آزادی صحافت اور صحافی دونوں خطرے میں ہیں
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ایک بیان میں پاک فوج کےشعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ بعض صحافی ملک دشمن پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ پی ایف یو جے کا یہ بیان رواں ہفتے کے آغاز میں میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک سلائیڈ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ ٹوئٹر پر غیر ریاستی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ پاکستانی صحافیوں کی تنظیم نے فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو ’غیر ریاستی عناصر‘ قرار دینے پر مبنی بیان واپس لیا جائے۔ پی ایف یو جے کے اس سخت بیان کے باوجود دو باتیں واضح ہیں۔ نہ تو فوج اور اس کے ترجمان اس درخواست پر کان دھرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی ملک کے صحافیوں میں اس حوالے سے یک جہتی اور اتفاق رائے موجود ہے۔ پی ایف یو جے ملک کے صحافیوں کا واحد نمائیندہ ادارہ نہیں ہے اور اس کی رائے کو محض ایک گروہ کی رائے قرار دے کر نظر انداز کرنا سہل ہے۔
سوموار کو میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس کے بعد لاہور میں صحافیوں پر دو حملے ہوئے۔ بول ٹی کے اینکر اسد کھرل کو بعض نامعلوم افراد نے روکا اور بری طرح زد و کوب کیا۔ منگل کی شام کو ہی صحافی او ر ایکٹوسٹ گل بخاری کو اس وقت نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا جب وہ وقت ٹیلی ویژن کی گاڑی میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں شرکت کے لئے اسٹوڈیو جارہی تھیں۔ گل بخاری اگلے روز ’بخیریت ‘ گھر پہنچ گئی تھیں لیکن ان کے رفقائے کار اور اہل خانہ اس بارے میں بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ دونوں واقعات میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس کے بعد رونما ہوئے ہیں اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے رویے اور صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات سامنے آنا ضروری ہے۔
اسد کھرل بول ٹی وی سے منسلک ہیں جو عام طور سے اسٹیبلشمنٹ کا حامی اور مسلم لیگ (ن) مخالف سمجھا جاتا ہے۔ گل بخاری کی شہرت بنیادی حقوق کی سرگرم کارکن اور اسٹیبلشمنٹ مخالف رائے رکھنے والی تجزیہ کار کی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسد کھرل پر حملہ کا سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ لیکن لاہور شہر میں ہی ایک ٹیلی ویژن ادارے کی گاڑی میں ایک پروگرام میں شرکت کے لئے جانے والی صحافی کو اٹھانے کے بارے میں ملک میں انصاف اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگہبان ادارے کی طرف سے بھی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس امتیازی رویہ سے ملک میں صحافت کی آزادی اور صحافیوں کے کمزور ہونے کے بارے میں اندازہ قائم کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔
پی ایف یو جے کو فوجی ترجمان کے اس رویہ پر تشویش ہے کہ وہ بعض صحافیوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو ملک دشمن عناصر کا آلہ کار ہونا قرار دیتے ہوئے بعض صحافیوں کے لئے خطرات کا سبب بنے ہیں۔ لیکن دراصل یہ اندیشہ ملک میں لفظ کی حرمت اور تحریر کی آزادی کو لاحق ہے۔ اگرچہ مختلف صحافیوں کی طرف سے ان دونوں واقعات کی مذمت کی گئی ہے اور صحافیوں کو آزادی سے کام کرنے کا ماحول فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے ۔ پی ایف یو جے کا بیان بھی اسی مزاج کی نشاندہی کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک میں دیگر طبقات کی طرح صحافیوں میں بھی تقسیم اور اختلافات کی ایسی صورت حال موجود ہے کہ یکساں واقعات کو بھی اسی اختلافی مزاج کے ساتھ دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ ایک صحافی پر حملہ کسی کے نزدیک نہایت نازیبا حرکت ہو سکتی ہے لیکن صحافیوں میں ہی ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس حملہ کو متعلقہ صحافی کی اپنی بد زبانی اور اشتعال انگیزی کا سبب قرار دیں گے۔ اسی طرح گل بخاری کے بارے میں سپریم کورٹ کی خاموشی سے ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ ملک کی عدالت بھی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیہ پر بات کرنے اور اسے جانچنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مختلف اداروں کی صورت حال پر سوال اٹھانے کو اپنی آئینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ وہ اس حوالے سے سو موٹو اختیار کے تحت معاملات کی سماعت کرتے ہوئے سرکاری اہل کاروں ، وزیروں اور وزرائے اعلیٰ کی سرزنش کرنے کو بھی اپنا فرض منصبی قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن آئین کے کسٹوڈین ہونے کے باوجود چیف جسٹس نے میجر جنرل ا ٓصف غفور کی ایک ایسی پریس کانفرنس کا نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھا جو ایک ریاستی ادارے کی آئینی حدود کے حوالے سے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس پریس کانفرنس میں نہ صرف کھل کر سیاسی معاملات پر اظہار خیال کیا گیا بلکہ سیاست دانوں اور صحافیوں کے بارے میں یہ رائے بھی سامنے لائی گئی کہ وہ دشمن ملک کے پروپیگنڈا کا حصہ بن کر ریاستی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگرچہ میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں ایسے سیاسی اور صحافتی عناصر کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ بتائیں ان لوگوں کا کیا کیا جائے ‘۔ لیکن درحقیقت وہ یہ واضح کررہے تھے کہ ریاستی ادارے اگر کسی سیاست دان یا صحافی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو وہ حق بجانب ہوں گے۔
گل بخاری کے خلاف کارروائی اسی مزاج کی آئینہ دار ہے۔ کسی صحافی کو ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن کی گاڑی سے اٹھانا دراصل ایک صحافتی ادارے پر براہ راست حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن متعلقہ صحافی کے اہل خانہ اور رفقا تو اسی بات پر مطمئن ہیں کہ یہ خاتون ایک رات کے بعد ہی واپس آگئیں ۔ اگر انہیں زیادہ دیر حراست میں رکھا جاتا تو کون کسی کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ کیوں کہ جو عناصر اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ، وہ سرکاری خزانے سے تنخواہ اور مراعات وصول کرتے ہیں لیکن ریاستی مفاد کی خود ساختہ تفہیم کے تحت کام کرتے ہیں۔ نہ ان کا کوئی نام ہوتا ہے اور نہ ان کی کارروائی کسی سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنائی جاتی ہے۔ منتخب حکومت کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر پروپیگنڈا کا سبب بننے والی سپریم کورٹ بھی اس قسم کی کارروائیوں کے بارے میں مہر بلب ہے۔ اس صورت حال میں صحافی اور صحافت دونوں ہی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس پر عملدرآمد کے حوالے کارروائی کی نگرانی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اپنی اس ’بے بسی‘ کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی میں سیاست دانوں کو رقوم بانٹنے اور اس طرح جمہوری سیاسی عمل پر اثر انداز ہونے والے اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل (ر) اسد درانی کا معاملہ آرمی ہیڈ کوارٹر کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ آرمی ایکٹ کے تحت ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرے۔ گویا ملک کے چیف جسٹس یہ اعلان کررہے ہیں کہ ملک کی عدالتیں اور قانون موجودہ اور سابق جرنیلوں کے سامنے بے بس ہے اور اعلیٰ ترین عدالت بھی ان کے خلاف نہ کارروائی کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی خود کو اس کا مجاز سمجھتی ہے۔ کچھ اسی قسم کے رویہ کا مظاہرہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو انتخاب میں حصہ لینے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے پرویز مشرف کو نہ صرف انتخاب میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ عدالت میں پیش ہونے کے لئے ملک واپس آتے ہیں تو انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔
عقل حیران ہے کہ ملک کے منصف اعلیٰ کس اختیار اور قانون کے تحت دوسرے اداروں اور عدالتوں کے اختیارات پر تصرف حاصل کرسکتے ہیں اور کسی بھی شخص کو اپنی صوابدید اور اصلاحی فارمولے کے تحت گرفتاری سے استثنیٰ عطا کرنے کا اختیار حاصل کئے ہوئے ہیں۔ پرویز مشرف کو مختلف عدالتوں نے بھگوڑا قرار دیا ہے۔ ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ضبط کیا جا چکا ہے۔ ان کے خلاف آئین شکنی کے مقدمہ میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہے لیکن اس مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سربراہ کی علیحدگی کے بعد سے یہ خصوصی عدالت ختم ہو چکی ہے لیکن چیف جسٹس اس خصوصی عدالت کو بحال کرنے اور ایک سابق فوجی آمر اور آئین شکن کو سزا دلوانے کا اہتمام نہیں کرسکے۔ تاہم اب اسے انتخابات میں حصہ لینے اور باعزت ملک واپس آنے کا پروانہ عطا کررہے ہیں۔ قانون کی عام تفہیم اور مہذب ملکوں میں اس کی عملداری کے مطابق تو کوئی اعلیٰ عدالت بلاتخصیص سنگین جرائم میں ملوث شخص کو غیر مشروط سہولت دینے اور کسی جواز کے بغیر مطلوب ملزم کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دینے کی مجاز نہیں ہوتی۔ تاہم اس کی تفصیل پاکستان کے ماہرین قانون ہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن چیف جسٹس کے طرز عمل سے واضح ہوتا ہے وہ اس ادارے سے آئین کو محفوظ رکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے جس کی طرف سے اس کی خلاف ورزی کا واضح اندیشہ موجود ہے۔ اس طرح اصغر خان کیس دراصل الیکشن سال میں ملک کے بعض سیاست دانوں کو مطعون اور بدنام کرنے کے لئے تو ضرور استعمال کیا جائے گا لیکن ان لوگوں اور اس ادارے کے بارے میں عدالتیں او رجج خاموش ہی رہیں گے جو اس سارے قضیہ کی وجہ بنا تھا۔ٓ
یہی وجہ ہے کہ ملک کے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے خلاف کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آتا۔ ملک کی سپریم کورٹ ایک ایسے بیانیہ کی بالواسطہ تائید کر رہی ہے جو جمہوریت، آئین کی عمل داری اور قانون کے مطابق کارروائی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ بیانیہ ان انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھا رہا ہے جنہیں منعقد کروانے کا اعلان چیف جسٹس بار بار کرتے رہے ہیں لیکن لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کو معطل کرنے کے بعد اسی فیصلہ کو نئی شکل میں نافذ کرنے کا حکم بھی دے چکے ہیں۔ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے برعکس انتخابات میں امید واروں کو بیان حلفی داخل کروانے کا حکم دے چکی ہے۔ اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پارلیمنٹ کو اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ تسلیم نہیں کرے گی اور اسٹیبلشمنٹ ریاستی مفاد کی محافظ کے طور پر اپنے اہداف مقرر کرنے اور اقدامات کرنے میں آزاد ہوگی تو اس ملک میں پھر کون سی جمہوری روایت کی بات کی جارہی ہے۔
میڈیا مالکان اپنے مالی مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کا معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ صحافی باہم دست گریبان ہیں اور اصولوں پر متفق ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں کیوں کہ پاکستان سے محبت کے نام پر انہیں آپس میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایسے میں صحافیوں کے خلاف جرائم پر مذمت اور پھر طویل خاموشی ہی اس وقت پاکستان کی تقدیر ہے۔ یہ مہیب سناٹا ملک کے جمہوری عمل پر سب سے کاری وار ہے۔


