کیا باپ دوست نہیں بن سکتا؟
اس سے ہرگز انکار نہیں کہ بچوں خصوصا بیٹے پر باپ کا رعب ہونا چائیے۔ لیکن یہ سوچنا کہ جتنی مار پیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تو بچہ تیر کی طرح سیدھا رہے گا یہ درست نہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پہلی اولاد اگر وہ بھی بیٹا ہو تو اسے یا تو بے جا لاڈ پیار سے بگاڑ دیا جاتا ہے یا پھر اتنی سختی کی جاتی ہے کہ جوانی میں پہنچتے ہی اس بچے کی شخصیت مسخ ہوچکی ہوتی ہے۔ وہ جو دیکھتا بڑا ہوتا ہے وہی اس کی عادت اور پھر فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکثر مائیں اس بات کا شکوہ کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ان کا بیٹا ہائپر ہے چیزیں توڑتا ہے، لوگوں سے صحیح منہ بات نہیں کرتا، مغلظات اور پر تشدد رویہ اپناتے ہوئے گھر کا ماحول کو کشیدہ بنا دیتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے وہ تمام عوامل ہوتے ہیں جو اس کو ایسا بنانے میں کبھی نہ کبھی مددگار رہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک گھر میں چار بچے ہیں اور پہلے بچے کو انتہائی سختی، رعب کا سامنا رہا ہو اور چھوٹے بچے کے ساتھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باپ کا رویہ شفقت سے بھرپور ہو تو وہ بچہ اپنے ساتھ ہونے والے روئیے کو یاد کرکے احساس کمتری میں مبتلا ہونے لگتا ہے کہ اسے کیا پیار نہیں کیا جاتا؟ کیا وہ اپنے باپ کی نظر میں اچھا بیٹا نہیں؟ کیا وہ سب غلط کرتا ہے؟ بچے کو یہ سمجھانا مشکل ہوچکا ہوتا ہے کہ اس کا باپ بھی سیکھنے اور تربیت کے مرحلے میں ہے اگر وہ پہلی اولاد ہے تو اس کے باپ کا بھی یہ پہلا تجربہ ہے کہ وہ اسے کیسے پالے۔
یہاں کردار والدین کا اہم ہے جو اس بات پر تو بہت نازاں ہوتے ہیں کہ ہم نانا، نانی اور دادا ، دادی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ ہمارے آنگن میں اب بچوں کی چہکار ہوگی رونق لگے گی۔ بیٹی کے والدین شکر ادا کرتے ہیں کہ بیٹی کا گھر اور مضبوط ہوگیا قدم جم گئے تو بیٹے کے ماں باپ خوشیاں مناتے ہیں کہ انکے بیٹے کا وارث آگیا ان تمام تر شکر گزاریوں اور خوشیوں کے ساتھ ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس نئی کلی کو کھلنے تک ان کی آبیاری مالی کو کیسے کرنی ہے ، ماں اگر اولاد کی تربیت اس کے کھانے پینے، پہناوے کا خیال رکھ رہی ہے تو باپ کا بھی فرض ہے کہ وہ گھنٹوں محنت کرنے کے بعد جب گھر کو لوٹے اور تھکن کم ہونے لگے تو اپنے بچے کو پاس بلائے اس سے اسکی باتیں سنے۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو جوڑے، کسی تصویر پر ٹیڑھی میڑھی لکیروں پر ایک رنگ بکھیر کر قہقہہ لگادے۔ پارک میں لے جائے تو بچے کے کپڑوں سے گرد جھاڑ کر ایک تھپکی دے اور گھڑی دیکھتے ہوئے یہ کہہ دے کہ اب صرف پانچ منٹ رہتے ہیں جاو اور سلائیڈز لے لو۔ سلائیڈ کے مزے اور باپ کی مسکراہٹ دیکھ کر بچہ میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ اس کی جوتے کے تسمے باندھنے والا یہ شخص کوئی ظالم آدمی نہیں اس کا دوست ہے۔ اگر وہ کبھی کھیلتے کھیلتے گر پڑے گا تو یہ شخص اسے اٹھائے گا، چوٹ پر پھونک مارے گا اور کہے گا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا میں ہوں ناں۔
اسے دفتر سے اپنے باپ کے آنے کا انتظار رہے گا۔ بہت سی ادھوری کہانیاں اس نے باپ کو سنانے کے لئے رکھ چھوڑی ہوں گی۔ کوئی نیا کارٹون یا ا سکول میں بننے والے نئے دوست کا تعارف دینے کی بے چینی رہے گی۔ گھر میں بننے والے فرائز وہ اپنے باپ کے ساتھ چسکے لے لے کر کھائے گا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ اگر وہ کوئی سنگین شرارت کرے گا تو بابا ناراض بھی ہوسکتے ہیں۔ پارک لے جانا چھوڑ سکتے ہیں اس نے اگر اسکول میں کسی کو مارا یا گھر میں کوئی نقصان کیا تو وہ کارٹون نہیں دیکھ سکتا ۔ بابا اس سے بات چیت بند کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے بابا کو کبھی کبھی غصہ آتا ہے اور جب آجائے تو اس سے ڈر بھی لگتا ہے۔ بابا ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں ان کا موڈ آف اسے پسند نہیں اس لئے وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا جو اس کے بابا کو اس سے خفا کردے۔
بیٹی باپ کو آئیڈل مانتی ہے لیکن بیٹا ماں سے قریب ہوتا ہے باپ بیٹا دوست نہیں بن سکتے یہ ہماری سوچ ہے جسے ختم کرنا ہوگا، برف کو پگھلنا ہوگا ، یہ سب بدلنا ہوگا۔ کراچی کے ساحل پر روز صبح اس خودساختہ رعب اور دبدبے کے شکار رشتے کو ایک چالیس سالہ باپ اپنے چودہ برس کے بیٹے کے ساتھ جاگنگ کرکے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسپورٹس کلب میں اسکواش کا شوقین ایک بارہ سالہ بچہ دیوار پر گیند کو بار بار مار کر پوائنٹ اسکورنگ کے بعد پسینہ پونچھتے ہوئے مسکرا کر شیشے کے دوسری جانب بیٹھے باپ کو دیکھتا ہے ۔ اور حد تو دیکھئے تین سالہ سالار جو باپ کو آفس سے دیر سے آنے پر صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر لیٹے لیٹے یہ کہتا ہے ۔ یار بابا میں آپ سے ناراض ہوں آپ اب روز دیر سے آتے ہیں مجھے” ہنٹورس بگر کھانے جانا ہے” (سینٹورس برگر کھانے جانا ہے) اور بابا کپڑے تبدیل کرنے کے بعد ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ چل یار ویک اینڈ پر جائیں گے ابھی باہر سے چپس اور جوس لیکر آتے ہیں۔ سالار کو بابا سے ڈر نہیں لگتا ، بابا ٹی وی دیکھتے دیکھتے سو جائیں تو ریمورٹ ہاتھ سے لیکر ٹیبل پر اور کمرے سے تکیہ لے کر بابا کے سر کے نیچے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بابا آفس سے آکر جوتے اتار کر پلنگ کے پاس رکھ دیں تو وہ ایک ایک کر کے بھاری بھرکم جوتے اس کی جگہ پر رکھ کر آتا ہے اور پھر اپنی گاڑی جو بابا نے اسے لاکر دی تھی ایسے لاکر دکھاتا ہے جیسے آج ہی خریدی ہو۔ رات سونے سے پہلے وہی پرانی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جنگل کی کہانی سناتا ہے جس میں ایک گھر ہے اس میں دادو بھی ہیں ماما بھی، آغا بھی ہیں لالہ بھی اور اس گھر کے گارڈن میں سالار بیٹھا ہے بابا فورا لقمہ دیتے ہوئے چڑانے کے لئے کہتے ہیں کہ سب ہیں لیکن بابا نہیں ہیں اس پر سالار کبھی ناز سے تو کبھی سختی سے کہتا ہے جی نہیں، بابا ہیں۔۔ بابا ہیں ۔۔ بولیں ناں بابا ہیں اور پھر یہ کہتے کہتے سینے سے لپٹ جاتا ہے


