یہ بھی تو ممکن ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے روم میٹ جن کی عمر لگ بھگ 58سال کے قریب ہے اور 31 جولائی2018 کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں بتاتے ہیں کہ“ ان کے والد محترم ایسی جگہ بیٹھ کر کھانا تناول نہیں فرماتے تھے جہاں روٹی والی چنگیر ان کے پاؤں کے برابر ہو یا نیچے سر کو کپڑے سے ڈھانپ کر کھانا کھاتے اور ہمیں بھی ہمیشہ نصیحت فرماتے بیٹا کھانا ایسے ادب اور احترام سے کھایا کرو جیسے تم نماز پڑھتے ہو، ہم نے ہمیشہ اپنے والد مرحوم کو رزق کا احترام کرتے ہی دیکھا“اور میں نے بھی اپنے روم میٹ کی ایک عادت ہمیشہ نوٹ کی کہ وہ زمین پہ گرے کھانے کے ذرات کو جھاڑو سے صاف نہیں کرتے، بلکہ انھیں اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے ہیں۔

ایک بات اور قابل ذکر جو میں نے اپنے روم میٹ میں دیکھی وہ یہ ہے کہ میں نے انھیں کبھی بیمار ہوتے نہیں دیکھا نہ ہی کبھی میس کے کھانے کھاتے دیکھا وہ ہمیشہ باہر بازار جاتے ہیں وہاں سے سبزیاں خود خرید کر لاتے ہیں اور پکا کر کھاتے ہیں، وہ کہتے ہیں بیٹا آج کل لوگ رزق کو برا کہتے ہیں ہر بندے کی زبان پہ ایک ہی بات ہے آج کل کی خوراک اچھی نہیں۔ اس لیے ہر بندہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ءہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، آج بھی وہ ہی دیسی گھی ہر جگہ باآسانی دستیاب ہے، ہر جگہ سبزیاں پھل دستیاب ہیں دودھ گڑ شکر ایسا کیا ہے جو نہیں ملتا۔ وجہ کوئی اور ہے جو ہر بندہ نا جانے کتنی ہی بیماریوں کا رونا روتے دکھائی دیتاہے، بیٹا رزق کا احترام جاتارہا ہے، پہلے ہماری بزرگ مائیں دادیاں کہیں روٹی کا ٹکڑا گرا دیکھ لیتیں تو بسم اللہ پڑھ کر اٹھالیتی۔ ادب سے چوم کر آنکھوں سے لگاتیں، جھاڑکے کھا لیتی، یا اونچی اور ایسی جگہ رکھ دیتی جہاں سے کوئی پرندہ یا جانور اٹھا لیجاتا، آجکل کی مائیں اگر کسی فوڈ پوائنٹ پہ بچے کے ہاتھ سے برگر پیزے کا ٹکڑا گر جائے تو چلاتے ہوئے کہتی ہیں۔ مت اٹھانا بے بی، مت اٹھا نا، جراثیم لگ گئے ہیں، اوہ خدا کے بندو، جراثیم تمھاری عقل کو تمھارے رہن سہن کو تمھاری سوچ کو لگ کیے ہیں۔

سرور کائنات ﷺکا فرمان عظیم ہے کہ جو انسان دسترخوان سے بچے ہوئے کھانے کے ذرات اٹھا کر کھاتاہے اس کی اولاد فرمانبردار ہوتی ہے۔ لیکن افسوس ہمیں فرمانبردار اولاد کی شاید ضرورت ہی نہیں رہی، ہیں تو ممی ڈیڈی اور پڑھی لکھی اولاد کی ضرورت ہے، جو انگلش بولے اور دوسروں کو کم تر سمجھے، کھانا کھاتے ہوئے پلیٹ میں آدھا کھانا چھوڑ کے اٹھ جانا فیشن بن گیا ہے، حالانکہ پلیٹ کو اچھی طرح صاف کر نا سنت رسول ﷺہے۔ جو کھانا آپ لوگ پلیٹوں میں اس لیے چھوڑ کر اٹھ جاتے ہیں تاکہ ہوٹل والے آپ غریب نہ سمجھیں وہی کھانا ری سائیکل ہو کر اگلے آنے والے امراءکے سامنے سج دھج کے آجاتاہے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم KLP روڈ پہ گشت کیا کرتے تھے، ہم روز ایک ہوٹل پہ جاتے ہوٹل عالی شان تھا اس کی لوکیشن بھی بڑی کمال کی تھی اور سڑک کے درمیاں خان ہوٹل بیٹھنے کے لیے بڑے بڑے تھڑے اور ان کے اوپر قالین گاؤ تکیے لگے ہوتے تھے ہم بھی جب گشت کر تے کرتے تھک جاتے تو ان گاؤ تکیوں پہ کمر سیدھی کرنے جا بیٹھتے، ہمارے بیٹھتے ہی ویٹر بھاگ کر آجاتے پانی رکھ جاتا اور آڈر لے جاتا

جہاں پولیس کو مفت کھانا ملے وہاں پولیس والوں کے آڈرز بھی بڑے مزے کے ہوتے ہیں کوئی پائے منگواتا، کوئی کڑاہی منگواتا، کوئی میرے جیسا غریب سوچ کا مالک دال اور سبزی پہ ہی قناعت کرتا، میں بڑا حیران ہوتا وہ ہوٹل والا پولیس والوں سے پیسے نہ لیا کرتاتھا اس ہوٹل پہ ایلیٹ، پٹرولنگ۔ ٹریفک، علاقہ تھانہ کی موبائلز۔ غرض پولیس کے ہر شعبہ سے منسلک لوگ وہاں کھانا کھاتے دیکھے گئے، میں ہوٹل کے مالک سے بڑا متاثر تھا کہ یار یہ بندہ کوئی نہایت ہی ولی صفت انسان ہے جو کسی پولیس والے سے بھی پیسے وصول نہیں کرتا۔ خیر میری حیرت اور ہوٹل مالک سے ملاقات کی تڑپ مجھے کاؤنٹر کی طرف کھینچنے لگی۔ میں اب کبھی کبھی کاؤنٹر والے آدمی سے گپ شپ کرنے لگا اور میرا مقصد صرف یہ جاننا تھا کہ یہ ہوٹل مالک اتنا سب کچھ برداشت کیسے کرتا ہے۔

آہستہ آہستہ وہ کاؤنٹر انچارج میرا دوست بن گیا اب باقی لوگ تھڑوں پہ بیٹھ کے کھانا کھاتے اورمیں کاؤنٹر والے کے پاس، وقت گزرتاگیا ایک دن میں نے پوچھا بہادر۔ بہادر اس کاؤنٹر پہ بیٹھے لڑکے کا نام تھا جو ہوٹل پہ بطور مینیجر کام کرتاتھا۔ میں نے دریافت کیا کہ یار تم لوگ اتنا نقصان کیسے برداشت کرتے ہو۔ ساری پولیس ہی آپ سے مفت کھانا کھاتی ہے۔ وہ ہنستے ہوئے بولا باباجی، کوئی اس دور میں اتنا پاگل نہیں کون اپنی جیب سے کسی کو بلاوجہ کھلاتا ہے۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا تو پھر یہ سب کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، تو وہ کہنے لگا چھوڑو صاب جی آپ کھانا کھاؤ۔ تم ہمارا دوست ہے اور پٹھان دوستوں سے کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا اس لیے چھوڑو بس تم ادھر ہمارے پاس بیٹھ کر کھانا کھایا کرو۔

میرا تجسس اور بڑھ گیا، اب میں روز بہادر سے ایک ہی سوال کرتا کہ تم مجھے وجہ بتاؤ، ایک دن بہادر میری دوستی کے ہاتھوں مجبور ہوگیا اور کسی سے بات نہ کرنے کی شرط پہ اس نے مجھے وہ سٹوری سنائی جو سن کے میری عقل کے طوطے اڑے نہیں بلکہ بار بار غشی کی کیفیت میں مبتلا ءہو جاتے، کئی تو غیرت سے مر بھی گئے ہوں گے۔ اس نے بتایا یہ جو ٹرکوں گاڑیوں والے آدھا کھانا چھوڑکے چلے جاتے ہیں وہ ہم ساتھ بہتی نہر میں پھینکا کر تے تھے اب جب سے یہ پولیس واے آنا شروع ہوئے ہیں ہم وہ بچا ہوا کھانا نہر میں نہیں پھینکتے بلکہ گرم کر کے ان لوگوں کو کھلاتے ہیں۔

کہیں آپ لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی تو نہیں ہوتا کہ جو کھانا آپ بے ادبی سے پلیٹوں میں چھوڑ کر اٹھ جاتے ہیں وہی آپ کے بعد آنے والے تناول فرماتے ہوں۔ آج کل رمضان المبارک چل رہا ہے افطاریوں کا سیزن ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم افطاری پہ صرف ان لوگوں کو بلاتے ہیں جنھیں کسی بھی طور افطاری کی ضرورت نہیں ہوتی، مطلب کتنوں کا روزے سے دور دور کا واسطہ ہی نہیں ہوتا، بلکہ کئی دفعہ تو اگلا بندہ برملا ہمیں بتا رہا ہوتا ہے کہ یار میرا روزہ نہیں صبح جاگ ہی نہیں آئی۔ اور قسمت سے یہ جاگ ایسوں کو پورے ماہ رمضان ہی نہیں آتی۔ بھلا کیسے ممکن ہے کہ بندہ گھر م میں ہو اور سحری کے وقت جاگ نہ سکے، خیر یہ الگ موضوع ہے۔

جس دن گھر میں افطاری کا احتمام ہوتاہے ہمارے گیٹ کیپر کو خصوصی ہدایات بیگم کی طرف سے جاری کی جاتی ہیں، کہ خبر دار کوئی بھکاری ادھر نظر آیا تو۔ بچا ہوا کھانا کسی حقدار کو دینے کی بجائے کوڑے کے ڈھیر پہ اس لیے لازمی پھینکا جاتاہے تاکہ اہل محلہ کو پتا چل سکے کہ آج افطاری میں سیٹھ صاحب کا کافی کھانا بچ گیا تھا۔ جتنی بے ادبی ماہ رمضان میں رزق کی دیکھنے میں آتی ہے شاید عام دنوں میں اتنی نہیں ہوتو۔ صاحب حیثیت لوگ رزق کا احترام اس لیے نہیں کرتے کیوں کہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے اکثریت کے روزے نہیں ہوتے۔ رزق کی قدر صرف روزہ دار ہی جان سکتاہے۔ یا وہ انسان جس کے بچے پورا سال ہی من پسند کھانے کھانے کو ترسیں۔ افطار پارٹی کا اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی پیدا ءکر دہ ہر نعمت اس ماہ صیام کے صدقے ہر اس انسان تک پہنچے جو عام حالات میں اس نعمت سے مستفید نہ ہو سکتاہو۔ ماہ رمضان مسلمانوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ قربانی کا درس دیتاہے۔ اور قربانی یہ نہیں کہ آپ بیس ہزار کی شاپنگ کرکے شاپنگ مال سے نکلتے ہوئے باہر ننگ دھڑنگ کھڑے بچے کو دس روپے دے دیں بلکہ قربانی یہ ہے کہ اس برکتوں والے ماہ آپ ان ننگ دھڑنگ ننگے پاؤں والے بچوں کے لیے خریداری کریں۔ ان کو اپنی پُر تکلف دعوتوں اور افطارپارٹیوں میں شریک کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •