ہوئے مر کے ہم جو رسوا


اُن سے پیچھا چھڑا کر کچی پکی قبریں پھاندتا میں منشی ثناءاللہ کے پاس جا پہنچا، جو ایک کتبے سے ٹیک لگائے بیری کے ہرے ہرے پتے کچرکچر چبا رہے تھے اور اس امرپربار بار اپنی حیرانی کا اظہار فرمارہے تھے کہ ابھی پرسوں تک تو مرحوم باتیں کررہے تھے۔ گویا ان کے اپنے آداب جانکی کی رُو سے مرحوم کو مرنے سے تین چارسال پہلے چپ ہو جانا چاہیے تھا، بھلامرزا ایسا موقع کہاں خالی جانے دیتے تھے۔ مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے، یاد رکھو! مرد کی آنکھ اورعورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔

یوں تومرزاکے بیان کے مطابق مرحوم کی بیوائیں بھی ایک دوسرے کی چھاتی پردوہتّڑ مارمارکربین کررہی تھیں، لیکن مرحوم کے بڑے نواسے نے جو پانچ سال سے بے روزگار تھا، چیخ چیخ کر اپنا گلا بٹھالیا تھا۔ منشی جی بیری کے پتوں کا رس چوس چوس کر جتنا اسے سمجھاتے پچکارتے، اتنا ہی وہ مرحوم کی پنشن کو یاد کرکے دھوڑیں مار مار کر روتا۔ اسے اگر ایک طرف حضرت عزائیل سے گلہ تھا کہ انہوں نے تیس تاریخ تک انتظارکیوں نہ کیا تو دوسری طرف خود مرحوم سے بھی سخت شکوہ تھا

کیا تیرابگڑتا جونہ مرتا کوئی دن اور؟

ادھرمنشی جی کا سارا زوراس فلسفے پر تھا کہ برخوردار! یہ سب نظر کا دھوکا ہے۔ درحقیقت زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ کم ازکم ایشیا میں۔ نیز مرحوم بڑے نصیبہ ور نکلے کہ دنیا کے بکھیڑوں سے اتنی جلدی آزاد ہوگئے۔ مگر تم ہوکہ ناحق اپنی جوان جان کو ہلکان کیے جا رہے ہو۔ یونانی مثل ہے کہ

وہی مرتا ہے جو محبُوبِ خُدا ہوتا ہے

حاضرین ابھی دل ہی دل میں حسد سے جلے جارہے تھے کہ ہائے، مرحوم کی آئی ہمیں کیوں نہ آگئی کہ دم بھر کو بادل کے ایک فالسئی ٹکڑے نے سورج کو ڈھک لیا اورہلکی ہلکی پھوارپڑنے لگی۔ منشی جی نے یکبارگی بیری کے پتّوں کا پھوک نگلتے ہوئے اس کومرحوم کے بہشتی ہونے کا غیبی شگون قرار دیا۔ لیکن مرزا نے بھرے مجمع میں سرہلا ہلا کراس پیشگوئی سے اختلاف کیا۔ میں نے الگ لے جا کروجہ پوچھی توارشاد ہوا:

”مرنے کے لیے سنیچرکا دن بہت منحوس ہوتا ہے۔ “

لیکن سب سے زیادہ پتلا حال مرحوم کے ایک دوست کا تھا، جن کے آنسو کسی طرح تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے کہ انھیں مرحوم سے دیرنہ ربط و رفاقت کا دعویٰ تھا۔ اِس رُوحانی یک جہتی کے ثبوت میں اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے کہ بغدادی قاعدہ ختم ہونے سے ایک دن پہلے ہم دونوں نے ایک ساتھ سگرٹ پینا سیکھا۔ چنانچہ اس وقت بھی صاحب موصوف کے بین سے صاف ٹپکتا تھا کہ مرحوم کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت داغ بلکہ دغا دے گئے اور بغیر کہے سنے پیچھا چھڑا کے چپ چپاتے جنت الفردوس کو روانہ ہوگئے ۔ اکیلے ہی اکیلے!

بعد میں مرزانے صراحتہً بتایا کہ باہمی اخلاص ویگانگت کا یہ عالم تھا کہ مرحوم نے اپنی موت سے تین ماہ پیشترموصوف سے دس ہزار روپئے سکّہ رائج الوقت بطورقرض حسنہ لیے اوروہ توکہیے، بڑی خیریّت ہوئی کہ اسی رقم سے تیسری بیوی کا مہرمعجّل بیباق کرگئے ورنہ قیامت میں اپنے ساس سسرکو کیا منہ دکھاتے۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے ”اگلا صفحہ“ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6