ایک خوشی کتنی سستی بنی، کتنی مہنگی بکی


        میری بیٹی نے عید پر پہننے کے لیے غرارے کا انتخاب کیا۔ قیمت پوچھی تو دکان دار نے دو ہزار بتائی۔ قیمت کم کروانے پر بحث کرنی چاہی تو دکان دار نے انگلی سے بورڈ کی طرف اشارہ کردیا جس پر فکس پرائس درج تھا۔ اب تو دکان دار سے بھی بحث بے کار تھی اور ہلکے ہرے رنگ کے غرارے کو پُرشوق آنکھوں سے دیکھتی بیٹی سے بھی۔ پرس سے ہزار ہزار کے دو نوٹ نکال کر دکان دار کو تھمائے، رہی سہی شاپنگ نمٹائی اور گھر کی راہ لی۔ کہانی بس اتنی سی نہیں۔ ابھی تو شروع ہوئی ہے۔

میری ایک دُور کی ممانی کو پورا سال کوئی یاد رکھے یا نہ رکھے رمضان میں ان کے گھر کا چکر ضرور لگایا جاتا ہے۔ خیر ہو مسلمانوں پر اس ماہ میں چڑھے مذہبی جنون کی کہ ممانی اور ان جیسے کتنے ہی بے آسرا لوگوں کی عید کچھ تو میٹھی گزر ہی جاتی ہے۔ اس بار بھی خاندان کے کئی لوگوں نے زکوۃ کی ادائیگی کی نیت سے ان کے گھر کا دروازہ یاد رکھا۔ ماموں کی وفات کے بعد وہ بے چاری دو بچیوں کے ساتھ سولجر بازار کی تنگ و تاریک گلیوں کے ایک بوسیدہ سے مکان میں رہائش پذیر ہوگئیں۔ گھر کا چولہا جلانے کو کسی فیکٹری میں جا لگیں۔ لیکن ان کو بہت جلد وہ نوکری چھوڑنا پڑی۔ وہاں سے ملنے والی تنخواہ تو بہت معمولی تھی لیکن وہ رِسک بہت بڑا تھا جو ہمارے بے حس معاشرے میں ان کے پیچھے اکیلی رہ جانے والی بچیوں کو لاحق تھا۔ یوں گھر بیٹھ کر بہت سے کام کرتے کرتے زندگی کے آگے گدھے کی طرح جتے جتے، اب وہ کسی کارخانے سے آنے والا سلائی کا کام کرتی ہیں اور بھوک کو مارنے کا کچھ انتظام کرتی ہیں۔ خود ہی روتی ہیں اور اپنے آنسو بھی خود ہی پونچھتی ہیں۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ختم کی بھی کیسے جا سکتی ہے۔ آگے چلیے۔

عید پر بازاروں کی چھَب ہی نرالی ہوتی ہے۔ مہنگی مہنگی مورتیوں پر سجے دیدہ زیب ملبوسات کے سامنے سے اکثر دل مار کر گزرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات تو کپڑوں کی قیمت صرف اس لیے نہیں پوچھی جاتی کہ قیمت سننے کے بعد منہہ حیرت سے جتنا کھلے گا، شرمندگی اتنی ہی بڑھے گی۔ اکثر تو دورانِ بحث دکان دار خام مال سے لے کر سوٹ کے ڈمی پر آنے کی تمام لاگت کھڑے کھڑے ہی گِنوا دیتے ہیں اور خریدار یہ سوچ کر مزید چپ ہو جاتا ہے کہ اس بے چارے سے کیا بحث کریں کہ اس کے پاس تو خود کچھ نہیں بچ رہا۔ دکان دار کی لفاظی سے اکثر گماں گزرتا ہے کہ یہ شوروم اس نے کمانے کے لیے نہیں بلکہ خدمتِ خلق کے لیے لگایا ہے۔ ’ خدمتِ خلق‘ کے تو نام میں ہی جتنا دھوکا ہے وہ کراچی والوں سے بڑھ کر بھلا کون جان سکتا ہے! لیکن چھوڑیے۔ کہانی کی طرف واپس آئیے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی ممانی کی۔ ممانی کے پاس کارخانے سے سلائی کے لیے غرارے آتے ہیں۔ جی ہاں وہی غرارے، بازار میں جن کی قیمت سن کر کبھی ہوش اڑتے ہیں تو کبھی طوطے۔ کبھی اوسان خطا ہوتے ہیں تو کبھی حواس جواب دے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے یہ سن کر بہت بڑاجھٹکا لگا کہ ممانی، ہمارے اس خوشیوں کے پہناوے کو سینے کے لیے سارا سارا دن اور اکثر راتوں کو بھی سلائی مشین پر بیٹھی، اپنی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ خوف ناک مذاق کرتی ہیں۔ لیکن اس سے بڑا مذاق تو سماج نے ان کے ساتھ کیا ہے۔ روزانہ پچاس سے ساٹھ غرارے سینا کیا بچوں کا کھیل ہے؟ یقیناً نہیں۔ لیکن وہ بھی اس ملک کے باقی غریبوں کی طرح مشکل کاموں کے لیے منتخب کرلی گئی ہیں۔

تلخ سوال تو یہ ہے کہ جب اپنے ہنرمند ہاتھوں سے کارخانے کے مالک کو لاکھوں روپے کے کپڑے تیار کر کے دیتی ہیں تو پھر بھلا کیوں ان کا ہاتھ لوگوں کے سامنے دراز ہے؟ کیوں وہ اپنی ضروریات بھی ڈھنگ سے پوری نہیں کر پاتیں؟ جب کہ عید کی تیاریوں کے دوران میں نے بازاروں میں عام سوٹ سے لے کر غراروں اور شراروں کی جو ہوش ربا قیمتیں سنیں، اس کے بعد تو ممانی کا شمار خوش حال اور مطمئن لوگوں میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں! کیوں! یہی تو اس استحصالی نظام کی کہانی کا کلائمکس ہے۔ سنیے! آجر اس مشکل ترین کام کے عوض ممانی کو فی غرارہ پانچ روپے کا‘ خطیر معاوضہ‘ عطا کرتا ہے۔ جی ہاں صرف پانچ روپے!

عید پر جب میری بیٹی اپنے غرارے کو سنبھالے سنبھالے خوشی سے گھوم رہی تھی تو میں مسلسل یہی سوچے جا رہی تھی کہ ہماری خوشیوں کے پہناوے غریبوں کے آنسو وں اور مجبوریوں کے عوض کتنے سستے تیار ہوتے ہیں مگر ہوس کے مارے انہیں کتنا مہنگا فروخت کرتے ہیں۔ یعنی یہ سرمایہ دار اپنے مِحلوں کی بنیادوں میں غریبوں کا خون شامل کرتےْ ہیں، تب کہیں جا کر انہیں بے حسی اور بے غیرتی وافر مقدار میں میسر آتی ہے۔

کہانیْ کے اختتام تک آتے آتے میں شرم سے زمین میں گڑ چکی ہوں۔ شرمندگی یہ کہ میں ایک ایسے نظام کا حصہ ہوں جہاں ظلم کے سوا کسی کا راج نہیں، ظالم کے سوا کوئی خوش حال نہیں۔ مجھے نفرت ہے اپنے اس معاشرے سے جہاں غریب ہونا سب سے بڑی لعنت ہے۔ جہاں مجبوریوں کی سوداگری سب سے بڑی تجارت ہے۔ ممانی بھی مجبور ہیں۔ وہ پانچ روپے کے عوض ایک غرارے کی سلائی کرنے پر مجبور ہیں۔ ْ کیا آپ کو لگتا ہے کہ کہانی یہاں آکر ختم ہو گئی ہے؟ نہیں! ہر گز نہیں! ظلم، نا انصافی اور جبر کی یہ کہانیاں معاشرے سے اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتیں جب تک ایک بھی غریب زندہ ہے۔ آئیے دعا کریں کہ ملک سے غربت کا اور مجبوریوں کا خاتمہ ہو تاکہ یہ سرمایہ دار اپنے محلوں کے معمار بھی خود ہوں اور جمعدار بھی۔

Facebook Comments HS