میں ایک ماں اور فیمنسٹ ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک ماں ہوں، ایک کام کرنے والی عورت ہوں اور مجھے اپنے اچھی ماں ہونے کے ثبوت کے طور پر کسی مرد بالخصوص عمران خان کا سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے۔ یہ میرا ہی نہیں اس ملک کی بے شمار عورتوں کی تمام مرد حضرات سے درخواست ہے۔ یہ کوئی بہت فخر کی بات نہیں ہے کہ ملک کے متوقع وزیر اعظم کا عورتوں کے بارے خیال ہے کہ اس کا کام صرف ماں کا رول نبھانا ہے اور گھر سے باہر کام کاج کے مغربی فیمینسٹ تصور سےیہ متاثر ہو جاتا ہے۔ جمہوریت ہمیں آج کے مغرب والی چاہے اور سوچ ہماری قبل اسلام عرب معاشرے سی ہے۔میرا قلم اٹھانا اس لیئے بھی واجب ٹھہرا کہ یہ قصہ کوئی آج کا، کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں۔ یہ  ہمارے ہر سیاسی جماعت کے  وزرا نے عورتوں کو کیا کیا القاب نہیں دئے۔ اچھا پاکستانی وہ ہی تصور کیا جاتا ہے شاید جو مجوزہ حد سے باہر نکلتی عورت کی تحقیر کر سکے پھر اسے فاحشہ کہے یا بلڈوزر۔ پاکستانی مرد نے یہ ٹھیکہ اٹھا رکھا ھے کہ وہ پاکستانی عورت کو تقسیم کرے گا –اچھی اور بری عورت میں اور پھر اس میں مرد کا فائدہ ہی ہے کہ اس کی سوچ کا علم اچھی عورت خود ہی اٹھا کر بری عورت (فیمنسٹ پڑھا جائے) کو لعنت ملامت کر لے گی۔

ہمارے پڑھے لکھے مرد کو کوئی یہ بتائے کہ ہمارے رسول  کی پہلی بیوی حضرت خدیجہ ایک گھر سے باہر نکل کر تجارت کرنے والی عورت تھیں۔ وہ بہترین ماں تھیں۔ کیا ان کا طرز زندگی مغرب سے درآمد کیا گیا تھا۔ عورت کی قدر اور آزادی اسلام کی دین ہے۔ مگر جو بات میرا خون کھولاے دیتی ہے وہ یہ ہے کہ میرا اسلامی ملک دنیا میں عورت سے سلوک کے معیار پر آخری ملک میں آتا ہے۔ ہمارے مرد اٹھ کر بڑے آرام سے گھر کی واحد کفیل جوان بچیوں کو سر عام گولی مار دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بارہ ملین کے لگ بھگ عورتیں اس الیکشن میں ووٹ دینے کے بنیادی حق سے محروم رہ جایئں گی۔ اس لئے کہ جناب تنگ ذہن رکھنے والے مرد ان کے بنیادی حقوق نہیں دینا چاہتے۔جس ملک میں قانون بنانا پڑے کہ دس فیصد خواتین سے کم ووٹرز کی صورت میں الیکشن معطل کر دیا جاے گا، جہاں عورت تب تک جنرل سیٹ سے الیکشن نہ جیت سکے جب تک اس کے سر پر بڑا سیاسی خاندانی نام نہ ہو۔ جہاں آج بھی ایسے علاقے ہیں جدھر عورت نے کبھی ووٹ نھیں دیا۔ وہاں تو ہمیں ایسے لیڈر چاہیں جو عام عورت کا حوصلہ بڑھایئں نہ کہ اس کی خودمختاری کی تضحیک کریں۔

ہمارے ملک میں کتنی ہی  مائیں اپنے بچے پالنے کے لیے اکیلی محنت کرتی ہیں کیونکہ ان کے مر د گھر سے باھر منہ مارتے ہیں اور بچے پیدا کر چھوڑ چل نکلتے ہیں۔ فیمینزم کو پڑھے جانے بغیر ہی ہمارے معاشرے میں اسے گالی کے طور پر لیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے ہے کہ اس کا مطلب مادر پدر آزادی ہے۔ باقی تمام نظریات کی طرح اس میں بھی خرابیاں ہو سکتی ہیں مگر جو بنیادی بات ساری دنیا متفقہ مانتی ہے وہ یہ ہے کہ عورت کو اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے اس کا فیصلہ کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا مرد کو ہے۔ یہ کلیہ انسانی حقوق کا کلیہ ہے نہ کہ مغرب یا مشرق کا۔

مردوں کے اس رویے کو سیکسزم کہا جاتا ہے اور اس کی کمی مغرب میں بھی نہیں۔ آسٹریلیا کی سابق خاتون وزیر اعظم جولیا گرارڈ جنہیں اپنے دور حکومت میں عورت ہونے کے ناطے سخت سیکسسٹ رویوں کا نشانہ بنایا گیا نے کہا تھا، “ہم عورتیں اپنے بنیادی حقوق اور اپنے فرایض کے اوپر کسی سیکسٹ مرد سے لیکچر نہیں لیں گی، نہ آج، نہ کل اور نہ کبھی”۔

میں بھی بالکل امید نہیں رکھتی کہ پاکستانی مرد اگلی کئی صدیوں تک فیمنزم یا عورت کےحق کے بارے اپنے خیالات بہتر کرے گا۔ لیکن میں بھی اپنی پاکستانی بہنوں، ماوں کی طرف سے آپ میں موجود سیکسٹ مرد حضرات پر یہ واضح کر دوں کہ ہم پاکستانی عورتیں بھی  آپ سے بہتر ماں، اچھی عورت اور فیمنزم کے نقصانات کے بارے لیکچر نہیں لیں گی، نہ آج، نہ کل اور نہ ہی کبھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرۃ العین فاطمہ

قرۃ العین فاطمہ آکسفورڈ سے پبلک پالیسی میں گریجویٹ، سابق ایئر فورس افسراور سول سرونٹ ہیں۔

quratulain-fatima has 16 posts and counting.See all posts by quratulain-fatima