ایک انسان کا نا حق قتل پوری انسانیت کا قتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام تکریم اور انسانیت کا دین ہے یہ اپنے ماننے والوں کو امن، تحمل، برداشت اور بقاء کی باہمی تعلیم دیتا ہے بلکہ ایک دوسرے کےعقائد اور نظریات کا احترام بھی سکھاتا ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ بلا تفریق رنگ و نسل تمام انسانوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اسلام میں انسانی جان کی قدر و قیمت کا ندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تکریم انسانیت کے حوالے سے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے۔ ترجمہ: ” جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا ) کے بغیر نا حق قتل کر دیا تو گویا اس نے معاشرے کے تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا“۔ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے بغاوت نہیں کر رہے آئے روز نا حق خون بہایا جا رہا ہے کبھی غیرت کے نام پر تو کبھی دشمنی کے نام پر۔ جب سے ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکموں اور امام الانبیا حضرت محمد ﷺ کی سنت کی پیروی کرنے سے منہ موڑا ہے۔

یہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔ آج بھائی غیرت کے نام پر اپنی بہن کو قتل کر رہا توبہن اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے بھائی کو قتل کر رہی، باپ بیٹے کو قتل کر رہا ہے بیٹا باپ کو قتل کر رہا، شوہر اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کی جان لے لیتا ہے اور بیوی اپنے بیٹوں، بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کی جان لے لیتی ہے، بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اور بیٹیوں کو جہیز کا سامان کم لانے کی وجہ سے ان کی جان لے لی جاتی ہے ، اگر طلاق یافتہ عورت اپنے جہیز کی واپسی کا مطالبہ کرے تواس کوقتل کر دیا جاتا ہے۔ کیا ہم انسان کہلانے کے لائق ہیں۔

ظالم قیامت کے دن ذلت آمیز اندھیروں میں ہو گا اور ظالموں کو جہنم کی دہکتی آگ میں ڈالا جائے گا، چنانچہ قیامت کے دن ظالموں سے مظلوموں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے۔ روز محشر ہم اللہ تعالیٰ کا سامنا کس طرح کریں گے کہیں ایسا نا ہو کہ ہم روز محشر اس کی رحمت سے محروم ہو جائیں۔ شیطان تو ازل سے انسان کا دشمن رہا ہے اس کی تو کوشش ہوتی ہے کہ اللہ کے بندے اس کے حکم کو توڑتے رہیں اور جہنم کا ایندھن بنتے رہیں۔ دور حاضر کا معاشرہ ظلم اور بربربیت کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ آج ظلم کی اندھیر نگری اور زبردستی کا عالم یہ ہے کہ اگر زیردست اور مظلوم طبقہ ظلم و ستم کی اس چکی اور کال کوٹھڑی سے نکلنا بھی چاہے تو نہیں نکل سکتا۔ ظالم کو ظلم کرنے سے نہ روکنا یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجتماعی سزا اور عذاب کا سبب ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے۔ ترجمہ: اگر لوگ کسی کو دیکھیں جو ظالم ہو اور وہ اس کو اپنے بازؤں (روکنے کی خاطر قوت) سے کام نہ لیں تو عنقریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے عذاب نازل کردے جو تمام لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے لیگا۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ)۔

آج ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو ہزاروں کی تعداد میں ایسے واقعات ملتے ہیں جس سے انسان لرز جاتے ہیں زمین کانپ اٹھی ہے۔ زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد اس درندہ صفت انسان کو سرعام پھانسی دی جاتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ مہوش کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مردوں کی ہوس پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ ہوس کے پجاری اپنی ہوس کومٹانے کے لیے کس حد تک گرسکتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا لیں۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنی عزت کو اس مرد کے حیوانی جذبات کی بھینٹ نہ چڑھایا، اس کی ہوس پرست خواہشات کو اپنی جوتی تلے روند دیا۔

مان لیتے ہیں مرد اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے درندہ بن جاتا ہے۔ سیکیورٹی گارڈ کے بیان کے مطابق ڈیرھ سال سے مہوش کی اس سے دوستی تھی اور وہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن اچانک مہوش نے شادی کرنے سے انکار کر دیا جس پر غصے میں آکر اسے گولی مار ڈالی۔ اللہ تعالیٰ کی حدود کو جب انسان کراس کرتا ہے تو پھر اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑتے ہیں اسلام میں ایک دوسرے کی پسند نا پسند کا خیال رکھا گیا ہے۔

اسلام ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سالہ سال ایک دوسرے سے عشق لڑاتے رہیں اور بغیر نکاح کے لڑکوں اور لڑکیوں کا والدین سے چھپ کر ملاقاتیں کرنا حرام عمل ہے۔ کیونکہ یہی ملاقاتیں زنا کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کو تعلیم دی ہے کہ کسی غیر محرم مرد سے ضروری بات کرتے وقت نرم لہجہ نہ اختیار کرنا کیونکہ جب بھی عورت مرد سے نرم لہجہ اپناتی ہے یا لچک دکھاتی ہے تو بہت سی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ اسلام کو چھوڑ کر ہم راستے سے بھٹک چکے ہیں جب انسان راستے سے بھٹک جاتا ہے تو وہ ایک ایسا مسافر ہوتا ہے جس کو اپنی منزل کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ ہم بھی راستے سے بھٹک چکے ہیں ہمیں نہیں معلوم ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

اسلام سے دوری ہی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے آئے روز ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت کی فکر حمل کے زمانے ہی سے کرتی رہیں، آج کتنے ماں باپ ایسے ہیں کہ ان کو اپنی الاد سے شکایت ہے کہ اولاد کہنا نہیں مانتی، دیکھوکہ آپ نے بچوں کی تربیت کس طرح کی ہے اولاد بنے گی تو آپ کی وجہ اور بگڑے گی تو آپ کی وجہ سے، اولاد کے بننے اور بگڑنے کے نتیجے میں بھگتنا والدین کو ہی پڑتا ہے۔ آج ہمارے بچے دینی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے کافی پستی میں ہیں اور ان بچوں کے حق میں دین سیکھنے کا دروازہ بند ہوتا جا رہا ہے، عصری تعلیم میں مذبہی عقائد کا ذکر نہیں ہے

اسکول کے نصاب میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں کے عقیدوں کے خلاف ہیں، اس میں دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا تذکرہ اس انداز سے ملتا ہے کہ پڑھنے والے بچوں کے دلوں میں ان کی عظمت کا سکہ بیٹھ جائے اور بچوں کے سادہ ذہن پر دوسرے مذہب کے خیالات اور عقیدوں کی چھاپ لگ جائے۔ ماں باپ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بھی فرض ہے کہ وہ بچوں کو اخلاقی تربیت دیں کیونکہ بچے اپنا زیادہ وقت سکول میں گزارتے ہیں۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے کے لیے ملکی قوانین پر سختی سے عمل کرا یا جائے تاکہ اس طرح کے دل سوز واقعات سے بچا جا سکے۔ لہٰذا قوم کے دانش مند، ہم درد اور باشعور نوجوان طبقے کو چاہیے کہ امام الانبیا سیدنا حضرت محمد مصطفیﷺ کی عظیم اجتماعی سنت کی پیروی میں دور حاضر کی فرعونی، قارونی اور ہامانی تکون کو ظلم سے باز رکھنے کے لیے ان کی مدد کا بیٹرہ اٹھانا ہے تاکہ دھرتی پر کوئی ظالم باقی رہے اور نا مظلوم۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>