ماہرہ خان بطور وزیراعظم پاکستان
ایف سی کالج لاہور کے طالبعلم لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان دلچسپ بحث و مباحثہ اپنے عروج پر تھا۔ مباحثے کا موضوع یہ تھا کہ عوام کو دو ہزار اٹھارہ الیکشن میں کس سیاستدان کو اپنا وزیر اعظم منتخب کرنا چاہیئے۔ نوجوانوں کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان ہونا چاہیئے کیونکہ وہ ایک عالمی شہرت یافتہ انسان ہیں، ایک ایماندار انسان ہیں، اس لئے اس مرتبہ تبدیلی والی جماعت پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو عوام کو ایک موقع فراہم کرنا چاہیئے۔
ان میں سے کچھ نوجوان لڑکوں کا کہنا تھا کہ عمران خان اگر وزیر اعظم بن گئے تو کچھ ماہ کے اندر ہی وہ اس کرسی سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق عمران خان میں صبر و تحمل اور برداشت نہیں ہے اور ان کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے سوا دنیا کے ہر انسان کو کرپٹ سمجھتے ہیں۔ کچھ نوجوانوں کی یہ بھی رائے تھی کہ عمران خان نظریاتی حوالے سے ایک کنفیوژانسان ہیں، کبھی وہ طالبان کی طرح اظہار خیال کرتے ہیں تو کبھی یوٹرن لیتے ہوئے مغربی لبادہ اوڑھ لیتے ہیں، ہر کسی کو خوش کرنے کے چکر میں اب ان کی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ انہیں خود معلوم نہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کونسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسے نوجوان بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ نوازشریف کی مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گے، ان کی رائے میں نوازشریف کا نظریہ مزاحمت جمہوریت کے استحکام کے لئے بہت ضروری ہے۔ مسلم لیگ ن دوبارہ اقتدار میں آگئی تو مقتدر قوتیں کمزور ہوں گی اور ریاست میں جمہوری روایات کی نشوونما میں بہتری آئے گی، جس سے ریاست اور اس کے ادارے مضبوط ہوں گے۔
ایسے بھی نوجوان تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ لبرل جمہوری قوتوں کو ووٹ دیں گے کیونکہ پاکستان کو بطور سیکولر اور لبرل ریاست دنیا میں اپنی منفرد شناخت تعمیر کرنی چاہیئے، اس لئے ان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی بہترین چوائس ہے۔ بحث جاری تھی، لڑکے اور لڑکیاں خالص سیاسی گفتگو کررہے تھے، اسی دوران ایک اسمارٹ اور خوبصورت لڑکی نے کہا عوام ان سب لیڈران کو دیکھ چکے ہیں، یہ تمام رہنما کسی قسم کی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکتے، ہزاروں سال اس ملک میں جمہوریت چلتی رہے، اس طرح کے حکمران آتے جاتے رہے تو کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، نرم و نازک لڑکی نے کہا کہ اس کے خیال میں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو وزیر اعظم پاکستان بنا دینا چاہیئے۔
لڑکی کا یہ کہنا ہی تھا کہ قہقہہ گونجا، سب بچے بچیاں قہقہے مار رہے تھے۔ لڑکی ہنسنے والوں کے چہرے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ ایسا اس نے کیا کہہ دیا جس پر سب مسکرا رہے ہیں۔ مباحثے میں سے کسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ماہرہ خان ایک اچھی اداکارہ ہیں، اس کا سگریٹ کے کش لگانے کا انداز بھی دل کو چھو لیتا ہے، شاہ رخ خان کے ساتھ رومانس کرتی اچھی لگتی ہے، لیکن بی بی ہم ایک سنجیدہ گفتگو کررہے ہیں، ایسی محفل میں ماہرہ خان کے ذکر سے کیا فائدہ، فلم کے آرٹ کے حوالے سے گفتگو نہیں ہو رہی، یہ سیاسی گفتگو ہے۔ لڑکی نے مودبانہ انداز میں کہا محترم دنیا کا ہر انسان سیاسی ہوتا ہے، سیاست بھی تو ایک آرٹ ہے، دوسرا ماہرہ خان میں کیا برائی ہے، وہ اچھی اداکارہ ہیں، مہذب خاتون ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، اچھی شکل و صورت کی حامل دلکش شخصیت کی حامل ہیں، وہ وزیر اعظم کیوں نہیں بن سکتی۔ کیا وہ ایماندار نہیں ہے؟ کیا اس کے وزیر اعظم بننے سے سماج میں بہتر اور معیاری تبدیلیاں نہیں آئے گی، کیا اس کے وزیر اعظم بننے سے پاکستان کا سافٹ اور لبرل امیج دنیا میں نہیں جائے گا، وہ جھوٹ بھی نہیں بولتی، اس کے آنے سے مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
محفل میں سے کسی نے کہا بی بی کیا وہ سیاست کو سمجھتی ہے، کیا اسے معلوم ہے کہ ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوتی ہے، کیا وہ انٹرنیشنل پولیٹکس کو جانتی ہے؟ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا تو کیا نواز شریف، عمران خان اور زرداری صاحب سیاست کو سمجھتے ہیں، دہائیوں سے یہ نام نہاد سیاسی لوگ جمہوریت کے نام پر منتخب ہو رہے ہیں، جمہوریت کے لئے ان قدآور سیاسی شخصیات نے کیا کیا ہے؟ کیا اس مہذب دنیا میں پاکستان کی شناخت اچھی ہے؟
ماہرہ خان دنیا کے لیڈروں کے ساتھ بہتر انداز میں گفتگو کرسکتی ہے، اس کے آنے سے پاک بھارت تعلقات میں خوشگوار تبدیلیاں آئیں گے۔ مودی یا ڈونلڈ ٹرمپ سے تو ماہرہ خان بہت حد تک ایک بہتر شخصیت ہیں۔ لڑکی نے والہانہ سٹائل میں کہا مجھے بتاو اس ملک کے بنیادی مسائل حل ہوئے ہیں؟ کیا یہ ریاست ایک فلاحی انسانی ریاست ہے؟ کیا اس ملک کا نظریہ واضح اور شفاف ہے؟
اسی دوران ایک لڑکے نے سوال کیا تو ماہرہ خان کے آنے سے یہ ملک فلاحی ریاست کا روپ اختیار کر لے گا، کیا عدالتی ںطام بہتر ہو جائے گا، میرٹ کا بول بالا ہوگا؟ لڑکی نے کہا ممکن ہے جو باتیں آپ کررہے ہیں، ایسا ہو جائے کیونکہ ماہرہ خان بطور وزیر اعظم ملک و قوم سے جو وعدے کرے گی، وہ پورے کرے گی کیونکہ وہ ہمارے روایتی سیاستدانوں کی طرح منافق اور جھوٹی نہیں ہے۔ لڑکی یہ باتیں کرکے خاموش ہوئی تو آواز آئی، بی بی ہفتے کے روز عید ہے، ماہرہ خان کی فلم سات دن ان محبت سینما گھروں میں ریلیز ہورہی ہے، جاکر وہ دیکھیں اور ہمیں آئندہ الیکشن کے حوالے سے سیاسی بحث و مباحثہ کرنے دیں۔ بیچاری معصوم سی اداکارہ کو آپ کس طرف لگانا چاہتی ہیں، سیاست مردوں اور طاقتوروں کا کھیل ہے، کسی افسانوی فلم کا نام نہیں؟ بیچاری لڑکی یہ باتیں سن کر محفل چھوڑ کر چلی گئی۔ اس ساری صورتحال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے نوجوان سیاست کو کیا سمجھتے ہیں ؟ان کے مطابق سیاست ایک گندہ کھیل ہے جس میں ماہرہ خان جیسی خاتون کا کیا کام۔ ایف سی کالج لاہور کے طالبعلموں کی سوچ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کی حقیقتی صورتحال کیا ہے ؟





