کتاب کی عظمت


 

دنیا جہان کی کتابوں میں عظیم کتاب  اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید، رشدوہدایت کا سرچشمہ، قیامت تک باقی رہنے والی، آسمانی کتابوں میں آخری کتاب جو پیارے نبیۖ  پر نازل ہوئی، کتاب کامل جو ہر مسلمان کے دل میں رہتی ہے اس کی حفاطت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ اب آتے ہیں دنیاوی کتب کی طرف جی ہاں دنیا میں آنکھ کھولی اور ہوش سنبھالا تو کتابوں رسالوں کے درمیان، اب کتاب سے رشتہ جڑنا تو لازم وملزوم تھا نثر، نظم، افسانے، کہانیاں، شاعری ہر طرح کا ادب پڑھا۔ عمر ایسی تھی کچھ سمجھ آیا اور کچھ نہیں اور کچھ وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ گئے۔ آپ اکیلے میں اپنی من پسند کتاب پڑھنے بیٹھ جائیں تنہائی کا احساس ختم ہو جائے گا، ہم خیال دوست ہوں تو کتاب پر تبصرہ اور مصنف کے انداز تحریر پر بھی بات ہوگی۔ اپنے ذوق کی کتابیں بک شیلف مین سجاکر جو طمانیت ملتی ہے وہ برگر اور پیزا کھانے میں بھی نہیں ملتی۔ مطالعے سے شخصیت  نکھرتی ہے، زبان پر عبور حاصل ہوتا ہے۔

 کتاب سے رشتہ ایسا جڑا جو نہ کبھی ٹوٹے گا، نہ چھوٹے گا کیونکہ ہم کتب پرست لوگ ہیں، کتابوں کی دنیا میں رہنے والے، کتابوں میں پھول سجا کر بھول جانے والے بقول احمد فراز
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

کتابیں پڑھنے کے بعد شخصیت میں ایسا ٹھہراؤ آیا کہ سنجیدہ ادب پر توجہ رہی، ایک کتاب جو ذہن پہ نقش ہے وہ تھی مختار مسعود کی آواز ِدوست، پڑھتے جائیے اور الفاظ کے ہیرے موتی چنتے جائیے، طنز ومزاح میں ابن انشاء اور مشتاق احمد یوسفی کو پڑھنے کے بعد لگتا ہے اردو ادب میں طنز ومزاح کے مینار روشن ہیں اور اس کیروشنی میں ہم مسکراہٹوں کے پھول چن رہے ہیں۔ امرتا پریتم کی رسیدی ٹکٹ ایسی سوانح جو دو ملکوں، دو تہزیبوں اور محبت کے تکون پر خوبصورت تحریر ہے، آگ کا دریا پڑھ کر عینی آپا کے کرب کا اندازہ ہوتا ہے جو تقسیم ہند کی وجہ سے ہر درد مند دل نے محسوس کیا۔ تصوف کا رنگ اور افسانے کی بنت اشفاق احمد اور بانو قدسیہ سے سیکھی، پاکستان کی روزانہ واقعات کی تحقیق پرشائع ہونے والی عقیل عباس جعفری کی پاکستان کرونیکل اپنی نوعیت کی پاکستان میں منفرد کتاب ہے، یہ تاریخ اور دن کے حساب سے پاکستان کا احوال ہے کس دن کیا واقعہ ہوا کیا خاص بات اور حادثہ رونما ہوا، ایسی ہزاروں لاکھوں کتابیں ایسی ہیں جن کا ذکر محال ہے لیکن سب اپنی اہمیت اور وجود رکھتی ہیں اور علم کے پیاسوں کو سیراب کررہی ہیں۔

 آج کل ایک کتاب ایسی بھی ہے جس نے پاکستان کے پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، ایوانوں، بازاروں میں ہلچل مچا رکھی ہے، وہ کتاب جو ابھی منظرِ عام پر بھی نہیں آئی اور واویلہ اتنا کہ الاماں۔ عام قاری سے سوال ہے کہ کیا یہ کتاب اتنی اہم ہے کہ اس کا اتنا شہرہ کیا جائے، ایک سیاست دان کی مطلقہ بیوی کی کتاب جو اس نے نہ جانے کس تناظر میں لکھی ہے یا لکھوائی گئی ہے کیونکہ  سیاست ایک گندہ کھیل ہے اور اس کھیل میں ایک دوسرے کو ننگا کرنے کا رواج ہے  چونکہ الیکشن دوہزار اٹھارہ نزدیک ہیں اس لیے اس کتاب کو ایک سیاسی اسٹنٹ  کے طور پر اچھالا جارہا ہے۔ سوچیں جو کتاب چھپی ہی نہیں ابھی سے اس کا چرچا تو وہ کتاب مارکیٹ میں آکر کیا وبال کھڑا کرے گی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے اس میں منٹو اور عصمت چغتائی  کا رنگ ہے ارے بھلے مانسو منٹو اور عصمت چغتائی  نے معاشرے کے رستے ناسور، ننگی سچائیوں اور جنس کے استحصال پر لکھا تھا اور جب ان پر فحاشی کا الزام لگا تو انھوں نے مقدمات کا سامنا بھی کیا۔ کیا منٹوکے افسانوں اور عصمت چغتائی کی کہانیوں کے کردار ہمارے چاروں طرف نہیں  بکھرے ہوئے  ان کے اس کڑوے سچ کو اس کتاب سے ملانے والے شاید بھنگ کے نشے میں ہیں۔ یہ کتاب تو ایک سیاسی حربہ ہے ایک سیاسی چال ہے جوہر دور میں مختلف انداز سے چلی جاتی ہے۔ اس کو تو کتاب کہنا کتاب کی توہین ہے اور خدا جانے یہ چھپتی بھی ہے یا نہیں لیکن وقتی طور پر لوگوں کے ہاتھوں ایک مشغلہ آگیا ہے اور سب مل کر اس گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اب بس کردیں اس کتاب کے چرچے کیونکہ اس سے ذہنی کوفت ہورہی ہے یہ کس قسم کا ادب ہے جو بے ادبی کے سائے میں پروان چڑھ رہا ہے

Facebook Comments HS