چاند رات اور ایک تصویر جو ادھوری رہ گئی
لوگ چاند رات پر شہر بازار کی رونق بنتے ہیں اور دوسروں سے گلے ملتے ہیں۔ کچھ خصوصی خدمات سر انجام دیتے ہیں تا کہ لوگ اپنے عید فیسٹول کو اچھے سے منا سکیں۔ جیسا کہ بیوٹی پارلر میں مہندی لگاتی خوبصورت تتلیاں، اور چاند رات پر دکانوں میں بیٹھے کچھ لوگوں کے کپڑے خراب سیتے اور کچھ لوگوں کے کپڑے بہت اچھے سلائی کرتے درزی اور دکاندار حضرات ، کچھ سکیورٹی ایجنسیوں کے لوگ اور کچھ گاڑیوں میں راو ¿نڈ لگاتے پولیس والے۔کچھ خواتین کھیر بناتی ہیں تو رات بھر دودھ برتن میں ڈال پکنے کو رکھ دیتی ہیں، رات کے دوسرے پہر پکتے دودھ میں شکر اور چاول شامل کر علی الصبح کھیر کی پیالیاں بانٹی جاتی ہیں تو بہت سے لوگ شیر خرما بناتے ہیں جیسا کہ مجھے بھی صبح تیار کرنا ہے اور پیکٹ والا نہیں اصلی کھجور مکس میٹھی سویوں والا شیر خرما۔
لیکن سوشل میڈیا سے بہت سے لوگ جڑے رہتے ہیں۔ وہ گھر والوں کے ساتھ تو نک چڑے رہتے ہیں مگر گھر سے باہر خوش باش نوجوان ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ کچھ نوجوان مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاند رات پر بازار کا رُخ صرف صنف نازک یعنی گلاب کی پنکھڑیوں کو تنگ کرنے نکلتے ہیں۔یہ نوجوان کسی پنجابی فلم کے ڈائیلاگ کو حقیقت بنانے پر تلے ہوتے ہیں کہ مارو سیٹی جو ہنسی تو پھنسی۔ یہاں بہر حال بہت سی باتوں کا خواتین خصوصاً لڑکیاں لحاظ رکھتی ہیں اور خاموش رہنے میں عافیت جانتی ہیں۔ اللہ اللہ کر کے کام نپٹا کر گھر کی راہ ناپتی ہیں۔
جب ہم چھوٹے تھے تو ہم کافی سکون اور گہما گہمی دیکھا کرتے تھے۔ اول تو گھر سے دادی اماں چاند رات پہ نکلنے ہی نہیں دیتی تھیں اور چھت پر رات تارے گنتے گزرا کرتی۔ تب بڑا شوق تھا چاند رات دیکھنے اس کی رونق کا لطف لینے بازار جایا جائے۔ مگر لاہور کی ایک چاند رات میں نے انارکلی جا کر گزاری ہے۔ اف خدایا! کیا رش کا عالم تھا۔ اتنا رش دیکھ کر تو مارے خوف کے گر ہی پڑی تھی۔ اس کے بعد کبھی زیادہ رش والی جگہ جانے کی ہمت نہیں پڑی۔ کم از کم اکیلے نہیں۔ لیکن وہ ایک عید لاہور شہر میں گزاری ہے۔ کافی اُداس صبح تھی۔ میٹھی سویاں بنائی گئیں تھیں۔ اور کسے بانٹتے؟ نا خالہ عذرا بی تھی نا اپنے چاچا جی پاس تھے جن کے بچوں کے ساتھ گھلتے ملتے گپ شپ کرتے کھانا کھاتے عید گزرا کرتی تھی، نہ اپنے امی ابو تھے جو صبح سویرے کھپ مچایا کرتے کہ اُٹھو عید کی نماز لیٹ ہو رہی اور بس انہیں شور سیاپوں میں دن کے بارہ بج جایا کرتے۔ لیکن اس گہما گہمی سے پہلے دادا اور دادو تھے۔ دونوں نے خواہ مخواہ لڑنا ہوتا تھا۔ عام دن لڑتے نہیں گزرتے تھے تو کیا عید پر بخشش ہو سکتی تھی؟ نا ممکن۔ آج جب دادو اور دادا کے جھگڑے اور نوک جھونک یاد کرتی ہوں تو گھر کی گہما گہمی کچھ خاص معلوم نہیں ہوتی۔ بس ٹائم پاس جیسا ہے۔
اب زیادہ بڑے پٹ سیاپے زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ بڑے مسائل اور ان کا حل سوجھنا، کیسے ضروریات پوری کی جائیں، کیا ایسا پینٹ کروں جو کسی پاگل کو پسند آ جائے اور چند پیسے ہاتھ آئیں یا کسی گیلری میں مناسب دام میں جگہ دلا سکیں اور کام بکنے پر چند کھوٹے سکے ہاتھ آئیں۔ سب سے بڑا مسئلہ وہ کون سا پاگل ہو گا جو میری پینٹنگ خریدنے کی سکت رکھتا ہو گا؟ ایسے دیگر مسائل ہزار سوچوں میں غرق آتے اور وقت کے ساتھ کسی اور کی چوکھٹ پر چلتے چلے جاتے ہیں۔ میں رات کے دوسرے پہر چھت پر بیٹھی صرف تارے گن رہی ہوں کہ تارے گننا بھی ایک صحت بخش کام ہے۔ اور کچھ نہ سہی! عیدصبح کا انتظار سہی۔ بھنگڑے تو ڈالے جائیں گے۔ موجیں تو ہوں گی ۔ یہ وقت کسی اور کی یاد بن سکتا ہے۔


