سطحی سیاست کے علمبردار اور ذہنی پسماندہ سیاسی ورکرز 


 بیگم کلثوم نواز اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں اور لائف سپورٹ کے سہارے انہیں زندہ رکھا گیا ہے۔ دل کا دورہ پڑنے اور دس منٹ تک دل بند رہنے کے بعد مریض کا وینٹی لیٹر کی مدد سے سانسیں لے کر دوبارہ زندگی میں صحت یابی کی طرف لوٹنا ایک معجزے سے کم نہیں ہوا کرتا۔ راقم خود اس اذیت سے گزر چکا ہے اور اپنے والد گرامی کو اس حالت میں دیکھنے کے بعد کھو چکا ہے ۔اس لئے دعا ہے کہ خدا بیگم کلثوم نواز کو صحت دے  کہ والدین کا سایہ سر سے اٹھنا ایک ناقابل برداشت بوجھ ہوتا ہے۔ کلثوم نواز کی کینسر کی طویل  بیماری کے دوران جس قدر پست ذہنیت کا مظاہرہ تحریک انصاف کی قیادت اور پھر بیگم صاحبہ کو حال ہی میں  دل کا دورہ پڑنے کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے لوگوں کی جانب سے دیکھنے کو ملا اس سے اندازہ ہوا کہ محترم عمران خان نے محض وزارت عظمی کی لالچ میں ہماری سیاست سے رواداری اور شائستگی کی اقداروں کو ملیا میٹ کرتے ہوئے ایک ایسی نسل تیار کر دی ہے جو ذہنی طور پر پست ترین درجے پر فائز ہے اور جس کے نزدیک  تحریک انصاف کے علاوہ سب ڈرامہ باز اور مکار ہیں۔
جب بیگم کلثوم نواز کو کینسر تشخیص ہوا تو تحریک انصاف کی اعلی قیادت اسے ڈھونگ قرار دیتی رہی اب جب کلثوم نواز صاحبہ کو دل کا دورہ پڑا تو اس کے کارکن اسے ایک ڈرامہ قرار دینے میں مصروف ہیں۔ کلثوم نواز کے ہسپتال کے  کمرے میں ایک شخص کی  چھپ کر گھسنے کی کوشش کرنے والی مذموم حرکت دیکھ کر تحریک انصاف کی گھٹیا سیاست کا اندازہ نجوبی ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ ایک کوشش تھی  کہ دیکھا جائے کہ کیا کلثوم نواز صاحبہ واقعی بیمار ہیں یا یہ سب ایک ڈرامہ ہے؟ تحریک انصاف کی پست ترین سیاست کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس جماعت کے چند ذمہ داران  سے راقم  کی بات ہوئ تو انہیں یہ پریشانی لاحق تھی کہ اگر کلثوم نواز کو کچھ ہو گیا تو ہمدردی کا مزید ووٹ مسلم لیگ نواز کو ملے گا۔ کچھ قائدین اس بحث میں الجھے نظر آئے کہ اگر کلثوم نواز صاحبہ کو کچھ ہو جاتا ہے تو انتخابات کی تاریخ آگے بڑھانے میں ہی تحریک انصاف کی بچت ہے۔ یہ ہے اس جماعت کی گھٹیا ترین سیاست کا مکروہ چہرہ۔ اب جہاں اس جماعت کے ذمہ داران کی ذہنی سطح اتنی پست ہو وہاں اس جماعت کے کارکنوں کی پست سوچ پر ہرگز بھی تعجب نہیں ہونا چائیے۔آپ ابھی ٹویٹر یا فیس بک پر لاگ ان کیجئے آپ کو کلثوم نواز کی بیماری کے متعلق ان گنت اخلاقیات کی حد سے گرے پیغامات نظر آئیں گے۔ کوئ کلثوم نواز کی بیماری کو ڈھونگ قرار دے رہا ہو گا تو کوئی اسے شریف خاندان کی کرپشن کا مکافات عمل قرار دیتا نظر آئے گا۔ گو اتنی سطحی اور پست ذہنیت کے لوگوں کا تذکرہ کرنا وقت کا زیاں ہے لیکن پھر بھی ریکارڈ کی درستی کیلئے تحریک انصاف کے وہ اندھے پیروکاروں کو یہ بتانا ضروری ہے جو عمران خان جیسے سیاستدان اور ارشاد بھٹی جیسے چورن فروش کی باتوں پر ایمان کامل رکھتے ہیں کہ شریف خاندان اس وقت بھی پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں شامل ہوتا تھا جب یہ خاندان سیاست میں انٹر بھی نہیں ہوا تھا۔
ہاں البتہ عمران خان کے مرحوم والد دوران ملازمت کرپشن کے الزام میں برطرف ضرور ہوئے تھے۔ اسی طرح بات اگر مکافات عمل کی ہے تو پھر ایک بچی کو جنم دیکر اس کی ولدیت قبول کرنے سے انکار کرنے والا شخص یا اس کی جماعت مکافات عمل کی باتیں کرتے اچھے نہیں لگتے۔ 2011 میں سیلاب زدگان کی گھروں کی تعمیر  کیلئے ایک میڈیا کے ادارے کے ساتھ مل کر جمع کی گئ اربوں کی رقم کا کوئی حساب کتاب نہ دینے والا شخص اور چند ہزار تعمیر شدہ گھر بھی بطور ثبوت نہ پیش کرنے والا آدمی اور اس کے پیرو کار ہرگز بھی ایمانداری اور مکافات عمل کے بھاشن دیتے مناسب نہیں لگتے۔ کمال درجہ کی ڈھٹائی اور منافقت ہے کہ خود زکوۃ اور چندے کے پیسوں میں بھی خوردبرد کی جائے، کروڑوں روپے ایک عمرے کی ادائیگی پر لگا دیے جائیں اور پھر مخالفین پر کرپشن اور وسائل بے دردی سے لٹانے کا الزام لگا کر ان کی قریب المرگ بیوی اور ماں کی بیماری تک کو ڈرامہ یا کرپشن کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مکافات عمل قرار دیا جائے۔ محترم عمران خان صاحب ہمہ وقت خدا مجھے سب کچھ دے بیٹھا کی گردان الاپتے ہیں اور ان کے اندھے سیاسی مرید اس پر ایمان لاتے ہوئے سر دھنتے ہیں۔ جو شاہانہ انداز زندگی عمران خان نے اپنایا ہے بغیر کسی ٹھوس ذریعہ معاش کے اس کو قائم رکھنا فہم سے بالاتر ہے۔
خان صاحب نے بہت کرکٹ کھیلی ہے لیکن انہوں نے سچن ٹنڈولکر یا ایم ایس دھونی سے زیادہ نہ تو کرکٹ کھیلی ہے اور نہ ان دونوں سے زیادہ پیسہ کمایا ہے۔ آپ زرا دھونی اور ٹنڈولکر کی زندگی کا جائزہ لیجئے یہ دونوں سٹار اتنا پیسہ کمانے کے باوجود اپنا معیار زندگی برقراررکھنے کیلئے سائیڈ بزنس کرتے ہیں ،اشتہارات میں کام کر کے پیسہ کماتے ہیں۔ جبکہ خان صاحب گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ ہاتھ ہر ہاتھ دھر کر ایک شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ اکثر  خان صاحب کے مریدین مشرف دور  میں عمران خان کا محض وزارت عظمی کی کرسی کیلئے مشرف کے تلوے چاٹنا بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ علیم خان جیسے قبضہ مافیا ، شاہ محمود جیسے عقیدے کے سوداگر اور جہانگیرترین جیسے کرپٹ صنعتکار بھی ان اندھے پیروکاروں کو نہ صرف پارسا دکھائ دیتے ہیں بلکہ جماعت پر لگائے گئے ان کے کروڑہا روپے بھی حلال کے بن جاتے ہیں۔  عمران خان نے میڈیا ہاوسز کی پشت پناہی پر ایک مینوفیکچرڈ بیانیہ تشکیل دے کر پاکستان میں شاہ دولہ کے چوہوں کی ایک ایسی نسل تو تشکیل دے دی جو صرف عمران خان کی کہی ہوئی بات کو حرف آخر مانتی ہے لیکن خود خان صاحب کا یہ حال ہے کہ حال ہی میں بی بی سی کے مشہور زمانہ پروگرام ہارڈ ٹاک کی ایک اینکر زینب نے ان کے تمام جھوٹوں کی قلعی کھولتے ہوئے ایک گھنٹہ پر مشتمل اس پروگرام میں ان کی تاریخی کلاس لے لی۔ خیبر پختونخواہ میں بدترین کارکردگی سے لیکر ان کے انتخابی منشور کو زینب نے نہ صرف گھسا پٹا ثابت کیا بلکہ انہیں احساس بھی دلوا دیا کہ بی بی سی پر نہ تو پلانٹڈ انٹرویوز ہوتے ہیں اور نہ ہی وہاں اینکر یا چینل کی انتظامیہ کو نامعلوم نبمرز سے کالیں کروا کر سوالات و جوابات حسب منشا کئیے جاتے ہیں۔
خیر بات شروع ہوئی تھی کلثوم نواز کی بیماری سے، تو صاحب اگر آپ انسانی ہمدردی کے جذبے سے نابلد ہیں اور والدین کے بستر مرگ پر موجود ہونے کے کرب کا آپ کو احساس بھی نہیں ہے تو آپ کی ذہنی حالت پر ترس کھاتے ہوئے یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا آپ کو دوسروں کی تکالیف کو سمجھنے کے جذبے کی نعمت عطا کرے، تا کہ آپ آدمی کے درجے سے بڑھ کر انسان یعنی اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہو سکیں۔ ہمارے پنجاب کی اقدار کے مطابق تو نسل در نسل قتل کی  دشمنی رکھنے والے بھی بزرگوں کی بیماری پر حال احوال کے پرسے بھیجتے ہیں اور وقتی طور ہر سیز فائر کر لیتے ہیں یہ تو پھر سیاست ہے۔  اقتدار ایک ثانوی چیز ہے اور سیاسی مخالفت کے بھی کچھ آداب ہوا کرتے ہیں خود کو احساس برتری کے مرض میں مبتلا کر کے مخالفین کو کمتر سمجھنا اور بیماری کو مذاق بنانا سیاست اور ذہنی سطح کی پست ترین مثال ہے۔ خان صاحب کو مبارک ہو کہ ان کی بدزبانی اور نفرت کی سیاست نے ان کے پیروکاروں کو اس نچلے ترین درجے پر فائز کر دیا ہے جہاں احساس اور تہذیب نام کی کسی شے کا تصور بھی ناپید ہے۔
Facebook Comments HS