انہیں کیسے بتائیں کہ وہ جا رہا ہے

یہی کہ پردہ محمل میں مرگ بیٹھی ہے
یہ راز قیس کو ہم اہلِ دل بتا نہ سکے
نوید میرا پھوپھی زاد بھائی اور میری چھوٹی بہن ببلی کا شوہر ہے۔ میری یہ بہن بلا کی صابر اور معصوم ہے، بالکل میری امی کی طرح۔ جب میرے پاپا بسترِ مرگ پر تھے۔ اور میں اپنے چھ ماہ کے بیٹے کے ساتھ ہر روز ہا سپٹل پہنچ جایا کرتی۔ ڈاکٹرز نے پاپا کی زندگی کا وہ آخری ہفتہ قرار دیا تھا۔ لیکن امی کو اپنے اس وظیفے پر یقین تھا جو وہ اس وقت پڑھ رہی تھیں۔ جوں جوں موت پاپا کے قریب آرہی تھی۔ امی کو پاپا کی حالت پہلے سے بہتر محسوس ہوتی۔ انہیں اپنے وظیفے پر اعتماد جو تھا۔ مجھے کہتیں تم ہر روز کیوں آتی ہو، ہفتے میں بس ایک دن آیا کرو، ننھے بچے کے ساتھ یہاں آنا چھا نہیں۔
صبح میرے بھائی نے ببلی کو فون پر تسلی دیتے ہوئے کہا اللہ نوید کی مشکل آسان کرے۔ ببلی اتنی بھی معصوم نہیں اس آسانی میں چھپی مشکل سمجھتی ہے۔ چیخ پڑی، یہ والی بات نہ کریں وہ اچھے ہو جا ئیں گے۔ میں ان سے جب بھی بات کرتی ہو ں وہ ریسپانس کرتے ہیں۔ عرش ماہ کے نام پر تو ان کے ہاتھوں میں بھی حرکت ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز ایسے ہی کہہ رہے ہیں۔ وہ تو اس کی آواز پر رات کے دو بجے اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ ایسے کیسے اسے چھوڑ کر صرف اپنی آسانی دیکھ سکتے ہیں۔
اس وقت سارے ڈاکٹرز نے مل کے فیصلہ کر لیا ہے کہ مریض کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا جا ئے۔ وہ سب رپورٹ پر اپنے دستخط کر کے اور اسٹاف کو حکم دے کر چلے گئے ہیں۔ مگر ببلی موت کو نوید کے دماغ کی طرف بڑھنے نہیں دے رہی۔ اور نوید بھی ضد پر اڑا ہے۔ عرش ماہ اور مہلب نے اپنی ماں کو بتا دیا ہے کہ انہوں نے گھر اچھی طرح صاف کر دیا ہے بابا کا بستر بھی لگا دیا ہے۔ شاید انہیں کسی نے بتا دیا ہے کہ ان کے بابا گھر پہنچنے ہی والے ہیں۔

