ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور نصاب سازی

عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا ہماری روزمرہ سماجی زندگی کا ایک جزوِ لاینفک بن چکا ہے۔ اگر ہم نسلِ نو کو محض اس کے نقصانات گنوانے پر اکتفا کریں گے، تب بھی وہ اس کے استعمال سے باز نہ آئیں گے۔ دنیا میں بے شمار ایسی ایجادات ہوئی ہیں جو بذاتِ خود تباہ کن نہیں، لیکن ان کا غیر دانشمندانہ یا غلط استعمال انسان کو خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ ہتھیار، گاڑیاں اور متعدد غذائی اجناس اس کی واضح

Read more

اردو ادب میں بائیو ٹیررازم کے موضوع کی غیر موجودگی

1۔ بائیو ٹیرر ازم ( حیاتیاتی دہشت گردی) یہ ایک سنگین اور خطرناک قسم کی دہشت گردی ہے جس میں خطرناک حیاتیاتی ایجنٹس (جراثیم، وائرس، بیکٹیریا، یا زہریلے مواد) کو استعمال کر کے انسانوں، جانوروں یا پودوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے، یا معاشی و سماجی نظام کو درہم برہم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں انسانی سماج کووڈ جیسی بیماری سے برسرِ پیکار رہا جس سے وبائی امراض کی تباہ کن طاقت کا

Read more

کیپیٹل ریئل ازم سے پوسٹ کیپٹل رئیل ازم تک

کیپٹل رئیل ازم کی اصطلاح بیانیوں کا حصہ برطانوی تھیرپسٹ مارک فِشر کی سن 2009 کی کتاب ”کیپٹل رئیل ازم : کیا کوئی متبادل نہیں ہے؟“ کی اشاعت کی وجہ سے بنی۔ جس کے بنیادی قضیہ میں سے چند یہ تھے : : 1۔ سرمایہ داریت ہماری زندگیوں میں اتنی رچ بس گئی ہے کہ اب اس کا دوسرا متبادل معاشی نظام ناممکن ہے۔ 2۔ اب سرمایہ داریت کے دروں ایک قدرتی طور پر ناگزیریت کا عنصر شامل ہو گیا

Read more

دریافت کے میدان سے باہر از ڈاکٹر لبنیٰ فرح

ڈاکٹر لبنیٰ فرح نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں عربی زبان و ادب کی اسسٹنٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی چنیدہ اور معروف مترجم اور انٹرپریٹر ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد تدریسی تجربہ اور ریاستی سطح پر انٹرپریٹیشن کے وسیع تجربے نے ان کی لسانی اور ثقافتی تفہیم کو وسیع کیا ہے جس کی بنا پر پچھلے کچھ برسوں سے انہوں نے عربی افسانوں کو اردو قالب میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ ترجمے سے متعلق انگریزی کتب

Read more

کیا ہمارے مسائل کی ذمہ دار سرمایہ داریت ہے؟

کوئی بھی نظام اپنی فعالیت اور نتائج کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ دنیا میں دو قسم کے نقاد ہوتے ہیں ایک جو ثقافتی دائرے کے دروں رہتے ہیں دوسرے جو ثقافتی دائرے کے بیرون رہتے ہیں۔ نظریہ نظام سے ایک الگ چیز ہے تاہم نظام نظریے سے کٹا ہوا نہیں ہو سکتا، نظریے کا عملی پہلو نظام کی شکل میں واضح ہوتا ہے۔ سرمایہ داریت کو مجھ سمیت ہر وہ شخص برا کہتا ہے جو معاشرے میں سرمائے کی

Read more

پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں

1۔ اگر تھر کے علاقے میں ہر برس نوزائیدہ بچوں کی کثیر تعداد کم خوراکی سے فوت ہوجاتی ہے تو وہاں ہسپتال بنانا اتنا اہم نہیں۔ بلکہ وہاں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے فیکٹریاں اور ملز لگانا زیادہ اہم ہے کہ ان لوگوں کا مسئلہ معاشی ہے ماؤں کی خوراک بہتر ہوگی تو رحم مادر بچوں کو صحت مند رکھے گا۔ 2۔ پاکستان میں اگر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں تو مسئلہ مٹیریل کا نہیں مسئلہ سڑک کے اطراف میں پانی

Read more

راول پنڈی چھاؤنی اور نجی سکول

راول پنڈی چھاؤنی میں ٹیپو روڈ پر ایک نجی سکول کو اس وقت سیل کر دیا گیا جب کہ پرائمری سکول کے بچے اس وقت سکول کے اندر ہی موجود تھے۔ سکول سیل ہونے کی خبر پر چھوٹے چھوٹے بچے خوف کے مارے چیخ و پکار کرتے رہے بالآخر قریبی دکان داروں نے آ کر سکول کھلوایا، اتنی دیر میں بچوں کے والدین بھی پہنچ گئے اور انہوں نے احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ راول پنڈی چھاؤنی سے نجی سکولوں

Read more

کیا ہم اپنے اسٹوڈنٹس کو واقعی اپنے بچے/بچیاں سمجھتے ہیں؟

بہت پرانی بات ہے کہ ہمارا ایک دوست جو ہماری طرح ہی یونی ورسٹی میں پڑھاتا تھا، نے مجھ سے کہا کہ تم لڑکے لڑکیوں کو بیٹا کہہ کر کیوں پکارتے ہو؟ میں نے کہا کہ وہ اس لیے کہ میں انہیں ایسا سمجھتا ہوں۔ وہ ہنس دیا کہ ایسا نہیں ہوتا کیا تم ان طالبعلموں کے لیے بالکل ویسی ہی درد مندی رکھتے ہو جیسی اپنی اولاد کے لیے رکھتے ہو؟ کیا ان کی ذمہ داری ان کے طبعی

Read more

ماضی پرستی اور یادگاروں کی سیاست

ماضی ایک حقیقت جب کہ مستقبل ایک خیال ہے۔ ماضی کو یاد رکھنا یا فراموش کر دینا، ہر دو طرح سے اہم ہے۔ دانش وروں نے اپنے تئیں اس کی بہت سے وجوہات بیان کی ہیں۔ جیسے کہ معروف اسرائیلی مورخ اور ماہر سماجیات یہودا الکانا کا ماننا تھا کہ ”ماضی کو فراموش کر دینا ایک احسن قدم ہے کہ اس طرح آپ اپنے حال یا موجودہ عہد کو زیادہ فعال، بہتر اور مضبوط بنا سکتے ہیں اور اپنے حال

Read more

ہولوکاسٹ سے آرٹیکل 370 تک

یہ کوئی اکیسویں صدی کا ماڈل نہیں بلکہ 1860 میں ہنگری میں پیدا ہونے والے ایک آسٹرین نژاد ہنگیرین یہودی صحافی، ڈرامہ نگار اور جدید صیہونیت کے بانی کی تصویر ہے۔ اس کا نام تھیوڈور ہرزل تھا۔ یہ 44 برس کی عمر میں آسٹریا میں 1904 میں فوت ہو گیا تاہم اس کی قبر یروشلم میں واقع ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے یہودیوں کو ایک الگ وطن کا خواب دکھایا اور اس مقصد کے لیے اس نے فلسطین کی سرزمین کا انتخاب کیا اس کا ماننا تھا کہ بائبل کے مطابق یہ یہودیوں کی سرزمین ہے (دوستو یاد رہے اس نے بائبل کا ذکر کیا تھا) ۔

Read more

کرونا بیتی اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

آج سے سولہ دن قبل مجھے میری ہمشیرہ کا فون آیا جس نے انتہائی پریشانی کی حالت میں مجھے بتایا کہ اس کے میاں کو کرونا ہو گیا ہے۔ بات پریشانی کی تھی لیکن متوقع تھی کہ میرا بہنوئی ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر ہے اور ان دنوں ڈاکٹرز کے بھی کرونا سے متاثر ہونے کے کیسز اسی تواتر سے سامنے آرہے ہیں جتنے کہ عام لوگوں کے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ میرے بہنوئی کو کرونا ہو گیا مسئلہ یہ تھا ان کا گھرانا جو پانچ افراد پر مشتمل ہے، میں ان کے تین بچے دو بیٹیاں جن کی عمر 6 برس اور 4 برس اور ایک بیٹا جس کی عمر محض 6 ماہ تھی شامل ہیں، میں سے کس کس کو کرونا ہوا ہوگا؟

خیر سرکاری ادارہ تھا انہوں نے بہنوئی کو داخل کر لیا اور باقی گھر والوں کا ٹیسٹ لے لیا۔ ٹیسٹ کی رپورٹ دوسرے دن آئی جس سے معلوم ہوا کہ میری بہن اور اس کے 6 ماہ کے بیٹے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور دونوں چھوٹی بچیوں کا منفی یعنی انہیں کرونا نہیں۔ بہنوئی ہسپتال سے گھر آ گیا تاکہ اپنا قرنطینہ مکمل کرسکے۔ اب یہاں ننھیال اور ددھیال کا ایک امتحان شروع ہو گیا کہ ان دو چھوٹی بچیوں کا کیا کیا جائے جو ماں باپ سے الگ تو نہیں رہ سکیں گی۔

کیا انہیں ننھیال میں لے جایا جائے یا ددھیال میں، ابھی ہم اسی کشمکش میں تھے کہ بہن اور بہنوئی نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو آپ لوگ نہ لے کے جائیں کہ ٹیسٹ چوبیس گھنٹے پہلے لیا گیا تھا ممکن ہے ان چوبیس گھنٹوں میں بچے کرونا کیریئر بن چکے ہوں یعنی آپ لوگ رسک نہ لیں۔ ہم کسی طرح مینیج کر لیں

Read more

پھٹی ہوئی شلوار اور ٹک ٹاک کا ”پرینکستان“

ٹک ٹاک چین کی ایک بین الاقوامی کمپنی ByteDance کی ملکیت ہے۔ بنیادی طور پر یہ موبائل فون میں استعمال ہونے والا ایک سافٹ ویئر ہے جس کو انسٹال کر کے آپ مختصر دورانیے کارقص، اپنا ٹیلنٹ، گانوں پر لِپ سنک یا مزاحیہ ویڈیو بنا کر شیئر کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک کے مالک کے نام Zhang Yiming ہے جس کی عمر محض 37 برس ہے۔ ژینگ نے بائٹ ڈانس نامی کمپنی 2012 میں قائم کی اور Toutiao کے نام سے

Read more

ارطغرل غازی ڈرامہ اور کچھ غلط فہمیاں

کچھ دیر قبل پاکستان کے ایک معروف اور سینیئر صحافی کا یو ٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھا جس میں وہ ترکی کے ایک غیر معمولی ڈرامے ارطغرل غازی کے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے پرسخت نالاں دکھائے دیے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ گفتگو بنی جو پاکستان کے معروف فلمی ہیرو کی ایک انگریزی اخبار میں چھپی جس کا ماخذ ان کے کچھ ٹویٹس تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ارطغرل سے یہ دونوں شخصیات سخت نالاں ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ کو دکھانے کی بجائے مقامی ڈرامہ انڈسٹری کو مضبوط کیا جائے۔

Read more

صراطِ حسان پر ایک تحسینی اظہاریہ

نعتیہ ادب محض میلانِ طبع کے طفیل تخلیق کار کو اپنی جانب راغب کرتا بلکہ یہ ایک خاص عطا ہے جن کے لیے خاص دل اور خاص بصیرت چنی جاتی ہے۔ جب تک کوئی تخلیق کار اپنے محبوب یا تصور کی جمالیات سے آشنا نہیں ہوتا وہ اسے لسانی طور پر متشکل نہیں کرسکتا، گویا اپنے تصورِ محبوب کو تہذیبی جمالیاتی پیرائے اور لسانی ذخیرے کے ذریعے دریافت کرنا اور اسے ایک پختہ تر روایت میں ایک نئے، تازہ اور

Read more

خوف اور نصیر احمد ناصر کی نظم

خوف ہر زندہ شے کا جبلی وصف ہے۔ خوف سے خوف زدہ ہونا کم زوری، جب کہ اس کو مینیج کرنا بہادری کی علامت ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی خوف کا سامنا کرتا ہے۔ خوف ایک پردہ ہے جو آپ اُس فعل، تصور، نظریے یا خیال پر تان دیتے ہیں جو آپ کو پریشان کرتا ہے۔ جب کہ خوف ایک انتہائی طاقت ور چیز ہے۔ یہ آپ کو آگے بڑھنے پر مائل کرتا ہے۔ خوف کو

Read more

عشق آباد کی کہانی

کہتے ہیں بھلے وقتوں میں ایک گاؤں تھا عشق آباد۔ گاؤں کا یہ نام کسی من چلے کی شرارت نہیں تھی بلکہ عشق، تکریم اور حیا اس کے باسیوں کا بنیادی وصف تھا۔ کہتے ہیں کہ اچھا نام شخصیت کو اچھا بنا دیتا ہے ایسے ہی عشق آباد میں نسل در نسل عشق، تکریم اور حیا خون کا بنیادی جُز بن کر دوڑتے رہے۔ اس گاؤں میں کسان بھی تھے اور تاجر بھی، مذہبی نمائندے بھی تھے اور آزاد خیال

Read more

پرندوں کی دعا اورلاک ڈاؤن

یہ شہر کا مرکزی پارک تھا۔ بہار کی آمد آمد تھی اور عام دنوں میں بھی یہاں بے پناہ رش ہُوا کرتا تھا۔ شہر کے نئے تعمیراتی ڈھانچے نے جستہ جستہ پڑے ہوئے قدرتی خطوں کو نگلنا شروع کیا تو شہر کے کچھ سمجھ دار ذہنوں نے شہر کے بیچوں بیچ کئی ایکٹر پر مشتمل ایک باغ کی بنیاد ڈالی جوبعدازاں سرکاری تحویل میں آکر پارک بن گیا۔ پارک کے دائیں ہاتھ مرکزی شہر اورکچھ اہم سرکاری دفاتر تھے جب

Read more

َچُمّی کی حمایت میں ایک کالم

چُمی یقینا آپ کو ایک غیر پارلیمانی یا غیر اخلاقی لفظ لگ رہا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو آپ یہ طے کررہے ہیں کہ الفاظ بھی تناظرات اور موقع محل کی مناسبت سے تبدیل ہوتے ہیں اور بعض اوقات معنی بھی بدلتے ہیں۔ لہٰذا کالم کے عنوان میں لفظ چُمی کو دانستہ استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ الفاظ کس طرح سے کریہہ المنظری کا تاثر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر چُمی کے

Read more

آئن سٹائن کے ابنارمل دماغ کی چوری سے حاصل شدہ معلومات

آئن سٹائن 14 مارچ 1879 کو جرمنی میں ایک سیکولیر یہودی خاندان میں پیدا ہُوا جب کہ اس کی موت 18 اپریل 1955 کو امریکی ریاست نیو جرسی میں ہوئی جہاں وہ 1933 میں گیا بعد ازاں وہ بطورتارکِ وطن کے طور پر رہا۔ بعد ازاں اسے 1940 میں امریکی شہریت مل گئی۔ اس سے قبل سولہ برس کی عمر میں آئن سٹائن اپنے والدین کے ہم راہ اٹلی چلا گیا۔ سترہ برس کی عمر میں دیگر نوجوانوں کی طرح

Read more

وزیرِا عظم صاحب اور ہیرو پنتی کا آخری موقع

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے۔ اسی کی دہائی کے ہر بچے کی طرح عمران خان اس قوم کا ہیرو تھا۔ کسی بچے سے سوال کیا جاتا کہ بڑے ہو کر کیا بننا پسند کرو گے تو وہ جواب دیتا۔ عمران خان۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے اپنے کمروں کی دیواروں پہ فلمی ستاروں کی تصاویر کی جگہ عمران خان کے پوسٹرز لگائے ہوتے تھے۔ بھارتی اداکارئیں ہوں یا مغربی حسینائیں سب کی سب اس کی وجاہت کی اسیر تھیں۔ بحیثیت ایک فاسٹ باؤلر اس کی الگ ہی شان تھی، عمران خان جب کرکٹ گراؤنڈ میں مخالف ٹیم کے بیٹسمین کی طرف بھاگ رہا ہوتا تو اس کے قدموں کی دھمک اسٹیڈیم اور ٹی وی سکرینز کے سامنے بت بنے ناظرین کے دلوں پر محسوس ہوتی۔

Read more

کیا پاکستان میں انصاف کا راستہ پتلون سے ہوکر گزرتا ہے؟

نیب پاکستان کی معاصر تاریخ کا سب سے طاقت ور ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کے اختیارات شاید عدلیہ سے بھی زیادہ محسوس ہوتے ہیں، یقینا اُس کا سربراہ [جن کے بارے میں تمام جماعتوں کا متفقہ موقف تھا کہ یہ اچھی شہر ت کے حامل ہیں] بھی یقینا طاقت کا بڑا مرکز تسلیم کیا جانا چاہیے اور واقعتاً کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک دو ویڈیوز گشت کرتے

Read more

کولمبیا: دنیا کا سب سے بڑا چکلہ

کولمبیا برِاعظم جنوبی امریکہ کی ایک آزاد ریاست ہے۔ پانچ کروڑ نفوس کی آبادی پر مشتمل اس ملک کی سرحدیں، پانامہ، وینزوئیلا، برازیل، ایکواڈرو، اور پیرو سے ملتی ہیں۔ بگوٹا شہر اس کا دارالخلافہ ہے۔ کولمبیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے ان ممالک میں نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، آسٹریا، آئس لینڈ، برکینا فاسو، آؤری کوسٹ، جاپان، ناروے، رشیا، فرانس، جرمنی، یونان، بیلجیم، ڈومینیکن ریپبلک، تھائی لینڈ، ہنگری، لیٹویا، لبنان، پانامہ، پیرو،

Read more

ننگے لوگوں کی ننگی کہانی

ایک تاریک کمرا، جس میں ایک ٹوٹی ہوئی ادوائن سے بنی ہوئی چارپائی

کردار : ٹی ٹُو : ایک چھوٹے سر والا ابنارمل نوجوان
نایاب : ٹی ٹُو کی شادی شدہ بڑی بہن جس کے پاس ٹی ٹُو رہتا ہے
ملک شہ سوا ر: ایک اکھڑ مزاج، کریہہ الشکل ظالم شخص جو نایاب کا شوہر ہے اور جسے ٹی ٹُو سے سخت اذیت ہے جو چاہتا ہے کہ کب ٹی ٹو مرے اور ساری جائیداد اس کی اہلیہ اور اس کے نام ہوجائے۔
۔

منظر : ایک کمرے کا منظر ہے، کمرے تاریک ہے اور سپاٹ لائٹ میں ایک چارپائی کو دکھایا جاتا ہے جس پر ٹیٹو ( شاہ دولا۔ یعنی چھوٹے سر والا ) بیٹھا ہوا ہے۔ جس کا پاؤں چارپائی کے ایک پائے سے زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا ہے تاہم تماشائیوں کو اس کا معلوم نہیں ہوتا۔ ٹیٹو یوں بیٹھا ہوا ہے جیسے کوئی کتاب پڑھ رہا ہو تماشائیوں کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ ذہنی معذور شخص ہے جب کے اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ ہوتی ہے اس میں سے ایک گیند نیچے گرتی ہے تو ٹی ٹو اسے پکڑنے کے لیے چھلانگ لگاتا ہے تاہم زنجیر چارپائی کے ساتھ بندھی ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ اس گیند تک نہیں پہنچ پاتے۔

Read more

ہالی وڈ فلم یونائیٹڈ 93 : صدماتی فکشن

قوموں کی سیاسی زندگی میں بیانیاتی اونچ نیچ ان کے عروج و زوال کی داستانوں کی شرح ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ خاص کر علمی میدان میں طاقت ور اقوام درپیش صدمات کی بعد از صدماتی تاریخی ٹائم لائن پر متوازی تاریخیت کے حوالے سے ایسی فکشن سازی کرتی ہیں کہ صدمہ کی وجوہات اور ناکامیاں درپردہ خیالیہ تک ہی محدود رہ جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ متوازی تاریخی بیانیے سیاسی مقاصد کے حصول اور سماجی بیگانی کی تشکیلِ نو کے لیے اختراع کیے جاتے ہیں۔

نو گیارہ یعنی معروف نائن الیون کے سانحے نے جہاں عالمی سیاسی ترتیب کو مجروح کیا اور اس کی ترتیبِ نو کی، وہیں امریکی سماج کو بری طرح سے جھنجھوڑا۔ نو گیارہ کا واقعہ چونکہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ماضی ہم تک متن کی صورت میں آتا ہے لہٰذا اس پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کہ : نظریہ ( آئیڈیالوجی) ، اور مقامی و بدیسی شرحیں۔ ان سب میں سے اصل واقعے کی کھوج ایک نہایت مشکل عمل ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں نوتاریخیت ایک ایسا تنقیدی تناظر رہ جاتا ہے جس کے تصورِ ’دستاویزیت ”یا Archival تسلسل کے ذریعے ہم اصل واقعے اور صدمے کی درست تفہیم تک پہنچ سکتے ہیں۔

Read more

اور مسجد کا خادم چلا گیا!

خادم چلا گیا! خادم کا نام کیا تھا شاید مسجد میں جانے والے باقاعدہ نمازیوں کو علم ہو مجھ سے موسمی پرندوں کو بس اتنا معلوم تھا کہ ہماری مسجد میں ایک بزرگ تھا جسے سب خادم کہتے تھے۔ چونکہ خادم سے ہمارا کسی قسم کا کوئی مفاد وابستہ نہ تھا لہٰذا وہ ان کرداروں میں شامل تھا جو سامنے ہوتے بھی ہیں اور نہیں بھی۔ یادداشت کا ایک اپنا مفاداتی نظام ہے۔ یہاں بسنے والے چہروں میں دو قسم کے چہرے طویل المدتی قیام کرتے ہیں ؛ پہلے وہ جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہو، جب تک مفاد کی بیلوں پر پھول ہیں یہ چہرے ہماری یادداشتوں میں محفوظ ہیں۔

اور دوسرے وہ جن سے ہمارا ”محبت“ کا تعلق ہوتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہماری یادداشتوں کا حصہ بہت محدود مدت کے لیے بنتے ہیں۔ جیسے کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ان سے کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا لہٰذا دل کے کسی پلاٹ میں ان کے نام کی کوئی تختی مختص نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں میں اکثر کے ساتھ ہمارا روز مرہ کی بنیاد پر سامنا بھی ہوتا ہے لیکن جلد ہی یہ ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ ان افراد میں ڈرائیور، خاکروب، دکاندار، حجام، چوکیدار، اخبار فروش، دودھ فروش، کیبل والا، بجلی، گیس، موٹر مکینک، اور مساجد کے خادم و خطیب صاحبان ہوتے ہیں۔

Read more

اپنے حصے کی چادر

ریل گاڑی کے آنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ اس نامعلوم دورانیے کا لطف اٹھانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر بنے ہوئے ایک ڈھابے سے چائے کی ایک پیالی پی لینے سے سرما کی بارش کا لطف دوبالا کیا جا سکتا تھا۔ ریل کی پٹڑی کے سینے پر اچھلتی بارش کی بوندوں اور ریل گاڑی میں بیٹھے مسافروں کا استقبال کرنے والے میزبانوں کی آنکھوں میں ایک سا رنگ تھا۔ میں نے چائے کی ایک پیالی کا آرڈر دیا۔ راولپنڈی

Read more

شبد میں تانیثیت کی تحلیلِ نفسی: ایک مطالعہ

مچل فروئڈ کا دفاع کرتے ہوئے یہ تصور کرتا ہے کہ فروئڈ کا تصورِ نسائیت ”عطا شدہ یا قدرتی“ نہیں تھا۔ اس کے لیے وہ مثال دیتا ہے کہ خواتین کے ہاں مردوں کی طرف جنسی میلان قدرتی نہیں ہوتا بلکہ اس میلان کو سماجی سطح پر اختراع کیا جاتا ہے۔ یعنی وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر مختلف اکائیوں کو بطور ”خاتون“ کے تیار یعنی اختراع کیا جاتا ہے۔ وہ جو ”آلہِ تناسل کے حسد“ کی بات ہوئی وہ آلہِ تناسل سے متعلقہ نہ ہوئی بلکہ اس سے جڑی ہوئی سماجی طاقت سے متعلقہ ہوئی۔

گویا مردوں اور عورتوں میں بنیادی فرق آلہ تناسل کا ہوا۔ سینڈرا گلبرٹ اور سوسن گیوبر کا ماننا ہے کہ اگرچہ خواتین کے ہاں آلہ ِ تناسل یاعضلاتی ارتفاع تو موجود نہیں لیکن اس کا معنی یہ نہ ہوا کہ ن کے ہاں ”مردانگی“ موجود نہیں تاہم انہیں ”خصی“ یا بے طاقت کردیا جاتا ہے۔ اس ساری تمہید کا مقصد مستعار شدہ علمیت کا ڈھنڈورا پیٹنا نہیں تھا بلکہ ”شبد“ کی شاعرہ نینا عادل کی شاعری میں موجود تانیثیت کی تحلیلِ نفسی کرنا تھا۔

Read more

فیض کا تصورِ شناخت اور ثقافت، اورقومیت سے متعلق اکہترواں ابہام

تصورِ شناخت اور عدم شناخت کے بیانیے مابعد نو آبادیات کلامیوں کا ایک بنیادی جُزو رہے ہیں، فیض کے ہاں شناخت کا تصور دو مختلف فکری منطقوں میں ایک طے شدہ مگر منقسم سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ فیض تاریخ کو دورانیہ، جغرافیے کو توسیع، علاقے، طبقات اور زبانوں کو ثقافت کی روح گردانتے ہیں۔ فیض کے نزدیک ثقافت، کسی بھی سماجی اکائی کے مکمل طرزِ حیات کا نام ہے۔ ثقافت کے دو بنیادی لازمے ہیں : نمبر 1 ”ذریعہ“

Read more

واہیات پوزیشنز

تاریخ ایک ایسی طشتری ہے جس میں ہر عہد کے حکمران اپنی پسندیدہ غذا رکھ کر اسے زبردستی دوسروں کو کھلانے پر زور د یتے رہے۔ ہندوستانی تاریخ میں سلطان فتح علی ٹیپو المعروف ٹیپو سلطان کی سیاسی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ شیرِ میسور سے جانا جانے والا یہ مردِ آہن واقعتاً ایک شیر کی طرح برطانوی سامراج کے خلاف برسرِ پیکار رہا اور پھر ایک دن یہ مزاحمت کی علامت وطن کی خاک پر شہید ہوگیا۔ ابتدا میں اپنے والد حیدر علی کی موت کے بعد ٹیپو سلطان نے تنِ تنہا انگریزوں کے خلاف لڑنے کی کوشش کی بعد ازاں اسے نظام الملک اور مرہٹوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت پیش آئی لیکن نظام اور مرہٹے ٹھیک وقت پر ٹیپو سلطان کا ساتھ چھوڑ گئے اور سلطان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آخری محاذ پر وہ شیروں کی طرح لڑتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کرگیا۔

Read more

ہڈیوں سے نمودار ہوتا انتقام

اگست 1990 میں عراقی فوج نے اپنے پڑوسی ملک کویت کی سرزمین پر اپنے قدم رکھے۔ کویت نے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرکے کی تیل کی منڈیوں میں اپنے پڑوسیوں اور تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کی روزی پہ لات مارنے کی کوشش کی تھی۔ کویت کو معلوم نہ تھا (شاید معلوم تھا) کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کویت کا یہ قدم نہ صرف کویت بلکہ عراق اور دیگر عرب ممالک کی نئی تقدیر لکھنے والا تھا۔

Read more

ٹائٹس کی ٹائٹ کہانی

ٹائٹس ایک قسم کا غلاف ہیں جو بالعموم انسانی ٹانگوں پر پایا جاتا ہے بالخصوص خواتین کی ٹانگیں (بقول شخصے) ان سے زیادہ محفوظ، دیرپا اور خوب صورت دکھائی دیتی ہیں۔ ہر انسان کو اپنی مرضی کا لباس منتخب کرنے کا اختیار ہے بشرطیکہ انسان کی مرضی دوسرے انسان کے اندر ہیجان نہ پیدا کردے۔ دنیا میں کئی ممالک (تہذیب یافتہ) میں لباس کے معاملے میں بہت آزادی ہے۔ دیگر آزادیوں کی طرح لباس بھی مختصر ہوتا ہوا چند ایک

Read more

!اُف کیا بچی ہے

پچھلے دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک شو میں سوال پوچھا گیا کہ ’’لڑکا انجان لڑکی کو دیکھ کر کیا کہتا ہے؟‘‘ـــــ اس کے جواب کے طور پر جو مختلف آپشنز دیے گئے تھے اس میں سے ایک تھا ’’ اف کیا بچی ہے!‘‘۔ بچی کی ’’اصطلاح‘‘ کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھیورائز کرنا پڑے گا۔ بچی کے جو سماجی معانی مستعمل ہیں اس میں سب سے پہلا اور معروف معنی جنسِ مخالف کا چھوٹی عمر کا فرد

Read more

ایف اے ٹی ایف اور گرے لسٹ

جی سیون (گروپ آف سیون)یا سات ممالک کا ”گروہ‘‘ اس کرہ ء ارض پہ پھیلے ایک سوپچانوے ممالک میں امیر ترین ممالک کا گروہ شمار ہوتا ہے۔ ان ممالک میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، جاپان، برطانیہ، اٹلی، فرانس، کینیڈا، اور جرمنی شامل ہیں۔ ان ممالک کے پاس پوری دنیا کا 62 فی صد سرمایہ ہے۔ ایسے ہی 28 ممالک کی ایک اور تنظیم یورپی یونین ہے۔ 510 ملین آبادی اور 4475757 مربع کلومیٹر کے علاقے پر اس کی معاشی پالیسی

Read more

ادبی پرچہ ’’لوح‘‘

ادبی پرچہ جات/رسالے کسی عہد کے مختلف دورانیوں ( ماہانہ، سہ ماہی، شش ماہی، سالانہ وغیرہ) پر مشتمل ادبی متون کی دستاویز ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر ان میں شاعری، افسانہ، مضامین، انٹرویوز، ناولٹ، مختلف کتب کے تجزیے، تراجم اور خطوط شامل ہوتے ہیں۔ Nouvelles de la république des lettres کو پہلا ادبی پرچہ/ رسالہ کہا جاتا ہے۔ اس کے مدیر پیئرے بیل تھے جو خود بہت عمدہ لکھاری اور فلسفی تھے۔ یہ رسالہ فرانس سے 1684 میں شائع ہوا۔

Read more

ماں برائے فروخت!

جی ہاں! ماں برائے فروخت۔ یہ کسی اور دنیا کی بات نہیں اسی دنیا کا ذکر ہے جس میں ہم تم رہتے ہیں۔ یہ دنیا جہاں اپنی خوشی کے لیے دوسروں کو دکھ دیا جاتا ہے یا دوسروں کے دکھوں سے اپنی خوشی کشید کی جاتی ہے۔ سروگیسی Surrogacy کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک خاتون باہمی رضامندی سے کسی اور جوڑے کے طے شدہ حمل کو اپنا رحم مستعار دیتی ہے۔

Read more

تصورِ صدمہ ، صدماتی و تاریخی متون

اگر ہم گزشتہ سو برس کی انسانی تاریخ کی تجسیم کریں تو اس کا چہرہ جنگ زدہ ہوگا۔ جنگ ، تشدد اور نفرت یہ وہ تین عناصر ہیں جن سے جدید تر انسان کا خمیر اٹھتا ہے۔جنگ سے براہِ راست متاثر ہونے والے شاہدین یا تو نامعلوم زمینوں کا رزق بن جاتے ہیں یا دورانِ جنگ ایک صدمے کاشکار ہوجاتے ہیں ، یہ صدمہ بنیادی طور پر اس وقت کے انسانی سماج میں مروج سماجی، علمیاتی ، اور تخلیقی اظہاریوں

Read more