کولمبیا: دنیا کا سب سے بڑا چکلہ

کولمبیا برِاعظم جنوبی امریکہ کی ایک آزاد ریاست ہے۔ پانچ کروڑ نفوس کی آبادی پر مشتمل اس ملک کی سرحدیں، پانامہ، وینزوئیلا، برازیل، ایکواڈرو، اور پیرو سے ملتی ہیں۔ بگوٹا شہر اس کا دارالخلافہ ہے۔ کولمبیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے ان ممالک میں نیوزی…

Read more

ننگے لوگوں کی ننگی کہانی

ایک تاریک کمرا، جس میں ایک ٹوٹی ہوئی ادوائن سے بنی ہوئی چارپائی

کردار : ٹی ٹُو : ایک چھوٹے سر والا ابنارمل نوجوان
نایاب : ٹی ٹُو کی شادی شدہ بڑی بہن جس کے پاس ٹی ٹُو رہتا ہے
ملک شہ سوا ر: ایک اکھڑ مزاج، کریہہ الشکل ظالم شخص جو نایاب کا شوہر ہے اور جسے ٹی ٹُو سے سخت اذیت ہے جو چاہتا ہے کہ کب ٹی ٹو مرے اور ساری جائیداد اس کی اہلیہ اور اس کے نام ہوجائے۔
۔

منظر : ایک کمرے کا منظر ہے، کمرے تاریک ہے اور سپاٹ لائٹ میں ایک چارپائی کو دکھایا جاتا ہے جس پر ٹیٹو ( شاہ دولا۔ یعنی چھوٹے سر والا ) بیٹھا ہوا ہے۔ جس کا پاؤں چارپائی کے ایک پائے سے زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا ہے تاہم تماشائیوں کو اس کا معلوم نہیں ہوتا۔ ٹیٹو یوں بیٹھا ہوا ہے جیسے کوئی کتاب پڑھ رہا ہو تماشائیوں کو معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ ذہنی معذور شخص ہے جب کے اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ ہوتی ہے اس میں سے ایک گیند نیچے گرتی ہے تو ٹی ٹو اسے پکڑنے کے لیے چھلانگ لگاتا ہے تاہم زنجیر چارپائی کے ساتھ بندھی ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ اس گیند تک نہیں پہنچ پاتے۔

Read more

ہالی وڈ فلم یونائیٹڈ 93 : صدماتی فکشن

قوموں کی سیاسی زندگی میں بیانیاتی اونچ نیچ ان کے عروج و زوال کی داستانوں کی شرح ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ خاص کر علمی میدان میں طاقت ور اقوام درپیش صدمات کی بعد از صدماتی تاریخی ٹائم لائن پر متوازی تاریخیت کے حوالے سے ایسی فکشن سازی کرتی ہیں کہ صدمہ کی وجوہات اور ناکامیاں درپردہ خیالیہ تک ہی محدود رہ جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ متوازی تاریخی بیانیے سیاسی مقاصد کے حصول اور سماجی بیگانی کی تشکیلِ نو کے لیے اختراع کیے جاتے ہیں۔

نو گیارہ یعنی معروف نائن الیون کے سانحے نے جہاں عالمی سیاسی ترتیب کو مجروح کیا اور اس کی ترتیبِ نو کی، وہیں امریکی سماج کو بری طرح سے جھنجھوڑا۔ نو گیارہ کا واقعہ چونکہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ماضی ہم تک متن کی صورت میں آتا ہے لہٰذا اس پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کہ : نظریہ ( آئیڈیالوجی) ، اور مقامی و بدیسی شرحیں۔ ان سب میں سے اصل واقعے کی کھوج ایک نہایت مشکل عمل ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں نوتاریخیت ایک ایسا تنقیدی تناظر رہ جاتا ہے جس کے تصورِ ’دستاویزیت ”یا Archival تسلسل کے ذریعے ہم اصل واقعے اور صدمے کی درست تفہیم تک پہنچ سکتے ہیں۔

Read more

اور مسجد کا خادم چلا گیا!

خادم چلا گیا! خادم کا نام کیا تھا شاید مسجد میں جانے والے باقاعدہ نمازیوں کو علم ہو مجھ سے موسمی پرندوں کو بس اتنا معلوم تھا کہ ہماری مسجد میں ایک بزرگ تھا جسے سب خادم کہتے تھے۔ چونکہ خادم سے ہمارا کسی قسم کا کوئی مفاد وابستہ نہ تھا لہٰذا وہ ان کرداروں میں شامل تھا جو سامنے ہوتے بھی ہیں اور نہیں بھی۔ یادداشت کا ایک اپنا مفاداتی نظام ہے۔ یہاں بسنے والے چہروں میں دو قسم کے چہرے طویل المدتی قیام کرتے ہیں ؛ پہلے وہ جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہو، جب تک مفاد کی بیلوں پر پھول ہیں یہ چہرے ہماری یادداشتوں میں محفوظ ہیں۔

اور دوسرے وہ جن سے ہمارا ”محبت“ کا تعلق ہوتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہماری یادداشتوں کا حصہ بہت محدود مدت کے لیے بنتے ہیں۔ جیسے کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ان سے کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا لہٰذا دل کے کسی پلاٹ میں ان کے نام کی کوئی تختی مختص نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں میں اکثر کے ساتھ ہمارا روز مرہ کی بنیاد پر سامنا بھی ہوتا ہے لیکن جلد ہی یہ ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ ان افراد میں ڈرائیور، خاکروب، دکاندار، حجام، چوکیدار، اخبار فروش، دودھ فروش، کیبل والا، بجلی، گیس، موٹر مکینک، اور مساجد کے خادم و خطیب صاحبان ہوتے ہیں۔

Read more

اپنے حصے کی چادر

ریل گاڑی کے آنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ اس نامعلوم دورانیے کا لطف اٹھانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر بنے ہوئے ایک ڈھابے سے چائے کی ایک پیالی پی لینے سے سرما کی بارش کا لطف دوبالا کیا جا سکتا تھا۔ ریل کی پٹڑی کے سینے پر اچھلتی بارش کی بوندوں اور ریل گاڑی…

Read more

شبد میں تانیثیت کی تحلیلِ نفسی: ایک مطالعہ

مچل فروئڈ کا دفاع کرتے ہوئے یہ تصور کرتا ہے کہ فروئڈ کا تصورِ نسائیت ”عطا شدہ یا قدرتی“ نہیں تھا۔ اس کے لیے وہ مثال دیتا ہے کہ خواتین کے ہاں مردوں کی طرف جنسی میلان قدرتی نہیں ہوتا بلکہ اس میلان کو سماجی سطح پر اختراع کیا جاتا ہے۔ یعنی وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر مختلف اکائیوں کو بطور ”خاتون“ کے تیار یعنی اختراع کیا جاتا ہے۔ وہ جو ”آلہِ تناسل کے حسد“ کی بات ہوئی وہ آلہِ تناسل سے متعلقہ نہ ہوئی بلکہ اس سے جڑی ہوئی سماجی طاقت سے متعلقہ ہوئی۔

گویا مردوں اور عورتوں میں بنیادی فرق آلہ تناسل کا ہوا۔ سینڈرا گلبرٹ اور سوسن گیوبر کا ماننا ہے کہ اگرچہ خواتین کے ہاں آلہ ِ تناسل یاعضلاتی ارتفاع تو موجود نہیں لیکن اس کا معنی یہ نہ ہوا کہ ن کے ہاں ”مردانگی“ موجود نہیں تاہم انہیں ”خصی“ یا بے طاقت کردیا جاتا ہے۔ اس ساری تمہید کا مقصد مستعار شدہ علمیت کا ڈھنڈورا پیٹنا نہیں تھا بلکہ ”شبد“ کی شاعرہ نینا عادل کی شاعری میں موجود تانیثیت کی تحلیلِ نفسی کرنا تھا۔

Read more

فیض کا تصورِ شناخت اور ثقافت، اورقومیت سے متعلق اکہترواں ابہام

تصورِ شناخت اور عدم شناخت کے بیانیے مابعد نو آبادیات کلامیوں کا ایک بنیادی جُزو رہے ہیں، فیض کے ہاں شناخت کا تصور دو مختلف فکری منطقوں میں ایک طے شدہ مگر منقسم سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ فیض تاریخ کو دورانیہ، جغرافیے کو توسیع، علاقے، طبقات اور زبانوں کو ثقافت کی روح گردانتے ہیں۔…

Read more

واہیات پوزیشنز

تاریخ ایک ایسی طشتری ہے جس میں ہر عہد کے حکمران اپنی پسندیدہ غذا رکھ کر اسے زبردستی دوسروں کو کھلانے پر زور د یتے رہے۔ ہندوستانی تاریخ میں سلطان فتح علی ٹیپو المعروف ٹیپو سلطان کی سیاسی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ شیرِ میسور سے جانا جانے والا یہ مردِ آہن واقعتاً ایک شیر کی طرح برطانوی سامراج کے خلاف برسرِ پیکار رہا اور پھر ایک دن یہ مزاحمت کی علامت وطن کی خاک پر شہید ہوگیا۔ ابتدا میں اپنے والد حیدر علی کی موت کے بعد ٹیپو سلطان نے تنِ تنہا انگریزوں کے خلاف لڑنے کی کوشش کی بعد ازاں اسے نظام الملک اور مرہٹوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت پیش آئی لیکن نظام اور مرہٹے ٹھیک وقت پر ٹیپو سلطان کا ساتھ چھوڑ گئے اور سلطان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آخری محاذ پر وہ شیروں کی طرح لڑتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کرگیا۔

Read more

ہڈیوں سے نمودار ہوتا انتقام

اگست 1990 میں عراقی فوج نے اپنے پڑوسی ملک کویت کی سرزمین پر اپنے قدم رکھے۔ کویت نے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرکے کی تیل کی منڈیوں میں اپنے پڑوسیوں اور تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کی روزی پہ لات مارنے کی کوشش کی تھی۔ کویت کو معلوم نہ تھا (شاید معلوم تھا)…

Read more

ٹائٹس کی ٹائٹ کہانی

ٹائٹس ایک قسم کا غلاف ہیں جو بالعموم انسانی ٹانگوں پر پایا جاتا ہے بالخصوص خواتین کی ٹانگیں (بقول شخصے) ان سے زیادہ محفوظ، دیرپا اور خوب صورت دکھائی دیتی ہیں۔ ہر انسان کو اپنی مرضی کا لباس منتخب کرنے کا اختیار ہے بشرطیکہ انسان کی مرضی دوسرے انسان کے اندر ہیجان نہ پیدا کردے۔…

Read more