اردو اور ہندی کا مشترک لفظیاتی سرمایہ
یہاں لفظیاتی اشتراک کے سلسلے میں جس عددی تناسب کا ذکر ہوا ہے، وہ ایک اندازے پر مبنی ہے، اس میں کمی بیشی ممکن ہے۔ اس کمی بیشی کا امکان اس وجہ سے ہے کیونکہ لسانی تطہیر اور اصیل پرستی کی وبا کے دوران تٹسم کی طرف میلان بلکہ اس پر شدت اصرار نے سنسکرت لفظیات کی ریخت اشکال کو متروک قرار دے دیا اور یہ عمل صرف ہندی میں ہی نہیں ہوا بلکہ اردو میں بھی ہوا، اور وہ فارسی کی طرف زیادہ مائل ہوئی۔ اس میلان کو اصلاح زبان کی تحریک میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مصنف فرہنگ آصفیہ نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے کہ انہوں نے گنوارو اور معیار سے گرے ہوئے معنی ہی درج کئے ہیں۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زبان میں پرہیزی روش کی اصل وجہ عوام الناس اور اشراف کے ما بین حد فاصل قائم کرنے کا منشاءہے۔ لیکن اسلام اور ہندتو کے نو آبادیاتی مہا بیانئے کی لعنت نے اس روگ کو جسے ہم لسانی اشرافیت زدگی کا روگ کہہ سکتے ہیں کوئی اور ہی نام دیا اس غلط تعبیر کے اولین شکار ہندی کے متشدد حامیان تھے لیکن ابھی چند سالوں پہلے ہند نژاد پاکستانی مصنف طارق رحمٰن نے اپنی کتاب From Hindi to Urdu میں اصلاح زبان کے عمل کو اسلامائیزیشن آف لینگویج سے تعبیر کیا ہے(Identity:The islamisation of Language,page no,98-135)۔ اصلاح زبان کا عمل اپنے آپ میں ایک غلط روش تھی جس نے زبان سے اس کے مقامی الفاظ کو نکالا لیکن اس عمل کی یہ جدید تعبیر زیادہ خطرناک اس لئے ہے کہ اسے اشرافیت زدگی کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے مذہبی اساس فراہم کرتی ہے، جو کہ خلاف واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ صریح لسانی و تاریخی بد دیانتی ہے۔ ہمارے اہل علم طبقہ کو تعبیر کی اس غلطی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
اردو ہندی میں لفظیاتی برتاﺅ کے سطح پر ایک انوکھا اور اچھوتا اشتراک بھی پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ اردو میں تتسم کی ریخت شکلوں اور پراکرت روپوں کو اپنے دامن میں جگہ دی، جبکہ ہندی میں ان کی تتسم صورتوں کو ترجیح دی گئی۔
اردو جدید ہندی
بات وارتا
برس ورش
مور میور
رت ریتو
بس وش
پورب پورو
بجلی وجر
سورج سوریہ
اچرج آشچریہ
بسرام وشرام
برکھا ورشا
بانی وانڑی
بندر وانر
ماتھا مستک
پچھم پشچم
سنگھار شرنگار
رات راتری
دھیرج دھیریہ
لفظیاتی لین دین کی سطح پر اردو ہندی کے سامنے ایک اہم مسئلہ ہے۔ وہ یہ کہ اطلاعاتی انقلاب نے نئی نسل کے روز مرہ اور محاورہ کو حد درجہ متاثر کیا ہے۔ ان دو نوں زبانوں کے پاس جن الفاظ و محاوروں کا دیسی روپ پہلے سے موجود ہے اور چلن میں بھی رہا ہے لیکن ہماری شہری زندگی کے روز مرہ سے وہ روپ سرکتا جا رہا ہے اور انگریزی لفظیات کی بھر مار ہوتی جا رہی ہے۔ اطلاعاتی انقلاب کے تبرکات ہماری اپنی کاوشوں کا نتیجہ نہیں ہیں، انہیں وجود میں لانے والے اذہان غیر ملکی ہیں، اگرچہ اس میدان میں ہماری ترقیات اور حصولیابیاں کچھ کم نہیں لیکن آلات کی تکنیکی و عملی تنظیم انگریزی زبان کے زیر اثر ہوئی اس وجہ سے ان آلات کے کل پرزوں کو نام دینے اور استعمال کرنے کے طریقے بھی پہلے پہل اسی زبان میں سمجھائے گئے جیسے :اپلوڈ کرنا، ڈاﺅن لوڈ کرنا۔ وائرس آنا، ہینگ کرنا، سینڈ کرنا، فارورڈ کرنا، فائل کا کرپٹ ہونا، ڈلیٹ کرنا، کاپی کرنا، پیسٹ کرنا اور ان جیسی بہت سی دوسری لفظیات کو کیا باضابطہ ہمارے لغات کا حصہ ہو نا ہے یا پھر ان کے دیسی متبادلات پر اصرار کرنا ہے۔ عملا یہ لفظیات رائج ہیں اور اس کثرت سے کہ ہم ان کے منکر نہیں ہو سکتے، اس کے باوجود چند احباب نے ان کے متبادل پر بھی غور کیا ہے جو کچھ اس طرح ہے۔
ڈاﺅن لوڈ کرنا اتارنا
اپلوڈ کرنا چڑھانا
سینڈ کرنا بھیجنا
فارورڈ کرنا آگے بڑھانا، بڑھانا
ڈلیٹ کرنا مٹانا
کاپی کرنا نقل کرنا
پیسٹ کرنا چسپاں کرنا
لنک ربط
سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوشش سعی محمود کہی جا سکتی ہے؟ یا پھر جو چیز رائج اور قابل فہم ہے اس پر قناعت بہتر ہے۔ اگر زبان کا بنیادی فنکشن ترسیل ہے تو بہر صورت یہ متبادلات باوجودیکہ آسان اور عام فہم ہیں، عام روز مرہ کے طور پر ہر جگہ قابل فہم نہیں ہو سکتے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ ہم عصر نسل کو صرف تلفظ کا مسئلہ ہی درپیش نہیں ہے بلکہ لفظیاتی بحران کا المیہ بھی اس کے سامنے ہے۔ شہری زندگی کے بدلتے محاورے اور انگریزی کے اشرافیائی اثرات پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اردو ہندی کے سامنے نہ صرف تلفظ کا مسئلہ منھ کھولے کھڑا ہے بلکہ دیسی لفظیات بھی معرض خطر میں نظر آتی ہیں۔
جدید ہندی نے زبان میں بہاؤ، سلاست، مٹھاس، کشش پیدا کرنے اورزبان کوترسیلی بنانے کی غرض سے اردولفظیات کے سلسلے میں فراخدلی کا رویہ اختیار کیاہے۔ صحافت اورہندی کویتاوفکشن کی زبان نے جوروپ دھارن کرناشروع کیا، اس سے معلوم ہوتاہے کہ بھاشک شدھی کرن کی روش باقی نہیں رہی۔ وہ اصوات جو دیوناگری لپی میں ادانہیں کی جاسکتیں، ان کی ادائیگی کے لیے بندیوں کااستعمال شروع کیاہے۔ لیکن عام ہندی قاری کے روزمرہ میں ان اصوات کی عدم شمولیت نے تلفظ کی سطح پر ان لفظیات کی ملفوظی صورتوں کو مسخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اردو ہندی کی مشترک لفظیات کا یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے اورزبان کی تدریس سے وابستہ افراد کی تربیت اور ان کے ذریعہ عام طلبا تک نقطوں سے پید اہونے والے فرق کی ترسیل ضروری ہے۔ تلفظ کا جب روزمرہ میں لحاظ نہ ہو گا۔ تدریس میں اسے ذہن نشین نہ کرایاجائے گا ا س وقت تک اس مسئلہ پر قابو پانا ممکن نہیں معلوم ہوتا۔

