چیف جسٹس اور شہباز شریف: ٹھنڈے کمرے میں گرماگرم مکالمہ
شہباز شریف نے روایتی انداز میں (ابتدائی طور پر انگریزی زبان میں) اپنا نقطہ نظر پیش کرنا شروع کیا اور کہا کہ یہ کمپنیاں صر ف صوبہ پنجاب میں ہیں بلکہ باقی صوبوں میں بھی بنائی گئیں، یہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی ایسی کمپنیاں بنیں۔ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ ان معاملات سے میری ‘کنسرن’ ہے اور اس بابت تمام تر رقم کے ہم رکھوالے ہیں۔ یقین رکھیں کہ ایک ایک پائی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق خرچ کی جارہی ہے۔ شہبا زشریف نے کہا کہ فرض کریں کہ صوبے میں کوئی کمپنی سرے سے ہی موجود نہیں اور نظام پہلے سے موجود ادارے چلا رہے ہیں تو اس صورت میں جناب چیف جسٹس ملک کا اربوں روپوں کا نقصان ہو جاتا۔ ان اداروں پر اربوں کھربوں لگانے سے ماضی میں کوئی فائد ہ نہ ہو سکا۔ اگر یہ نااہلی، فراڈ یا کرپشن ہے تو آپ جو سزا تجویز کریں مجھے قبول ہوگی۔ یہ کمپنیاں ایک خاص میکنزم کے تحت بنائی گئیں اور ان میں بھرتیاں بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل میں لائی گئیں۔
اس پر چیف جسٹس نے برہمی سے ریمارکس دئیے کہ ہمارا یہی سوال تھا کہ یہ بھرتیاں کیسے کی گئیں؟ کیا آپ نے پہلے سے ہی اپنے من پسند افراد کے لئے ان کمپنیوں میں نوکریوں کا نہیں سوچ رکھا تھا؟ مجھے بتائیں کہ مجاہد شیر دل کی سب سے بڑی کوالٹی کیا ہے؟ اسے دس لاکھ روپے کیوں دیئے جا رہے ہیں؟ معاملات شفاف انداز میں کیوں نہ رکھے گئے۔؟ یہ کہتے ہی چیف جسٹس نے ہاتھ میں تھاما کاغذ کا ایک ٹکڑا (جو تہہ ردر تہہ فولڈ تھا) سامنے بنچ پر دے مارا۔ شہباز شریف نے کہا کہ جناب اس سلسلے میں جو بھی آپ کا حکم ہو گا ہم قبول کریں گے۔ چیف جسٹس نے برہمی سے کہا کہ قبول تو کرنا پڑے گا۔ قانون کی پاسداری کو یقنی بنائیں گے۔
شہبا زشریف نے کہا کہ میں نے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کئی منصوبوں میں بھاری رقم بچائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے اپنے چیف سیکرٹری کے مطابق آپ نے صاف پانی کے منصوبوں میں چار ارب روپے خرچ کئے اور ضائع کئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ دو سال پہلے سے ہی ہم صاف پانی کے منصوبوں میں درپیش مسائل سے آگاہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا اسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ساڑھے چودہ لاکھ روپے تنخواہ کی مد میں وصول کر رہا ہے۔ آخر کیسے اور کس قانون کے تحت؟ (چیف جسٹس تقریبا پچیس منٹ پر محیط سماعت میں کئی بار یہ سوال دہراتے رہے کہ ان کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو ز آخر کس قانون کے تحت لاکھوں روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں؟) شہاز شریف نے فضا میں انگلی بلند کرتے ہوئے استدعا کی جناب چیف جسٹس اب مجھے بات کرنے دیں۔
ہم مانتے ہیں کہ صاف پانی کے معاملے میں ہم صحیح طور پر ‘ڈیلیور’ نہیں کر پائے۔ اس میں کمی کوتاہی کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ لیکن میں نے بحثیت وزیر اعلی ستر ارب کا فراڈ بچایا۔ اگر میں غلط ثابت ہو جاوں تو جو چاہے مجھے سزا تجویز کر دیں۔ اس منصوبے میں کئی وجوہات کی بنا پر ‘ڈیلیوری’ ممکن نہ ہو سکی۔ میں ایک گنہگار آدمی ہوں، مجھ میں کئی بشری کمزوریاں ہوں گی۔ لیکن اس سب کےباوجود خدا نے مجھے عقل دی ہے اور اسی عقل کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے اس منصوبے میں ستر ارب بچائے۔ اس منصوبے میں فراڈ ہو سکتا تھا ہم نے نہیں ہونے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا تو کیا پھر اسی لئے آپ بھاری بھرکم تنخواہوں پر چیف ایگزیکٹو افسران کو لے آئے؟ ان تمام معاملات کے ذمہ دار آپ ہیں۔ جو آپ نے وعدے کئے کیا ان کو پورا کر دکھایا؟ دنیا میں اگر ریل ایکسیڈینٹ ہو جائے تو متعلقہ وزرا مستعفی ہو جاتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ رمضان المبارک ہے، بجلی کے مختلف منصوبوں میں ہماری سرکار نے قوم کا ایک سو ساٹھ بلین روپیہ بچایا۔ آج آپ جس کمرہ عدالت میں بیٹھے ہیں اگر وہ آج ٹھنڈا ہے تو اسی وجہ سے ہے کہ ہم نے منصوبے لگائے ، بجلی پیدا کی اور ان میں بچت کی۔ اگر ایک دھیلا بھی کرپشن ثابت ہوجائے تو جو چاہے سزا دے دیں۔ یہ کہتے ہی شہباز شریف ایک بار پھر جذباتی ہوگئے اور کہا کہ ہم نے ساہیوال پاور پراجیکٹ چالو کیا، اس منصوبے میں سرمایہ کاری چین نے کی، یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے، حکومت اس منصوبے سے دو فیصد منافع کما رہی ہے جو کم و بیش تیس سے چالیس کروڑ روپے سالانہ بنتا ہے۔ ہم ایک ایک پائی بچانے کےلئے سرگرم ہیں۔ یہاں نندی پور اور نیلم جہلم جیسے منصوبے بھی ادھورے پڑے تھے جن پر اربوں روپے ضائع کر دئیے گئے۔ سیف سٹی کے نام پر اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے قوم کا پیسہ ضائع کیا۔
شہباز شریف لاہور سیف سٹی کا ذکر کرنے لگے تو چیف جسٹس نے انہیں روکا اور استفسار کیا کہ کیا کیپٹن (ر) مبین کو چودہ لاکھ تنخواہ میں دے رہا ہوں؟ شہباز شریف نے کہا کہ یہ تنخواہ میں نہیں دے رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ (یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو) ہم کرپشن کا ذکر نہیں کر رہے، مراعات کا ذکر کررہے ہیں، اپنے اپنے لاڈلوں کو مراعات دی گئیں۔ اس کا جواب چاہیے۔ شہباز شریف نے کہا ہم نے اپنے دور میں جو کارکردگی دکھائی اس کا حساب دیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ شہباز شریف صاحب آپ ہی کا تو دور رہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں سے صوبہ آپ ہی تو چلا رہے ہیں؟ شہبا ز شریف نے کہا کہ مائی لارڈ ہم نے مختلف منصوبوں میں ایک سو ساٹھ ارب روپے بچائے۔ چیف جسٹس نے برجستگی سے ریمارکس دئیے کہ مجھے تو نظر نہیں آرہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

