1937ء کا الیکشن اور دیہاتی سیاسی شعور
”معجزے“ کا ظہور
بالآخر بابو صاحب کو اپنی منحرفی اورعہد شکنی کا قدرتی طور پرایک سبق ملا یعنی ایک معجزے کا اس طرح ظہور ہوا۔ آخری مقررہ تاریخ پر بابو صاحب کو علاقہ کے چند معزز اشخاص درخواست واپس لینے اور بورڈ اور قوم کے فیصلہ کا احترام کرنے کے لیے ڈی سی کی کوٹھی کے نزدیک التجا کر رہے تھے لیکن بابو صاحب اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم تھے اور بطور عذر و بہانہ میری درخواست کا حوالہ دیتے رہے۔ میری درخواست صرف اس لیے گزاری گئی تھی کہ اگر خدا نخواستہ میاں عبد الرب کی درخواست فیل ہو جائے تو میری درخواست قائم رہ جائے جو کہ انجمن کے حکم وفیصلہ کے مطابق دی گئی تھی اور میں نے عبد الرب کی درخواست قائم رہنے پر ہرحالت میں واپس لے لینی تھی۔ میں خود بھی ممبری کا چنداں خواہاں نہیں تھا۔
جناب بابو صاحب کا پسرخورد فرنٹیئر کی طرف فوجی ملازمت میں تھا۔ انھی ایام میں اس علاقے میں کچھ گڑبڑ تھی اس لیے بابو صاحب نے اپنے فرزند دلبند کی خیر و عافیت کی دریافت کرنے کے لیے افسر کمانڈنگ کو تار دیا۔ جواب میں افسر کمانڈنگ نے تار دیا کہ Rashid is very wellرشید خیریت سے ہے۔ لیکن نورمحل کے تار بابو نے بجائے very well کے very ill، بہت بیمار ہے، سمجھ کر تار وصول کر کے نواں پنڈ روانہ کر دیا۔ پس یہ تار عین وقت پر ایک صاحب لے کر جالندھر بابو سمیع اللہ کے پاس حاضر ہوئے جس کو دیکھتے ہی محبت پدری کی وجہ سے بابو صاحب کے ہوش حواس گم ہو گئے اور بلا کسی حجت و بہانہ بازی کے فوراً درخواست حسب حکم انجمن واپس لے لی۔

سر شاہ نواز سے گرم سرد گفتگو
اب عبد الرب کے لیے میدان صاف ہو گیا۔ لیکن قوم کی بدقسمتی کہ انھی دنوں میں میاں شاہ نواز صاحب شیخوپورہ سے ہٹتے ہٹاتے ہمارے علاقے میں بطور امیدوار آن دھمکے۔ ہمارے علاقے کے چند صاحبان نے اراضی مربع جات کے لالچ اور چکمہ میں آ کر میاں صاحب کو ووٹ دینے اور کامیاب کرانے کے لیے وعدے وعید بھی کر لیے۔ مزید تسلی اور اطمینان کے لیے میاں صاحب موصوف نے خود جالندھر میں آ کر نکودر اور پھلور کی تحصیلوں کے سرکردہ راعیوں کو بلایا۔ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔ ہم لوگ کچھ دیر سے میاں صاحب کی خدمت میں پہنچ سکے۔ جاتے وقت دو وکیل صاحبان جالندھر شہر کے ہمارے ساتھ ہو لیے۔ اس سے قبل مجھے میاں صاحب کی زیارت کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا۔ جناب میاں صاحب عمر رسیدہ اور بالکل کرزن فیشن تھے۔ بعد علیک سلیک کے میاں صاحب نے دریافت کیا کہ آپ کی انجمن کا پروپیگنڈہ سیکریٹری کون ہے۔ وفد میں سے ایک شخص نے میری طرف اشارہ کر دیا۔ میاں صاحب میری طرف مخاطب ہو کر بڑے رعب داب اور حاکمی و محکومی کے پیرائے میں بولے کہ تم کو بیرونی علاقہ کے امیدواروں کو غیر قانونی الفاظ کہنے کا کیا حق ہے۔ علاقہ کے لوگ کچھ امیدیں امداد اور ہمدردی کی ہم سے نہ رکھیں۔ اور بھی طرح طرح کی دھمکیوں سے مجھے ڈرانے لگ گئے۔ میاں صاحب کے غصے کے مارے دانت بج رہے تھے اور بے انتہا بے معنی اور بلا ضرورت گفتگو کر رہے تھے اور (اپنے سسر) جناب میاں محمد شفیع مرحوم کی سابقہ خدمات گنوا رہے تھے ۔
پس اس بے معنی اور جبری گفتگو کو نہ برداشت کرتے ہوئے میں نے میاں صاحب سے عرض کیا کہ میاں صاحب مرحوم اپنی خدمات آپ کو جہیز میں دے گئے تھے؟ میاں صاحب مرحوم کی سابقہ خدمات کا حق ان کے لڑکوں کو پہنچ سکتا ہے نہ کہ آپ کو۔ اس کے علاوہ اگر سچ کہا جائے تو میاں صاحب نے راعی قوم کی اتنی خدمت نہیں کی جتنی راعی قوم نے میاں فیملی کی کی ہے۔ میاں خاندان کو راعی قوم کا رہنما ہونے کی وجہ سے سرکار کی طرف سے ہر طرح کے خطابات اور عہدے وغیرہ ملتے رہے۔ میرا دوسرا سوال یہ تھا کہ ہماری تحصیل نکودر سے کوئی مثال پیش کر سکتے ہیں ، یعنی کوئی بھی شخص میاں فیملی نے ہمارے علاقے سے تحصیل دار یا سب انسپکٹر پولیس بھرتی کیا یا کروایا ہو، یا کوئی اعزازی عہدہ حاصل کرنے میں مدد کی ہو۔

اس کے بعد میں نے اور بھی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے میاں صاحب بوکھلا گئے اور غصے کے مارے لال پیلے ہونے لگے۔ میری اس حوصلہ مندی اور برجستہ سوالوں اور جوابوں کو دیکھ کر، اور سن کر، میرے دوسرے ساتھی بھی ہوشیار اور بے خوف ہو گئے۔ پھر میاں صاحب پر چاروں طرف سے سوالوں کی وہ بوچھاڑ ہوئی کہ وہ گھبرا کر بدزبانی پر اتر آئے۔ شکر ہے پاک پرودگار کا کہ ہمارا وفد میاں صاحب کی عزت و احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے گستاخی کا کوئی لفظ زبان پر نہیں لایا۔ صرف ایک وکیل صاحب کو میاں صاحب نے چپ کراتے ہوئے فرمایا کہ چپ رہو، تمھاری گفتگو متعصبانہ ہے۔جواب میں وکیل مذکور نے کہا میاں صاحب! اگر میری گفتگو متعصبانہ ہے تو آپ کا طرز گفتگو غاصبانہ ہے۔ اس کے بعد میاں صاحب چپ ہو گئے۔ بعد ازاں انھوں نے ا س سیٹ پر الیکشن لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
1937 ء کے آغاز میں اسمبلی کا الیکشن شروع ہو گیا۔ اب مقابلہ صرف اسد اللہ خان صاحب اور میاں عبد الرب کے درمیان رہ گیا۔ راعی قوم کے ووٹ آبادی کے لحاظ سے بہت زیادہ تھے۔ کل 22316 ووٹ میں سے 14200 صرف راعیوں کے تھے اور 8000 باقی ماندہ قوم کے تھے۔ اس لیے ہماری قوم کو اور انجمن کو زیادہ فکر نہیں تھی اور کامیابی کی ہر طرح سے امید تھی۔ الیکشن کے بعد معلوم ہوا کہ کل 14369 ووٹ پول ہوئے جن میں سے چوہدری عبد الرب کو9111 ووٹ ملے اور اسد اللہ خان صاحب کو 5255 ووٹ ملے۔ خان صاحب کا خرچ چوہدری صاحب کے مقابلے میں قریباً پانچ گنا ہوا۔ چوہدری عبد الرب کا صرف دو ہزار روپیہ خرچ ہوا۔ بس اس طرح یہ الیکشن ختم ہوا۔

