َچُمّی کی حمایت میں ایک کالم

چُمی یقینا آپ کو ایک غیر پارلیمانی یا غیر اخلاقی لفظ لگ رہا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو آپ یہ طے کررہے ہیں کہ الفاظ بھی تناظرات اور موقع محل کی مناسبت سے تبدیل ہوتے ہیں اور بعض اوقات معنی بھی بدلتے ہیں۔ لہٰذا کالم کے عنوان میں لفظ چُمی کو دانستہ استعمال کیا گیا…

Read more

آئن سٹائن کے ابنارمل دماغ کی چوری سے حاصل شدہ معلومات

آئن سٹائن 14 مارچ 1879 کو جرمنی میں ایک سیکولیر یہودی خاندان میں پیدا ہُوا جب کہ اس کی موت 18 اپریل 1955 کو امریکی ریاست نیو جرسی میں ہوئی جہاں وہ 1933 میں گیا بعد ازاں وہ بطورتارکِ وطن کے طور پر رہا۔ بعد ازاں اسے 1940 میں امریکی شہریت مل گئی۔ اس سے…

Read more

وزیرِا عظم صاحب اور ہیرو پنتی کا آخری موقع

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے۔ اسی کی دہائی کے ہر بچے کی طرح عمران خان اس قوم کا ہیرو تھا۔ کسی بچے سے سوال کیا جاتا کہ بڑے ہو کر کیا بننا پسند کرو گے تو وہ جواب دیتا۔ عمران خان۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے اپنے کمروں کی دیواروں پہ فلمی ستاروں کی تصاویر کی جگہ عمران خان کے پوسٹرز لگائے ہوتے تھے۔ بھارتی اداکارئیں ہوں یا مغربی حسینائیں سب کی سب اس کی وجاہت کی اسیر تھیں۔ بحیثیت ایک فاسٹ باؤلر اس کی الگ ہی شان تھی، عمران خان جب کرکٹ گراؤنڈ میں مخالف ٹیم کے بیٹسمین کی طرف بھاگ رہا ہوتا تو اس کے قدموں کی دھمک اسٹیڈیم اور ٹی وی سکرینز کے سامنے بت بنے ناظرین کے دلوں پر محسوس ہوتی۔

Read more

کیا پاکستان میں انصاف کا راستہ پتلون سے ہوکر گزرتا ہے؟

نیب پاکستان کی معاصر تاریخ کا سب سے طاقت ور ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کے اختیارات شاید عدلیہ سے بھی زیادہ محسوس ہوتے ہیں، یقینا اُس کا سربراہ [جن کے بارے میں تمام جماعتوں کا متفقہ موقف تھا کہ یہ اچھی شہر ت کے حامل ہیں] بھی یقینا…

Read more

کولمبیا: دنیا کا سب سے بڑا چکلہ

کولمبیا برِاعظم جنوبی امریکہ کی ایک آزاد ریاست ہے۔ پانچ کروڑ نفوس کی آبادی پر مشتمل اس ملک کی سرحدیں، پانامہ، وینزوئیلا، برازیل، ایکواڈرو، اور پیرو سے ملتی ہیں۔ بگوٹا شہر اس کا دارالخلافہ ہے۔ کولمبیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے ان ممالک میں نیوزی…

Read more

ننگے لوگوں کی ننگی کہانی

ایک تاریک کمرا، جس میں ایک ٹوٹی ہوئی ادوائن سے بنی ہوئی چارپائی

کردار : ٹی ٹُو : ایک چھوٹے سر والا ابنارمل نوجوان
نایاب : ٹی ٹُو کی شادی شدہ بڑی بہن جس کے پاس ٹی ٹُو رہتا ہے
ملک شہ سوا ر: ایک اکھڑ مزاج، کریہہ الشکل ظالم شخص جو نایاب کا شوہر ہے اور جسے ٹی ٹُو سے سخت اذیت ہے جو چاہتا ہے کہ کب ٹی ٹو مرے اور ساری جائیداد اس کی اہلیہ اور اس کے نام ہوجائے۔
۔

منظر : ایک کمرے کا منظر ہے، کمرے تاریک ہے اور سپاٹ لائٹ میں ایک چارپائی کو دکھایا جاتا ہے جس پر ٹیٹو ( شاہ دولا۔ یعنی چھوٹے سر والا ) بیٹھا ہوا ہے۔ جس کا پاؤں چارپائی کے ایک پائے سے زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا ہے تاہم تماشائیوں کو اس کا معلوم نہیں ہوتا۔ ٹیٹو یوں بیٹھا ہوا ہے جیسے کوئی کتاب پڑھ رہا ہو تماشائیوں کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ ذہنی معذور شخص ہے جب کے اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ ہوتی ہے اس میں سے ایک گیند نیچے گرتی ہے تو ٹی ٹو اسے پکڑنے کے لیے چھلانگ لگاتا ہے تاہم زنجیر چارپائی کے ساتھ بندھی ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ اس گیند تک نہیں پہنچ پاتے۔

Read more

ہالی وڈ فلم یونائیٹڈ 93 : صدماتی فکشن

قوموں کی سیاسی زندگی میں بیانیاتی اونچ نیچ ان کے عروج و زوال کی داستانوں کی شرح ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ خاص کر علمی میدان میں طاقت ور اقوام درپیش صدمات کی بعد از صدماتی تاریخی ٹائم لائن پر متوازی تاریخیت کے حوالے سے ایسی فکشن سازی کرتی ہیں کہ صدمہ کی وجوہات اور ناکامیاں درپردہ خیالیہ تک ہی محدود رہ جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ متوازی تاریخی بیانیے سیاسی مقاصد کے حصول اور سماجی بیگانی کی تشکیلِ نو کے لیے اختراع کیے جاتے ہیں۔

نو گیارہ یعنی معروف نائن الیون کے سانحے نے جہاں عالمی سیاسی ترتیب کو مجروح کیا اور اس کی ترتیبِ نو کی، وہیں امریکی سماج کو بری طرح سے جھنجھوڑا۔ نو گیارہ کا واقعہ چونکہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ماضی ہم تک متن کی صورت میں آتا ہے لہٰذا اس پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کہ : نظریہ ( آئیڈیالوجی) ، اور مقامی و بدیسی شرحیں۔ ان سب میں سے اصل واقعے کی کھوج ایک نہایت مشکل عمل ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں نوتاریخیت ایک ایسا تنقیدی تناظر رہ جاتا ہے جس کے تصورِ ’دستاویزیت ”یا Archival تسلسل کے ذریعے ہم اصل واقعے اور صدمے کی درست تفہیم تک پہنچ سکتے ہیں۔

Read more

اور مسجد کا خادم چلا گیا!

خادم چلا گیا! خادم کا نام کیا تھا شاید مسجد میں جانے والے باقاعدہ نمازیوں کو علم ہو مجھ سے موسمی پرندوں کو بس اتنا معلوم تھا کہ ہماری مسجد میں ایک بزرگ تھا جسے سب خادم کہتے تھے۔ چونکہ خادم سے ہمارا کسی قسم کا کوئی مفاد وابستہ نہ تھا لہٰذا وہ ان کرداروں میں شامل تھا جو سامنے ہوتے بھی ہیں اور نہیں بھی۔ یادداشت کا ایک اپنا مفاداتی نظام ہے۔ یہاں بسنے والے چہروں میں دو قسم کے چہرے طویل المدتی قیام کرتے ہیں ؛ پہلے وہ جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہو، جب تک مفاد کی بیلوں پر پھول ہیں یہ چہرے ہماری یادداشتوں میں محفوظ ہیں۔

اور دوسرے وہ جن سے ہمارا ”محبت“ کا تعلق ہوتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہماری یادداشتوں کا حصہ بہت محدود مدت کے لیے بنتے ہیں۔ جیسے کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ان سے کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا لہٰذا دل کے کسی پلاٹ میں ان کے نام کی کوئی تختی مختص نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں میں اکثر کے ساتھ ہمارا روز مرہ کی بنیاد پر سامنا بھی ہوتا ہے لیکن جلد ہی یہ ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ ان افراد میں ڈرائیور، خاکروب، دکاندار، حجام، چوکیدار، اخبار فروش، دودھ فروش، کیبل والا، بجلی، گیس، موٹر مکینک، اور مساجد کے خادم و خطیب صاحبان ہوتے ہیں۔

Read more

اپنے حصے کی چادر

ریل گاڑی کے آنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ اس نامعلوم دورانیے کا لطف اٹھانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر بنے ہوئے ایک ڈھابے سے چائے کی ایک پیالی پی لینے سے سرما کی بارش کا لطف دوبالا کیا جا سکتا تھا۔ ریل کی پٹڑی کے سینے پر اچھلتی بارش کی بوندوں اور ریل گاڑی…

Read more

شبد میں تانیثیت کی تحلیلِ نفسی: ایک مطالعہ

مچل فروئڈ کا دفاع کرتے ہوئے یہ تصور کرتا ہے کہ فروئڈ کا تصورِ نسائیت ”عطا شدہ یا قدرتی“ نہیں تھا۔ اس کے لیے وہ مثال دیتا ہے کہ خواتین کے ہاں مردوں کی طرف جنسی میلان قدرتی نہیں ہوتا بلکہ اس میلان کو سماجی سطح پر اختراع کیا جاتا ہے۔ یعنی وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر مختلف اکائیوں کو بطور ”خاتون“ کے تیار یعنی اختراع کیا جاتا ہے۔ وہ جو ”آلہِ تناسل کے حسد“ کی بات ہوئی وہ آلہِ تناسل سے متعلقہ نہ ہوئی بلکہ اس سے جڑی ہوئی سماجی طاقت سے متعلقہ ہوئی۔

گویا مردوں اور عورتوں میں بنیادی فرق آلہ تناسل کا ہوا۔ سینڈرا گلبرٹ اور سوسن گیوبر کا ماننا ہے کہ اگرچہ خواتین کے ہاں آلہ ِ تناسل یاعضلاتی ارتفاع تو موجود نہیں لیکن اس کا معنی یہ نہ ہوا کہ ن کے ہاں ”مردانگی“ موجود نہیں تاہم انہیں ”خصی“ یا بے طاقت کردیا جاتا ہے۔ اس ساری تمہید کا مقصد مستعار شدہ علمیت کا ڈھنڈورا پیٹنا نہیں تھا بلکہ ”شبد“ کی شاعرہ نینا عادل کی شاعری میں موجود تانیثیت کی تحلیلِ نفسی کرنا تھا۔

Read more