یوسفی صاحب کے ہمراہ قیمتی لمحات کی کہانی

’’یہ جیو کے پروڈیوسر ہیں، آپ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ سروش صاحب نے کمرے کے دروازے سے میرا تعارف کروایا۔ یوسفی صاحب نے خالی خالی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ میں جھجکتا ہوا اس کمرے میں داخل ہوا جو پرانی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن یوسفی صاحب کی سامنے ان کی اپنی نئی کتاب دھری تھی۔ وہ اس پر دستخط کررہے تھے۔ دستخط کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ چند لمحے۔ لیکن مجھے ایسا لگا کہ وہ بہت بنا سنوار

Read more

اردو مزاح کا عہدِ یوسفی ختم ہو گیا

بیسویں صدی کے اولین عشروں کی بات ہے کہ انڈین شہر جےپور سے عبدالکریم یوسف زئی نامی ایک شخص کسی کام کے سلسلے میں پشاور گیا۔ لیکن جب انھوں نے وہاں اپنا تعارف یوسف زئی پٹھان کے طور پر کروایا تو مقامی لوگ ہنس دیے۔ وجہ یہ تھی کہ عبدالکریم کا خاندان قبائلی علاقہ چھوڑ کر کئی صدیاں قبل ریاست راجستھان میں جا آباد ہوا تھا اور وہ شکل و صورت، زبان، لہجے اور چال ڈھال سے مکمل طور پر

Read more

اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی انتقال کر گئے

اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی 95 برس کی عمر میں بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ مشتاق یوسفی چار ستمبر سنہ 1923 کو راجھستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کو ادب میں نمایاں کارکردگی پر حکومت پاکستان کی جانب سے سنہ 1999 میں ستارۂ امتیاز

Read more

چاہ یوسفی۔ چراغ تلے سے شام شعر یاراں تک کا سفر

یہ تحریر پہلی مرتبہ 24 نومبر 2014 کے دن شائع ہوئی تھی۔ مشتاق احمد یوسفی نے بلاشبہ اردو کے ممتاز ترین مزاح نگار کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی ہے۔ ان کی حال میں ہی سامنے آنے والی کتاب ”شام شعر یاراں“ کو مایوس کن اور یوسفی کے معیار سے ہٹی ہوئی کتاب کہا جا رہا ہے۔ لیکن کیا ایسا ہی ہے؟ لوگوں کی توقع تھی کہ چوبیس سال کے طویل انتظار کے بعد یوسفی ایک نیا شاہکار مزاح پارہ

Read more

ڈیڑھ فٹ چوڑی دیوار

(یہ مضمون تقریباً ربع صدی قبل مشتاق احمد یوسفی نے امریکن سنٹر کراچی کی ایک تقریب میں پڑھا تھا۔) میں طلوع آفتاب سے قبل SEA VIEW کمپلیکس کے مقابل ساحل سمندر پر جاتا ہوں۔ اس وقت وہاں پانچ چھ سے زیادہ افراد نہیں ہوتے۔ بابر نے اپنی توزک میں بڑے رنج کے ساتھ لکھا ہے کہ ہماری ہندوستانی فوج جب دریا کے کنارے خیمہ زن ہوتی ہے تو اپنی پشت دریا کی طرف کر لیتی ہے۔ یہی رویہ ساکنان کراچی

Read more

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیز و تکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کوضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ قطۂ تاریخِ وفات ہی سہی۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چُپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کوبلکہ خُود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ لیکن مرزا نے چپ ہونا سِیکھا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح

Read more

عہد یوسفی تمام ہوا: مشتاق احمد یوسفی انتقال کر گئے

ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی کراچی میں انتقال کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق مشتاق یوسفی طویل عرصے سے علیل تھے۔ اردو ریسرچ جرنل میں ان کے فن اور شخصیت پر شائع شدہ مضمون شکریے کے ساتھ ہم سب پر شائع کیا جا رہا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی ظرافت نگاری حافظ سید عبدالکریم رضوان (شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی) بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے لے کر اکیسویں صدی کے موجودہ دورمیں اردو کے طنزیہ ومزاحیہ ادب میں جو

Read more

مشتاق احمد یوسفی سے ملاقات: قہقہوں بھری چند شریر یادیں

”ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ہمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگو کے بعد کہنے لگی کہ یوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لچّے لگتے ہیں“۔ (مشتاق احمد یوسفی) صاحبو! یہ جملہ ان درجنوں قہقہہ آور غیر مطبوعہ جملوں میں سے ایک ہے جو ہم نے یوسفی صاحب سے ملاقات کے دوران انہی کی زبانی سنے اور آپ کو سنانے والے ہیں۔ جب برسوں پرانے کسی خواب کی

Read more