خدا سرخ ہے
پچھلے سال فلسفے کی ہائی اسکول کی ٹیکسٹ بک، پھر ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب "مسٹریز آف مسٹی سزم” اور ہرمن ہیس کی "سدھارتا اور اس کے بعد گریگ ایپسٹین کی”گڈ وداؤٹ گاڈ” پڑھی گئیں۔ کوئی بھی ممبر کتاب کا مشورہ دے سکتا ہے۔ بک کلب میں آجکل "گاڈ از ریڈ” پڑھی جارہی ہے۔ میں نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ جب ہم چھوٹے بچے تھے تو میں یہی سمجھتی تھی کہ خدا کا جیسا تصور میرے زہن میں ہے، باقی لوگوں کا بھی بالکل ویسا ہی ہے۔ یہ بات مجھے وقت کے ساتھ سمجھ میں آئی کہ ہر کلچر میں خدا کا تصور مختلف ہونے کے علاوہ ہر انسان کا بھی خدا کا تصور مختلف ہے۔ یہ تصورات وقت کے اور عمر کے ساتھ بدلتے بھی جاتے ہیں۔ کچھ لوگ بلآخر یہ سمجھ جاتے ہیں کہ کچھ جواب معلومات کے دائرے سے باہر ہیں اور یہ خیالات انسانوں کے اپنے ہی ہیں۔ اوکلاہوما کے شہری ہونے لحاظ سے مجھے اس علاقے اور اس کے اصلی باسیوں کے ماضی میں دلچسپی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے نہ صرف مجھے شمالی امریکہ کی ریڈ انڈین تاریخ سے مزید آگاہی ہوئی بلکہ ان کے مذاہب اور روحانیت کو سمجھنے کا موقع ملا۔
گاڈ از ریڈ کا پہلا ایڈیشن 1973 میں چھپا تھا۔ اس کو وائن ڈیلورا نے لکھا جو 1933 میں پیدا ہوئے۔ وہ امریکی سول رائٹس موومنٹ کا حصہ تھے۔ پروفیسر وائن ڈیلورا کی باقاعدہ تعلیم قانون اور تھیالوجی کے دائروں میں تھی۔ انہوں نے بہت سی کتابیں اور آرٹیکل لکھے۔ پروفیسر ڈیلورا بیسویں صدی کے ریڈ انڈین تاریخ ، سیاست، تہذیب اور مذاہب کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ پروفیسر ڈیلورا اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ یورپی لکھاریوں نے ریڈ انڈین افراد کے ایسے تصور پیش کیے ہیں جو حقیقت سے دور ہیں۔ سفید فام لٹریچر، فلم اور کہانیوں میں یا تو ریڈ انڈین افراد کو معمر اور سمجھدار افراد دکھایا جاتا ہے جو آگ کے گرد بیٹھے ہیں یا پھر وہ جنگجو وحشی ظاہر کیے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں ان تاریخی جنگوں کا بھی زکر ہے جن میں امریکی فوج نے ریڈ اینڈین افراد کا قتل عام کیا۔
اپنی کتاب گاڈ از ریڈ میں پروفیسر وائن ڈیلورا نے امریکہ میں تاریخ کی تعلیم پر کڑی تنقید کی ہے۔ امریکی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتابیں سفید فام یورپی فاتحین نے اپنے نقطہء نظر سے لکھی ہیں جن میں ریڈ انڈین اقوام کو غیر مہذب اور کم تر ظاہر کرنے کے علاوہ ان کی باقاعدہ نسل کشی اور حق تلفیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ پروفیسر ڈیلورا ایک عام امریکی کی ریڈ انڈین تاریخ سے نابلدیت پر افسوس کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ جب لوگوں کو کسی دائرے میں کچھ معلومات نہ ہوں تو ان کو یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ کیا سوال پوچھے جائیں۔ کہتے ہیں کہ مجھے ایک ریڈیو شو میں بلایا گیا جس کے میزبان نے مجھ سے سوال کیا کہ یورپی افراد کے شمالی امریکہ پہنچنے سے پہلے یہاں کرسمس کیسے منائی جاتی تھی؟ وہ اتنا ہنسے کہ پروگرام کے درمیان وقفہ کرنے کی ضرورت پڑ گئی۔ یہ سوال بالکل ایسے ہے جیسے کوئی پوچھے کہ سندھ میں عربوں کے حملہ آور ہونے سے پہلے یہاں عید کیسے منائی جاتی تھی؟
ریڈ انڈین امریکی آبادی کا صرف 2 فیصد حصہ ہیں۔ کافی ریڈ انڈین افراد بظاہر ریڈ انڈین دکھائی نہیں دیتے کیونکہ وہ یوربی اور ریڈ انڈین مخلوط نسل سے ہیں۔ اوکلاہوما ان علاقوں میں شامل ہے جہاں ریڈ انڈین افراد کی بستیاں ہیں جہاں وہ آج بھی مسائل کا شکار ہیں۔ کافی سارے امریکی اس بات سے بے خبر ہیں کہ ریڈ انڈین آج بھی باقی ہیں۔ کافی سارے لوگوں نے اپنی ساری زندگی میں کوئی ریڈ انڈین نہیں دیکھا ہوتا اور جب وہ ان کو پہلی بار دیکھیں تو ہکا بکا ہوکر پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ آج بھی زندہ ہیں؟ ہم سمجھتے تھے کہ آپ کی نسل ختم ہوچکی ہے۔ اوکلاہوما سٹی کے اسکولوں میں یہ مہم چل رہی ہے کہ لفظ "ریڈ اسکن” کو استعمال کرنا چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس کے پیچھے ایک خونی تاریخ ہے۔ فرانسیسی اور یورپی حکومت ریڈ انڈین افراد کو قتل کرنے پر لوگوں کو باقاعدہ معاوضہ دیتی تھی۔ ایک ریڈ انڈین آدمی، عورت یا بچے کو مارکر اس کی لاش دکھا کر یہ معاوضہ وصول کیا جاسکتا تھا۔ جب لاشوں کا ڈھیر قابو سے باہر ہونے لگا تو یہ کہا گیا کہ ماتھے سے لیکر کولہے تک کی کھال جمع کرا کے یہ پیسے وصول کیے جاسکتے ہیں۔ اس کھال کو ریڈ اسکن کہتے تھے۔
1889 کا لینڈ رن اوکلاہوما کی تاریخ کا سیاہ باب تصور کیا جاتا ہے جس میں حکومت نے یورپی افراد کو اجازت دی کہ وہ ان علاقوں میں گھس جائیں اور زمین پر قبضہ کرلیں۔ لوگ گھوڑے، بگھیاں لے کر بھاگے اور ان زمینوں کے مالک بن گئے جہاں بچے کھچے ریڈ انڈین آزادی سے رہتے تھے۔ کچھ سال پہلے تک ہر سال لینڈ رن ایک تہوار کی طرح منایا جاتا تھا جس میں اسکول کے بچے لینڈ رن کی ایکٹنگ کرتے تھے۔ مقامی افراد کے احتجاج کے بعد اس میں کمی واقع ہوئی۔ ان سیاسی کارکنوں نے عوام کی توجہ تاریخ کی بدانصافیوں کی جانب دلانے پر زور دیا۔ تاریخ کا بلاتعصب مطالعہ ضروری ہے ورنہ آنے والے انسان وہی غلطیاں دہراتے رہیں گے جو ان سے پہلے ہوچکی ہیں۔
سفید فام یورپی افراد زیادہ تر عیسائی تھے جو مقامی شمالی امریکی مذاہب اور روحانیت کو نہیں سمجھتے تھے۔ وہ ریڈ انڈین افراد کی قبریں کھود کر ان کے تیر کمان، موتیوں کے زیورات اور ہڈیاں چراتے تھے۔ کچھ تحقیق دانوں نے بھی نادانستگی میں ریڈ انڈین افراد کے عقائد کی توہین کی۔ انہوں نے ایک قبیلے کے افراد کے ڈی این اے کی مدد سے یہ بتایا کہ وہ ایشیا سے آئے تھے۔ اس قبیلے کے افراد اس بات سے بہت ناراض ہوئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا قبیلہ گرینڈ کینین سے شروع ہوا تھا۔ قبروں میں سے سامان نکالنا تو واضح طور پر غلط دکھائی دیتا ہے لیکن ریسرچ کے دائرے میں ایک میڈیکل سائنسدان ہونے کے لحاظ سے یہ نقطہ سمجھنا اور ہضم کرنا میرے لیے زاتی طور پر بہت مشکل ہے۔ کیونکہ مجھے سائنس اور انسانی تاریخ کی معلومات سے لگاؤ ہے اور اگر سچ سامنے لانے سے کسی کے خیالات کی توہین ہوتی ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ جب سرجری سیکھنے کے لیے ڈاکٹرز نے مردوں کی چیر پھاڑ شروع کی تو اس سے بھی کچھ لوگوں نے توہین محسوس کی۔ یہاں تک کہ دوا یا سرجری سے علاج کرنے کو بھی ابتدائی عیسائی اپنے مذہب کی توہین سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بیماری خدا نے سزا میں دی ہے اور دعا سے علاج کافی ہے۔ میرے خیال میں کسی بھی تنازعے میں تمام لوگوں کو تعلیم یافتہ کرنا اور ایک باہمی معاہدے پر پہنچ جانا ضروری ہوگا۔ جیسا کہ جب کسی کا ڈی این اے کا نمونہ لیا جائے تو اس پر کوئی بھی تحقیق کرنے سے پہلے اجازت لے لینا مناسب ہوگا۔
اگر ہمارے اندر طاقت ہو تو کیا ضروری ہے کہ یہ طاقت آزمائی بھی جائے؟ ڈاکٹر سہیل جب اوکلاہوما آئے تو ہم لوگ انہیں یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں واقع آرٹ میوزیم میں گھمانے لے گئے۔ وہاں میں اور ڈاکٹر سہیل ایک چھوٹے سے مجسمے کے سامنے پہنچے جس میں ایک شیر اور ایک آدمی سے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ اپنی طاقت کو کس طرح سدھایا جائے۔ ڈاکٹر سہیل نے کہا کہ "معلومات یہ بتاتی ہیں کہ طاقت کے ساتھ کیا کرنا چاہئیے اور دانائی یہ سمجھاتی ہے کہ طاقت ہوتے ہوئے بھی کیا نہیں کیا جائے۔”
ریڈ انڈین نسل کی باقاعدہ نسل کشی اور ان پر یورپی طریقہ حیات لاگو کرنے سے وہ خود بھی اپنی زبانوں اور تہذیب سے کٹتے چلے گئے۔ 1960 کی دہائی میں جب سول رائٹس موومنٹ شروع ہوئی تو ریڈ انڈٰن افراد نے خود اپنی تاریخ، زبان، طریقہء حیات اور مذاہب میں دوبارہ سے دلچسپی لینا شروع کی۔ پرانی دستاویزات سے یہ بات سامنے آنا شروع ہوئی کہ یورپی حکومتوں اور ریڈ انڈین قبائل کے درمیان قانونی معاہدے موجود ہیں جن کو نسل در نسل نظر انداز کرکے ان افراد کی حق تلفیاں جاری اور ساری ہیں۔ 1968 میں پہلی بار ریڈ انڈین افراد نے ان معاہدوں کو نظرانداز کرنے پر مظاہرہ کیا۔ امریکن انڈین ریلجس فریڈم ریزولیوشن پاس کی گئی جس میں ریڈ انڈین افراد کے اپنے مذاہب پر عمل پیرا ہونے کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

زمین گرم ہو رہی ہے۔ دنیا کا درجہء حرارت بڑھنے سے کافی سارے علاقے قابل رہائش نہیں رہے۔ زمین کے گرم ہونے اور اس میں کوڑا بڑھنے کی بڑی ذمہ داری انسانوں پر عائد ہوتی ہے۔ تیل جلا کر گاڑیاں اور فیکٹریاں چلانا، سمندر میں کوڑا ڈالنا اور پودوں اور جانوروں سے بدسلوکی بہت عرصہ نہیں چل پائے گی۔ وہ وقت دور نہیں جب زمین کے وسائل انسانوں کی ضروریات سے کم پڑ جائیں گے۔ پودوں اور جانوروں کی اس پیمانے پر ناپیدی پچھلی دو صدیوں کی طرح انسانی تاریخ میں پہلے نہیں ہوئی ہے۔ یورپی افراد کے شمالی امریکہ پہنچنے کے بعد لاتعداد پودے اور جانور دنیا سے مٹ چکے ہیں۔ امریکی ریاستی اور وفاقی حکومت کا پہلے سے بنائے ہوئے معاہدوں کو ختم کرکے بار بار ریڈ انڈین افراد کی زمین ہتھیانا، تیل نکالنا، پائپ لائن بنانا، پینے کے پانی کی جھیلوں میں فیکٹریوں سے نکلنے والے کیمیائی مادے انڈیلنا اور مقامی مقدس مقامات کو ڈھانا آج بھی جاری ہے۔
گاڈ از ریڈ کتاب میں پروفیسر وائن ڈیلورا نے عیسائیت اور مقامی شمالی امریکی مذاہب کا موازنہ کیا ہے۔ کمپیریٹو ریلیجن پڑھے بغیر ایسا ہی ہے جیسے ایک پزل یا معمے کا ایک ٹکڑا ہمارے ہاتھ میں ہو۔ جب تک ان سب کو ساتھ میں منسلک نہ کیا جائے، پوری تصویر کبھی دکھائی نہیں دے گی۔ عیسائیت خیالات پر مبنی ہے اور ریڈ انڈین مذاہب انسانی حسوں سے حاصل کی گئی معلومات پر مشتمل ہیں۔ ریڈ انڈین قبیلے اور مذاہب انسانوں کے درمیان تعلقات، معاملات اور زمین سے رشتے سے منسلک ہیں جبکہ عیسائیت دنیا ختم ہوجانے کے بعد بچ جانے کے بارے میں ہے۔ ڈیلورا ان خیالات کو عجیب اور مزاحیہ تصور کرتے ہیں۔ عیسائیت میں زمین اور اس میں موجود چرند پرند انسان کے تابع سمجھے جاتے ہیں جن کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے جبکہ ریڈ انڈین مذہب زمین، جانوروں اور ماحولیات کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا نام ہے۔ یہ بات ان کے ناموں سے بھی ظاہر ہے۔ کچھ دلچسپ ریڈ انڈین نام یہ ہیں، پیلا گھوڑا، لال چیتا، طاقت ور ریچھ، بارش، مکئی کی ماں، پھول اور قوس قزح وغیرہ۔ ریڈ انڈین امریکی براعظم کو جس طرح جانتے تھے اور اس کی زمین اور جانوروں کو سمجھتے تھے، یہاں آکر بس جانے والے مہاجرین کبھی نہیں سمجھ پائیں گے۔ 95 ملین اس تاریخی نسل کشی میں ختم ہوجانے والے ریڈ انڈین اس معلومات کے خزانے کو اپنے ساتھ لے جا چکے ہیں جو انہوں نے اپنے پرکھوں سے صدیوں پر مشتمل ماضی سے حاصل کی تھیں۔
پروفیسر وائن ڈیلورا کے مطابق عیسائیت امریکی براعظم کے کنارے سے ٹکرا کر ان گنت فرقوں میں ٹوٹ کر بکھر گئی، بالکل ایسے ہی جیسے مقامی قبائل اپنی زمین کی دھن سے جڑے رہنے کے کوشش میں مختلف دھڑوں میں بٹتے رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شائد اس براعظم کی طبعیت میں شامل ہے کہ تقسیم اس کی سب سے بڑی خاصیت ہے اور یہ آزاد اور ناقابل تسخیر ہے۔




