چیف جسٹس اور شہباز شریف: ٹھنڈے کمرے میں گرماگرم مکالمہ


شہباز شریف نے کہا مجھے کل دوبارہ بلا لیں میں تمام تر تفصیلات لے کر حاضر ہو جاوں گا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعلی صاحب! ہم آپ کا احتساب نہیں کر رہے، احتساب کے لئے اور ادارے ہیں، ضرورت ہوئی تو وہاں بھی آپ کو بھیجیں گے۔ آپ صرف یہ بتائیں ان کمپنیوں میں بھرتی کئے گئے افسران کو لاکھوں روپے کیوں دیئےاور کس قانون کے تحت دئیے جا رہے ہیں؟ شہباز شریف نے بالاخر جواب دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ بھرتیاں انہوں نے نہیں، فنانس ڈیپارٹمنٹ نے کیں اور وہی انہیں تنخواہیں دے رہا ہے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے دو ہزار چودہ میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کا ایک نوٹیفکیشن پڑھ کر سنانے کی کوشش کی تو تو چیف جسٹس نے کہا یہ پالیسی کس کی ہے؟ یہ آپ ہی کی تو پالیسی ہے۔ آپ نے کبھی فنانس منسٹر تو لگایا نہیں۔ کون ہے فنانس منسٹر؟ وزیر اعلی نے بتایا کہ عائشہ غوث بخش صوبے کی وزیر خزانہ رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وہ تو آپ نے حالیہ دنوں میں انہیں وزیر خزانہ بنایا ورنہ تو آپ وزارتیں کسی اور کو دیتے ہی نہیں تھے۔ شہباز شریف نے دوبارہ اپنی کارکردگی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ساٹھ ارب روپے کی بچت کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ان افسران کو دی گئی بھاری تنخواہیں واپس لیں گے، اس پیسے کی واپسی آپ نے کرنی ہے یا انہوں نے کرنی ہے جو ان پیسوں سے مستفید ہوتے رہے۔ شہباز شریف نے ایک بار پھر کہا کہ ایک پائی کی بھی کرپشن ثابت ہوجائے تو وہ ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا میں نے اس صوبے کے لئے خون دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا اجر اللہ دے گا۔

شہباز شریف نے قدرے نرم لہجے میں استدعا کی کہ جناب چیف جسٹس اچھے کام کی تعریف تو کر دیں پھر۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ صرف یہ بتائیں کہ آخر پچیس پچیس لاکھ روپے پر افسر بھرتی کرنے کی آپ کو کیا ضرورت تھی؟ ہم آپ کے جواب سے قطعی طور پر مطمئن نہیں۔ شہباز شریف نے اپنی کارکردگی اور ایمانداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سرکاری جہاز جب بھی خراب ہوا، ذاتی جیب خرچ سے پرائیویٹ جہاز لیا۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن شہباز شریف سے مخاطب ہوئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن پہلے ہی سے ایک فائل پڑھنے میں مصروف تھے، انہوں نے عینک نیچے کی، شہباز شریف سے استفسار کیا کہ نیب نے ان کمپنیوں کے معاملات پر انکوائری کر رہی ہے اور ان کی رپورٹ کے مطابق ان تمام کمپنیوں کے نظام میں وسیع پیمانے پر گڑ بڑ ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست نے ان معاملات پر سے کنٹرول ہی چھوڑ رکھا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ نیب ایک ادارہ ہے اور اسے ان معاملات کی تہہ تک جانے کا حق حاصل ہے۔

شہباز شریف اپنی کارکردگی بارے مزید گویا ہوئے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ اپنی ذات کو بار بار کیوں بیچ میں لے آتے ہیں۔ پنجاب کے ان چھپن کمپنیوں میں بھری بھرکم تنخواہوں پر ان افسران کو کیوں تعینات کیا گیا؟ شہبا ز شریف نے کہا ایک کمپنی میں ستر ارب کا کنٹریکٹ ہونے جا رہا تھا جس سے صوبائی خزانے کو نقصان پہنچنے کا احتمال تھا ہم نے وہ فراڈ نہیں ہونے دیا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو آپ ہمیں پھندہ دے دیتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کمپنیوں میں سینکڑوں افسران کی بھرتیاں کیسے ہوئیں؟ پچیس پچیس لاکھ تنخواہ کا تعین کیسے ہوا؟ یہ قوم کا پیسہ ہے اسے ایسے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے صاف پانی کمپنی کے معاملے میں کرپشن کو روکا۔ چیف جسٹس نے برہمی سے ریمارکس دئیے کہ شہباز شریف ہم آپ کے جواب سے غیر مطمئن ہیں۔ ہمیں ایک ایک پیسہ ریکور کرنا پڑے گا۔ اس موقع پر شہباز شریف طیش میں آگئے اور کہا کہ آپ ہی بتائیں کیا مجھے کسی کتے نے کاٹا تھا جو میں نے اپنا خون پسینہ صوبے کو دیا ، نو اسپتال بنائے، اربوں روپے کی بچت کی۔ چیف جسٹس نے شہباز شریف کو ڈانٹتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ یہ کیا زبان ہے؟ مائینڈ یور لینگوئیج سی ایم صاحب۔ شہباز شریف نے فوری اپنی غلطی کا ادراک کرتے ہوئے چیف جسٹس سے اپنے ریمارکس پر معذرت کر لی۔

چیف جسٹس نے کہا یہ کیپٹن عثمان چودہ لاکھ روپے کس حیثیت میں وصول کر رہے ہیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ یہ پیسے میں نے نہیں دئیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آپ کس چیز کے چیف منسٹر ہیں۔ ہمیں آپ کے جواب سے مایوسی ہوئی۔ آپ کا جواب ہمیں مطمئن نہیں کر پایا۔ یہ کہہ کر معزز بنچ چل دیا۔ شہباز شریف تھینک یو کہہ کر روسٹرم سے ہٹ گئے اور آناً فاناً اپنی گاڑی میں جا بیٹھے۔ ہم باہر نکلتے ہی فقط یہی کہہ پائے کہ کمرے میں ٹھنڈک بلاشبہ تھی لیکن سماعت کی گرما گرمی باہر کھڑے سائلین تک بھی ضرور پہنچی ہوگی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 60 posts and counting.See all posts by ajmal-jami