پھٹی چاندنی اور اضافت خور

دوسرے مشاعرے کے بعد خان صاحب نے بڑی حیرت سے پوچھا، کیا یہاں ہر دفعہ یہی ہوتا ہے؟ جواب ملا اور کیا! بولے، خدا کی قسم! اس چاندنی پر اتنا جھوٹ بولا گیا ہے کہ اس پر نماز جائز نہیں! ایسے جھوٹے شاعروں کی میت کو تو حقے کے پانی سے غسل دینا چاہیے تاکہ قبر میں کم از کم تین دن تک تو منکر نکیر نہ آئیں۔

Read more

چارپائی اور کلچر

ایک فرانسیسی مف کر ّکہتا ہے کہ موسیقی میں مجھے جوبات پسند ہے وہ دراصل وہ حسین خواتین ہیں جواپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں پر ٹھوڑیاں رکھ کر اسے سنتی ہیں۔ یہ قول میں نے اپنی بریّت میں اس لیے نقل نہیں کیا کہ میں جو قوّالی سے بیزار ہوں تو اس کی اصل وجہ وہ بزرگ ہیں جو محفلِ سماع کو رونق بخشتے ہیں۔ اور نہ میرا یہ دعویٰ کہ میں نے پیانو اور پلنگ کے درمیان کوئی ثقافتی رشتہ دریافت کر لیا ہے۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ پہلی باربان کی کھّری چارپائی کی چرچراہٹ اور ادوان کا تناؤ دیکھ کر بعض نووارد سیّاح اسے سارنگی کے قبیل کا ایشیائی سازسمجھتے ہیں۔

Read more

اور آنا گھر میں مرغیوں کا

کہنے لگے۔ ”یہ نسل مٹائے نہیں مٹتی۔ جہاں تک اس جنس کا تعلق ہے دو اور دو چار نہیں بلکہ چالیس ہوتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو خود حساب کرکے دیکھ لیجیے۔ فرض کیجیے کہ آپ دس مرغیوں سے مرغبانی کی ابتداء کرتے ہیں۔ ایک اعلٰی نسل کی مرغی سال میں اوسطاً دو سو سے ڈھائی سو تک انڈے دیتی ہے۔ لیکن آپ چونکہ فطرتاً قنوطی واقع ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ مانے لیتے ہیں کہ آپ کی مرغی ڈیڑھ سو انڈے دے گی۔“

میں نے ٹوکا۔ ”مگر میری قنوطیت کا مرغی کی انڈے دینے کی صلاحیت سے کیا تعلق؟“

بولے۔ ”بھئی آپ تو قدم قدم پر الجھتے ہیں۔ قنوطی سے ایسا شخص مراد ہے جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالٰی نے آنکھیں رونے کے لیے بنائی ہیں۔ خیر۔ اس کو جانے دیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حساب سے پہلے سال میں ڈیڑھ ہزار انڈے ہوں گے اور دوسرے سال ان انڈوں سے جو مرغیاں نکلیں گی وہ دو لاکھ پچیس ہزار انڈے دیں گی۔ جن سے تیسرے سال اسی محتاط اندازے کے مطابق، تین کروڑ سینتیس لاکھ پچاس ہزار چوزے نکلیں گے۔ بالکل سیدھا سا حساب ہے۔“

پھر ایک اتوار کو شور سے آنکھ کھلی تو دیکتھا ہوں کہ بچے اصیل مرغ کو مار مار کر بیضوی پیپر ویٹ پر بٹھا رہے ہیں۔ مانتا ہوں کہ اس دفعہ مرغ بے قصور تھا۔
جو حضرات الام دنیوی سے عاجز و پریشان رہتے ہیں، ان کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ مرغیاں پال لیں۔ پھر اس کے بعد پردہٴ غیب سے کچھ ایسے نئے مسائل اور فتنے خودبخود کھڑے ہوں گے کہ انہیں اپنی گزشتہ زندگی جنت کا نمونہ معلوم ہوگی!

Read more

جمہوری بدو اور آمریت کا اونٹ

تیسر ی دنیا کے کسی بھی ملک کے حالات پر نظر ڈالیے۔ ڈکٹیٹر خود نہیں آتا۔ لایا اور بلایا جاتا ہے اور جب آ جاتا ہے تو قیامت اس کے ہم رکاب آتی ہے۔ پھر وہ روایتی اونٹ کی طرح بدوﺅں کو خیمے سے نکال باہر کرتا ہے۔ باہر نکالے جانے کے بعد کھسیانے بدو…

Read more

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیز و تکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کوضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ قطۂ تاریخِ وفات ہی سہی۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چُپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ…

Read more

ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار

(یہ مضمون تقریباً ربع صدی قبل مشتاق احمد یوسفی نے امریکن سنٹر کراچی کی ایک تقریب میں پڑھا تھا۔) میں طلوع آفتاب سے قبل SEA VIEW کمپلیکس کے مقابل ساحل سمندر پر جاتا ہوں۔ اس وقت وہاں پانچ چھ سے زیادہ افراد نہیں ہوتے۔ بابر نے اپنی توزک میں بڑے رنج کے ساتھ لکھا ہے…

Read more