اور اردو کے مشترک افعال مرکب افعال اور فعلیہ محاوروں کو بطور مثال بڑی تعداد میں درج کیا ہے۔ یہاں ان کا نقل کرنا طوالت کا باعث ہو گا۔ البتہ لفظیات کی مختلف شکلوں میں جو اشتراک انہوں نے دریافت کیا ہے اس کا خلاصہ دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔
اردو ہندی کی بنیادی لفظیات کی جامع فہرست تیار کی جائے تو اسمیں فعلی مادوں، مصادر، فعلیہ ترکیبوں، فعلیہ لاحقوں، کلمات اشاریہ۔ کلمات زمانی، شخصی و غیر شخصی ضمائر اور ان کی تصریفی شکلیں۔ اعداد بنیادی، اعداد توصیفی، مغلظات اور اعضاءبدن کے نام یہ وہ شکلیں جن پر اردو ہندی دونوں کا حق ہے۔ غرض بنیادی لفظیات دونوں زبانوں کی سوفیصد نہ سہی ننانوے فیصد یقیناً درست ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں، اردوزبان و لسانیات، نارنگ ص 67تا98)
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

