ہوئے مر کے ہم جو رسوا


لیکن حضورابّا کی آخری وصیت کے مطابق فیض کے اسباب بنانے میں لڑکے کی مفلسی کے علاوہ ملک کا قانون بھی مزاحم ہوا۔ “

”یعنی کیا؟ “ وکیل صاحب کے کان کھڑے ہوئے۔

”یعنی یہ کہ آج کل پُل بنانے کی اجازت صرف پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کو ہے۔ اور بالفرض محال کرچی میں چار فٹ گہرا کنواں کھود بھی لیا تو پولیس اس کا کھاری کیچڑ پینے والوں کا چالان اقدام خودکشی میں کردے گی۔ یوں بھی پھٹیچر سے پھٹیچر قصبے میں آج کل کنویں صرف ایسے ویسے موقعوں پر ڈوب مرنے کے لیے کام آتے ہیں۔ رہے تالاب، توحضور! لے دے کے ان کا یہ مصرف رہ گیا ہے کہ دن بھر ان میں گاؤں کی بھینسیں نہائیں اورصبح جیسی آئی تھیں، اس سے کہں زیادہ گندی ہو کر چراغ جلے باڑے میں پہنچیں۔ “

خدا خدا کرکے یہ مکالمہ ختم ہوا تو پٹاخوں کا سلسلہ شروع ہوگیا:

”مرحوم نے کچھ چھوڑا بھی؟ “
”بچے چھوڑے ہیں!“
”مگردوسرا مکان بھی تو ہے۔ “
”اس کے کرایے کو اپنے مرزا کی سالانہ مرمت سفیدی کے لیے وقت کرگئے ہیں۔ “

”پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ بیاہتا بیوی کے لیے ایک انگوٹھی بھی چھوڑی ہے۔ اگر اس کا نگینہ اصلی ہوتا تو کسی طرح بیس ہزار سے کم کی نہیں تھی۔ “
”توکیا نگینہ جھوٹا ہے؟ “
”جی نہیں۔ اصلی امی ٹیشن ہے! “
”اوروہ پچاس ہزارکی انشورنس پالیسی کیا ہوئی؟ “
”وہ پہلے ہی منجھلی کے مہر میں لکھ چکے تھے۔ “

”اس کے بارے میں یار لوگوں نے لطیفہ گھڑرکھا ہے کہ منجھلی بیوہ کہتی ہے کہ سرتاج کے بغیرزندگی اجیرن ہے۔ اگر کوئی ان کو دوبارہ زندہ کردے تو میں بخوشی دس ہزار لوٹانے پرتیارہوں۔ “
”مرحوم اگرایسا کرتے ہیں تو بالکل ٹھیک کرتے ہیں۔ ابھی توان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہوگا۔ مگر سننے میں آیا ہے کہ منجھلی نے رنگے چنے دوپٹے اوڑھنا شروع کردیا ہے۔ “
”اگر منجھلی ایسا کرتی ہے تو بالکل ٹھیک کرتی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ ایک زمانے میں لکھنؤ کے نچلے طبقے میں یہ رواج تھا کہ چالیسویں پرنہ صرف انواع و اقسام کے پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا، بلکہ بیوہ بھی سولہ سنگھارکرکے بیٹھتی تھی تاکہ مرحوم کی ترسی ہوئی روح کماحقہ، متمتّع ہوسکے۔ “مرزا نے ’ح‘ اور‘ ع‘صحیح مخرج سے ادا کرتے ہوئے مَرے پر آخری دُرّہ لگایا۔

واپسی پر راستے میں میں نے مرزا کو آڑے ہاتھوں لیا“جمعہ کو تم نے وعظ نہیں سنا؟ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ مَرے ہُوؤں کا ذکر کرو تو اچھائی کے ساتھ۔ موت کو نہ بھولو کہ ایک نہ ایک دن سب کو آنی ہے۔ “

سڑک پار کرتے کرتے ایک دم بیچ میں اکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ فرمایا ”اگر کوئی مولوی یہ ذمّہ لے لے کہ مرنے کے بعد میرے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ لکھا جائے گا تو آج ہی۔ اِسی وقت، اِسی جگہ مرنے کے لیے تیاّرہوں۔ تمہاری جان کی قس سم!“
آخری فقرہ مرزا نے ایک بے صبری کار کے بمپر پر تقریباً اکڑوں بیٹھ کر جاتے ہوئے ادا کیا۔
(جولائی 1961ء)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6