کیا کراچی کی اہمیت کم ہو رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستا ن جب وجود میں آیا تو پہلا دارالحکومت کراچی کو بنایا گیا۔ اس کے متعدد اسباب تھے لیکن سب سے بڑی وجہ یہ شہر اکنامک ہب تھا اور ہے۔ کراچی شروع سے ہی سیاست کا مرکز بنا رہا ہے۔یہاں 80 کی دہائی سے پہلے 2 دفعہ نسلی فسادات ہوئے۔1966 میں ایوب دور میں اور دوسری دفعہ 1973 میں بھٹو دور میں نسلی فسادات ہوئے، کیوںکہ یہ شہر ہر رنگ نسل کے انسان کو آپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔

یہ شہر سندھی مہاجر پنجابی پٹھانوں افغانستان میں جنگ کے بعد افغانیوں اور نجانے کتنی زبان بولے جانے والوں کے لئے روزگار مہیا کئے ہوئے ہے۔ لیکن کوئی حکومت اس شہر کے مسائل حل کرنے میں کبھی سنجیدہ دکھائی نہیں دی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی بنیاد 1985ء میں مہاجر آبادی کی محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رکھی گئی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ 40 سال تک اس شہر کی مرکزی جماعت رہی اور آج بھی سٹی ناظم اسی جماعت سے وابستہ ہے لیکن یہ جماعت مہاجروں کی محرومیوں کا ازالہ نہی کر سکی۔

کراچی میں رنگ نسل کی بنیاد پر خون کی ہولی کھیلی گئی۔ ہزاروں لوگوں کا قتل عام ہوا۔ بے شمار خاندان تباہ وبرباد ہو گئے لیکن اس شہر میں بسنے والوں کے مسائل میں کوئی کمی نہ آئی۔ یہاں پر بسنے والے لوگوں کااعتماد اب ہر سیاسی جماعت سے اٹھ چکا ہے۔اگر ماضی کی بات کی جائے تو 85 سے 2013 تک کراچی اسلام آباد کی حکومت میں حصہ دار رہا ہے یا پھرحمایت دینے پر آمادہ ہوا ہے۔ لیکن 2018 میں کراچی ماضی جیسا شہر نہیں رہا یہاں چالیس سال سے قابض جماعت کا اقتدار کمزور ہوا ہے۔

متحدہ آپسی رنجش کے باعث 3 دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔جس کی وجہ سے دوسری جماعتیں اس شہر پر اپنی کمان بٹھانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ حال ہی میں کئی جلسے کئے گئے لیکن کوئی بھی جلسہ متاثر کن نہ تھا۔ ہر جماعت اس شہر کے مسائل حل کرنے کے نعرے لگارہی ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ2018 کے الیکشن کے بعد ہی پتا چلے گا۔ دوسری طرف دارالحکومت میں حکومت بنتی تھی تو اس کو کراچی کی حمایت درکار ہوتی تھی پہلی بار ایسا دکھائی دے رہا ہے کراچی کی وہ اہمیت نہیں رہی ہے جو ماضی میں تھی۔

شطرنج کی جو بساط آنے والےالیکشن کے لئے بچھائی گئی ہے اس میں کراچی سے زیادہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کراچی جو کبھی ایم کیو ایم کا گڑھ مانا جاتا تھا وہاں کوئی بھی جماعت آنے والے الیکشن میں اکژیت نہیں لے پائے گی۔ لیکن اسلام آباد کے اقتدار کی کرسی پر جو بھی براجمان ہو، اس کی پشت پر کراچی سے زیادہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو اہمیت حاصل ہو گی۔ جس طرح کراچی میں پی ایس پی ،بلوچستان میں ایک نئی پارٹی کی پیدائش، کے پی کے میں ایم ایم اےکا الیکشن سے پہلے ایک بار پھر متحد ہو جانا، اندرون سندھ میں سیاسی اتحاد بننا اور جنوبی پنجاب کے صوبےکی زور پکڑتی آواز اس کھیل میں کون جیتے گا اس بارے میں ابھی کچھ نہی کہا جا سکتا۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔ اسلام آباد کے ایوان میں کوئی بھی جماعت اکژیت نہیں لے پائےگی ۔ اور کراچی پھر بے بسی کی تصویر بنا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •