تصورِ صدمہ ، صدماتی و تاریخی متون
اگر ہم گزشتہ سو برس کی انسانی تاریخ کی تجسیم کریں تو اس کا چہرہ جنگ زدہ ہوگا۔ جنگ ، تشدد اور نفرت یہ وہ تین عناصر ہیں جن سے جدید تر انسان کا خمیر اٹھتا ہے۔جنگ سے براہِ راست متاثر ہونے والے شاہدین یا تو نامعلوم زمینوں کا رزق بن جاتے ہیں یا دورانِ جنگ ایک صدمے کاشکار ہوجاتے ہیں ، یہ صدمہ بنیادی طور پر اس وقت کے انسانی سماج میں مروج سماجی، علمیاتی ، اور تخلیقی اظہاریوں کے نمونوں کو توڑتا ہے۔ صدمہ یا Trauma مختلف النوع تخلیقی اظہاریوں میں لخت پن ، بین المتونیت ، تکرار، اورلسانی تجربات( تشکیلات) وغیرہ کو جگہ دیتا ہے ، یہ وہی خصائص ہیں جو سماج میں مابعد جدیدیت کے چلن کے نمائندہ ٹھہرتے ہیں ۔
بیسویں صدی میں مابعد جدید صدماتی متون کے حوالے سے بہترین مثال معروف امریکی ناول نگار ، افسانہ نویس اور نقاد William H. Gass کی ہے۔جن کے متون کو اس حوالے سے بہت نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ صدمہ یا Trauma Theory بنیادی طور پر ہے کیا؟ اس کی سب سے نمایاں خاصیت یہ ہے کہ صدمہ متاثرین کے لاشعور کا ایک ناقابلِ حل مسئلہ ہوتا ہے جو دروں سے بیروں کی طرف تجربات کے تضادات اور زبان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔گویا صدمہ اور صدمے کے تجربات کا اظہار ایک طرح سے آپ کو اپنے عہد کی درست تصویر کشی فراہم نہیں کرتا۔ لاکاں کے تصور کی روشنی میں ’’ناموجودگی‘‘ کے اس تواتر سے ظہور پذیر ہونے کے زیرِ اثر شدید نوعیت کے تجربات زبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں یعنی زبان اس شدت کو اپنے دائرہ ِ کار میں لانے میں ناکام رہتی ہے لہٰذا دکھ اور شدت کی لسانی قدر محفوظ نہیں رہ پاتی سوائے حوالہ جاتی قدر کے۔
صدمہ چونکہ آپ کے شعور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکا ہوتا ہے لہٰذا اس تباہ شدہ شعوری رو کے طفیل متشکل ہونے والے متون کی تاریخی حیثیت مشکوک ٹھہر جاتی ہے۔ انسان کے neurobiological یا اعصابی لوازمات اس سمے کے تشدد اور جبر سے خود کو علاحدہ کردیتے ہیں اور یہ ایک فطری عمل ہے گویا جبر یا تشدد کو مجموعی تصویرایک فاصلے سے بنتی ہے یا مجموعی سماجی بیانیوں سے اخذ شدہ نتائج کی صورت حال کو متون پر منطبق کیا جاتا ہے۔ایسا سماج جو تواتر سے صدمات کا شکار ہو اس کی متنی تصویر کشی مختلف تخلیقی یا غیر تخلیقی اظہاریوں میں ظاہرہوتی ہے مثلاً ادبی تخلیقات ، صحافیانہ اظہاریے ، نصاباتی فکشن ، بصری بیانیے ، تاریخی دستاویزات اور ان دنوں سوشل میڈیاوغیرہ۔
پاکستان میں تواتر سے ظہور پذیر ہونے والے تاریخی طور پر ناقابلِ تردید واقعات اور ان کی بدیہی تفاصیل کی تفہیم صدماتی متون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔فکشن نگار فوری طور پر ان صدمات پر ناول یا کہانیاں تخلیق کرتے ہیں اور انہیں ان کی حتمیت پر یقین ہوتا ہے ۔ بھلے وہ صدمات انہوں نے خود جھیلے ہوں لیکن صدمے کا مطالعہ تحلیلِ نفسی کے طریق ِ کار کے مطابق کیا جائے تو وجوہات کچھ اور نکلتی ہیں ۔صدمے کی صورت میں فوری اظہار ضروری نہیں احتجاجی یا شدتِ غم ہی ہو یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ شدتِ حظ کا شاخسانہ ہو۔
مثال کے طور پر سگمنڈ فروئڈ کے پاس ۱۹۰۰ میں ایک ایک نوجوان لڑکی ڈورا کو لایا گیا ۔ ڈورا کی عمر اس وقت ۱۸ برس تھی۔ اس لڑکی کے والدین کو اس کی میز پر ایک کاغذ پر تحریر شدہ ایک عبارت ملی جس میں اس نے خود کشی کرنے کی دھمکی دی تھی۔یہ لڑکی چونکہ نفسیاتی مسائل کا شکار تھی لہٰذا فروئڈ نے اس سے خوابوں کے بارے دریافت کرنا شروع کیا ( جیسا کہ عمومی طور پر ماہرینِ نفسیات کرتے ہیں)۔ اسی دوران فروئڈ کو معلوم ہوا کہ لڑکی کے والد کا ایک دوست ( جسے وہ مسٹر کے کا نام دیتا ہے) نے چودہ برس کی عمر میں اس کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ جس کے ردِ عمل کے طور پر ڈورا نے شدید غصے کا اظہار کیا اور وہ شور مچاتی ہوئی باہر بھاگ گئی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ فروئڈ کے نزدیک ایسا ردِ عمل دراصل اعصابی تھا جو کہ چودہ سالہ بچی میں جنسی جوش ( حظ) کا نتیجہ تھا۔
گویا صدمے کی کیفیت میں فوری اظہار چونکہ ردِ عمل ہوتا ہے اور اس ردِ عمل کی تجسیم کے دوران مروج لسانی اور اظہاری نمونے توڑ پھوڑ کا شکار ہورہے ہوتے ہیں لہٰذا ایسے اظہاریوں کے مروج معنی لادرست ہوں گے ہمیں ایسے معاملات کا گہرا مطالعہ کرنا ہوگا۔انسان کو درپیش مختلف النوع بے چینیاں مروج لسانی ڈھانچے سے پرے کسی شے کا نام ہوتی ہیں ۔ لہٰذا اس کے لیے بہترین طریق ردِ تشکیلیت ہے ۔ جے اے کڈن لغت برائے ادبی اصطلاحات میں ردِ تشکیلیت کی یوں وضاحت کرتا ہے،’’ متن ظاہر میں جامد اور یک معنوی تفہیم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا معنی اس سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے۔
اس کا مطالعہ ایسے بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس میں معنوی تکثیریت ، یا بہت سے تغیرات ، تضادات اور اختلافی مضامین ہوسکتے ہیں جو اس تنقیدی تصور سے دیکھے جا سکتے ہیں اس لیے یہ کہنا بہتر ہوسکتا کہ متن خود کو بھی دغا دے سکتا ہے‘‘۔’’پس ردِ تشکیلیت کو ہم متنی ہراس پن یا پھر مطالعہ برائے درونی تضادات کو ہویدا کرنا یا متنی عدم استحکام کی نقاب کشائی کرنا اور بظاہر وحدت کو عدم وحدت میں تبدیل کرنا کہہ سکتے ہیں جو تصورِ وحدت کے دروں بھی موجود ہوتا ہے‘‘۔ا ب متون کے مطالعہ کے لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ جن متون کا مطالعہ کیا جارہا ہے وہ تاریخی حقائق ہیں یا صدمے کی صورت میں متشکل ہونے والے متون۔
مثلاً حال میں بھارت سے شائع ہونے والی کتابThe Spy Chronicles: RAW, ISI and the Illusion of Peace کا مندرجات کو ہم کس تناظر میں دیکھیں ؟کیا ان کا مطالعہ قراۃالعین حیدر کے ناول آگ کا دریا، عبداﷲ حسین کے اداس نسلیں ، مستنصر حسین تارڑ کے راکھ اور خس و خاشاک زمانے ، سعادت حسن منٹو کے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ ، احمد ندیم قاسمی کے افسانے پرمیشر سنگھ ، خشونت سنگھ کے ناول Train to Pakistan ، امیتاو گھوش کے ناول The Shadow Lines ، یا محترمہ ممتاز شاہ نواز کے ناول The Heart Divided کی طرح کریں گے جو بہرحال صدماتی متون میں مد میں آتے ہیں ، یا پھر ایک تاریخی اور حقیقی متن کے طور پر ۔ چونکہ تاریخی متون کی حیثیت دستاویزی ہوتی ہے جس کے دو معنی نہیں ہوسکتے ۔ فیصلہ اب متعلقین اور قارئین کا۔


