کیا باپ دوست نہیں بن سکتا؟
جب پاپ میوزک عروج پر تھا اور نت نئے بینڈز نے اپنی جگہ بنانی شروع کی تو وہ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ بیٹا شوق سے انھیں دیکھ رہا ہے گنگنا رہا ہے وہ بڑبڑانے لگتے تھے، چیزیں پٹختے تھے جس سے وہ خوف سے اپنے شوق کو وہی دفن کر دیتا تھا۔ کھانے کی میز پر دو سے تین بار پانی مانگنے پر پڑنے والی ڈانٹ نے اسے ڈائننگ ٹیبل پر آنے سے دور کیا تو نوبت یہاں تک بھی آئی کہ عید کی نماز پر وہ پورے محلے سے گلے ملتا لیکن باپ سے گلے ملنے کا وقت آتا تو اسے خوف کی بلا لپیٹ لیتی اور وہ پہلے گھر آجاتا۔ محلے میں کھیلی جانے والی کرکٹ میں کئی بار اس نے اپنے دوستوں کے سامنے عزت افزائی سہی۔ آہستہ آہستہ بال پر لپٹی لال ٹیپ اکھڑنے لگی، اسٹور روم میں رکھا بلا گرد آلود ہونے لگا۔ گھر چھپا کر لائی گئی گٹار ابا کے دفتر آنے سے پہلے بجائی جاتی تھی جس روز ابا کو وہ دکھائی دی اس کے سر بکھیرنے والے ٹوٹے تار پھر کبھی نہ جڑ سکے۔ وہ ا بو کی زبان سے اپنے بھانجوں، بھتیجوں کی تعریفیں سن سن کر سن بلوغت میں داخل ہوا۔ جہاں کئی مسئلے لڑکوں کو درپیش ہوتے ہیں جو باپ ہی سمجھ سکتا ہے لیکن اسے کیا بٹھا کر پوچھا جاتا یا سنا جاتا تھا ، اس وقت تک تو خوف کا ناگ اس سے لپٹ چکا تھا ۔ رات بھر وہ لائیٹ آن کر کے سوتا تھا۔ کبھی کبھی خوف سے اسکی آنکھ کھلتی کہ جیسے ا با ا س کو پکار رہے ہو اور آواز میں غیظ و غضب ہو وہ نیند سے اٹھ کر پورے گھر کا جائزہ لیتا اور پھر سو جاتا۔ اس کو جاگتے سوتے آوازیں سنائی دیتیں۔ اس نے تنہائی میں رہنا شروع کردیا جب جب والد اس سے کوئی سوال اونچی آواز میں کرتے اسے کپکپاہٹ طاری ہونے لگتی۔
ان ہی حالات میں اس نے ڈگری بھی حاصل کرلی وہ پائلٹ یا انجینئر کیا بنتا بس ایک ڈگری ہولڈر ہی بن گیا۔ بے خوابی، کپکپاہٹ، خوف تب زائل ہونے لگا جب باپ بستر مرگ پر آیا تب تک دیر ہوچکی تھی۔ شکایتوں اور شکووں کا ایک نہ ختم ہونے والا انبار تھا بیٹے کی آنکھ میں اپنے لئے اجنبیت تو باپ کو بھی دکھائی دے رہی تھی لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ نا امیدی اور کچھ وقت مل جائے میں کچھ ٹھیک کردوں کی خواہش لئے باپ دنیا چھوڑ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج بیٹا باپ کو یاد کرتا ہے بات بے بات کرتا ہے لیکن تلخ باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ کہانی صرف اسماء کے گھرانے کی نہیں بہت سے گھروں کی ہے جہاں باپ کو یہ سمجھادیا جاتا ہے کہ اگر رعب اور دبدبہ نہ رکھا تو تم اچھے باپ نہیں کہلاو گے، اولاد خاص کر بیٹا ہاتھ سے نکل جائے گا۔
ہمارے معاشرے میں جہاں نئے شادی شدہ جوڑوں کو بے سروپا رسم و رواج کی پابندی کی تاکید کی جاتی ہے وہی ایک بات نظر انداز بھی کی جاتی ہے کہ زندگی کا نیا سفر جو بظاہر خوبصورت نظر آتا ہے اسے کیسے شروع کرنا ہے؟ جب نشیب و فراز آئیں تو کیسے ان سے نکلنا ہے۔ جب یہی جوڑا صاحب اولاد ہوتا ہے تو اس کے لئے یہ بات سب سے ز یادہ مشکل ہوتی ہے کہ اولاد کو کیسے پالنا ہے، بزرگ اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ نومولود کا نام عین اسلامی ہو، سر ٹیڑھا نہ ہوجائے گول تکیہ سر کے نیچے رکھو، دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار لازمی دلواؤ، بچے کو ڈراونے خواب نہ آئیں اس کے بستر کے نیچے لوہے کی کوئی شے رکھ دو ، اسے کسی کی نظر نہ لگ جاے ہاتھ یا گلے میں پڑھا ہوا کوئی کالا دھاگہ ڈال دو۔ کوئی یہ نہیں سمجھا رہا ہوتا کہ میاں اب خیر سے باپ بن گئے ہو اب بیٹے کو دوست بناو۔ اسے اچھی اچھی باتیں سکھانا ، اسے خود سے قریب رکھنا۔ اس کی پرورش میں صرف اچھا اسکول، مہنگے کپڑے، جوتے، بیگ، کھلونے شامل نہیں تمہارا رویہ، لہجہ، اور وقت سب سے بڑا سرمایہ ہوگا جو تمہارے بڑھاپے میں پنشن کی صورت میں تمہیں ملے گا۔
اسی طرح بیٹی اگر اپنی ماں سے یا ساس سے یہ کہے کہ اس کا شوہر جب کام سے گھر لوٹتا ہے تو چڑچڑ ا ہوتا ہے ، اسے سب ناگوار گزر رہا ہوتا ہے تو اسے یہ مشورہ مفت دیا جاتا ہے کہ بیٹا جب میاں گھر آئے تو بچوں کو ادھر ادھر کردیا کرو۔ ذرا ڈرا دیا کرو کہ ابو آئیں گے تو کوئی سوال مت کرنا جاکر تنگ نہ کرنا، بھاگتے دوڑتے نظر نہ آنا ورنہ وہ ماریں گے۔ اس مشورے کو رواج سمجھتے ہوئے ہر گھر میں ایسے اپنایا گیا کہ بچوں نے باپ کو ایک ظالم آدمی، ولن اور دشمن کے روپ میں دیکھنا شروع کردیا۔ انھیں یہ محسوس ہونے لگا کہ دوست صرف ماں ہوتی ہے، دکھ سکھ وہی سمجھ سکتی ہے وہی ہے جو دل جوئی کرے گی وہی ہے جو مشکل سے نکالے گی۔ باپ کی ناراضگی کا خوف دنوں میں پلتا پلتا برسوں پر محیط ہوجاتا ہے اور پھر نہ ختم ہونے والے فاصلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



