پاکستان نے ایٹم بم کے پرزے اور ٹیکنالوجی کہاں سے حاصل کی؛ سابق سفیر جمشید مارکر بتاتے ہیں


پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی وہ کہانی جو کسی کو معلوم نہیں،کس طرح اور کہاں سے پرزے اور ٹیکنالوجی حاصل کی گئی،پہلی مرتبہ نا قابل یقین حد تک حیران کن تفصیلات منظر عام پر

بھارتی اخبار کے مطابق جمشید مارکر براہ راست جنرل ضیاء الحق کی نگرانی میں کام کرتے تھے اور انہوں نے پاکستان کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا اور یورپی فرمز سے بھاری قیمت کے عوض ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی۔ 30سالوں میں جمشید مارکر نے کئی اہم پاکستانی سفارت خانوں میں خدمات سرانجام دیں لیکن بون، پیرس اور واشنگٹن میں بطور پاکستانی سفیر تعینات ہونے پر وہ انتہائی کامیابی کے مرحلے میں داخل ہوئے۔ یہ تمام کامیابیاں انہوں نے 1977ء سے 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سمیٹیں۔ آپ بیتی میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی تعریف کی کہ انہوں نے انتہائی چالاکی کے ساتھ مغرب کی توجہ دوسری طرف مبذول کیے رکھی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرف انہیں متوجہ نہیں ہونے دیا۔ جمشید مارکر نے اپنی کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے آگاہ تھیں لیکن وہ افغان جنگ کے باعث جنرل ضیاء الحق کو اس سے باز رکھنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔

Facebook Comments HS