لالہ شنکر پرساد اور مولوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مسجد کے دروازے سے نکل کر  ہمارے گاؤں کے بازار میں سب سے پہلے دکان  شنکر پرساد کی ہے۔
بچپن میں مولانا صاحب سے پٹی پڑھنے مسجد جاتے تھے تو واپسی پر لالہ جی کی دکان سے ایک روپیہ کے پاپڑ اور ایک چورن ضرور لیتے تھے۔ جب بھی ہم لالہ کی دکان پر جاتے تو لالہ پوچھتا چلو بیٹا آج کیا پڑھا ہے مجھے بھی ذرا سناؤ۔ جو زیادہ ٹھیک سناتا تو لالہ اس کو ضرور کوئی چیز مفت میں دے دیتا۔ ہم سبق دو وجوہات کی بنا پر یاد کرتے تھے ایک استاد جی کے مار سے بچنے کے لیے اور دوسری لالہ جی سے انعام پانے کے لئے۔

مجھے اکثر پچھلا سبق بھول جاتا تھا تو مسجد جانے سے پہلے ایک بار لالہ جی کے پاس جا کر یاد کرتا کہ استاد جی کے مار سے بچا جا سکے اور مسجد میں اس لیے یاد کرتا تھا کہ لالہ جی سے انعام مل جائے۔

رمضان المبارک کے مہینے میں افطاری کے وقت ہم سب بچوں کو گھروں سے باہر کردیا جاتا کہ روزہ دار آرام و سکون سے افطاری کر سکیں۔ تو ہم سب لالہ جی کی دکان پہ اکٹھے ہو جاتے۔ اکثر افطاری کے وقت گھر پہ  کسی چیز کی ضرورت  پڑتی تو ہم بھاگ کر لالہ کی دکان سے لاتے کیونکہ باقی دکانیں بند ہوتی تھی تو لالہ اور مسجد کے مولانا صاحب دکان میں دسترخوان پر ساتھ افطاری کرتے تھے۔ مولانا صاحب کا اپنا گھر ہمارے گاؤں میں نہیں تھا۔   کھانا لالہ جی کے گھر سے آتا تھا۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ لالہ جی اور استاد جی آپس میں بھائی ہیں۔ دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ گاؤں میں ہر کام لالہ جی اور مولانا صاحب کے مشورے سے ہوتا تھا۔

ہم محلے میں شام کو کرکٹ کھیلا کرتے  تھے تو اکثر  لالہ جی کی  آواز آتی  ”بیٹا بس کرو۔ چلو جلدی کروں نماز کا وقت ہوچکا ہے“۔
لالہ جی کی صبح صبح آواز آتی ”مولوی صاحب کب تک سوتے رہو گے آٹھ جائے تہجد کا وقت نکلتا جا رہا ہے“۔ مولانا صاحب کہتے ”ہائے لالہ جی آپ بھی بڈھے ہو گئے ہیں۔ نیند آپ کو بھی نہیں آتی آج کل“۔ میری آنکھ اکثر لالہ اور مولانا صاحب کی باتوں سے کھولتی تھی۔ ایک رات لالہ جی کی آواز پر مولانا صاحب نے کچھ نہیں کہا اور وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

کئی سال گزر گئے لیکن مجھے نہیں پتہ چلا تھا کہ لالہ جی مسلمان نہیں۔ اچھا ہندو ہے تو کیا ہوا لالہ جی بہت باشعور اور بہترین انسان ہیں۔
لالہ جی جی کی باتوں کے بغیر ساری گاؤں کی  کہانیاں ادھوری ہیں ۔

مولانا صاحب کی موت کے بعد ایک نیا مولوی مسجد میں آیا۔ سب سے پہلے اس نے پرانے استاد جی کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ پھر کہا کہ ہندو سے لین دین کرنا جائز نہیں۔ پھر کہا کہ چونکہ لالہ کی دکان کی دیوار مسجد کی دیوار سے لگتی ہے تو لالہ کو ادھر سے دکان خالی کرنا ہوگا حالانکہ مسجد والی زمین بھی لالہ نے  مرضی سے عطیہ دیا تھا۔ آجکل مولوی اس لالہ جی کی دکان میں اپنا کاروبار چلا رہا ہے۔ لیکن لالہ نے سب کچھ برداشت کر لیا۔ کیونکہ لالہ جی اسی گاؤں اور اسی مٹی کا ہے جب کہ مولوی باہر کا بندہ ہے۔

پیچھلی شام لالہ جی ملا۔ میں نے حال احوال پوچھا تو لالہ جی رونے لگا۔ میں نے پوچھا لالہ جی کیوں خیریت ہے کیا ہوا؟
لالہ جی کہنے لگا کہ بیٹا اسلام تو چودہ سو سال پہلے آیا ہے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ نیا مولوی کدھر سے پڑھ کر آیا ہے۔ اب دیکھو بیٹا پورے محلے میں پانی نہیں سب لوگ مسجد سے پانی بھر کر لے جا رہے ہیں لیکن مولوی صاحب نے کہہ دیا ہے کہ مسجد کا پاک پانی کوئی ہندو استعمال نہیں کرسکتا۔ گھر میں پانی نہیں۔ ساری زندگی اس مٹی میں گزری سب کچھ برداشت کیا صرف اس لیے کہ مجھے اس دیس سے، اس مٹی سے محبت ہے۔ میں اس پاک مٹی میں  مرنا چاہتا ہوں۔ پتہ ہے بیٹا کربلا کفر و اسلام کی جنگ نہیں وہ ایک ظالم اور ایک مظلوم کی کہانی ہے“۔

میں نے کہا ”لالہ جی آپ پریشان نہ ہو میں مسجد سے آپ کے لیے  پانی بھر کر لاتا ہوں“۔ لیکن مسجد کے دروازے پر مولوی نے مجھے روک کر کہا ”ہندوؤں سے دوستی کرنے والا اسلام سے خارج ہے اس لئے آپ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے “۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •