EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اگر پوجا بھٹ میری بیٹی نہیں ہوتی تو میں اس سے شادی کر لیتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Related image

پوجا بھٹ کی پیدائش 24 فروری 1972 کو ممبئی میں ہوئی۔ پوجا بھٹ مشہور بالی وڈ ہدایت کار مہیش بھٹ کی بیٹی ہیں اور خود بھی اداکاری کے علاوہ ہدایت کاری اور پروڈیوسنگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔

پوجا بھٹ نے اپنے والد مہیش بھٹ کی ہی فلم ’ڈیڈی‘ سے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ لیکن بالی وڈ میں ان کے قدموں کی گونج اور دھمک اس وقت بہت زیادہ اثر انگیز ہوئی جب انہوں نے فلم ’دل ہے کہ مانتا نہیں‘ (1991) میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھایا۔ پوجا بھٹ نے بیس سے زیادہ فلموں میں بطور اداکارہ کام کیا ہے اور دل چسپ بات یہ ہے کہ گیارہ فلموں میں ان کا نام پوجا ہی ہے۔

پوجا بھٹ کی فیملی سے کچھ ایسی یادیں اور باتیں جڑی ہوئی ہیں جن کی تہہ میں اترنے والا خیالات اور سوالات کی وادیوں میں سیر کرنے لگتا ہے۔ پوجا بھٹ کے والد مہیش کی زندگی بھی تنازعات اور تضادات کی ایک پوٹلی ہے۔ ان  کی زندگی کا سب سے عجیب واقعہ یہ ہے کہ انہوں  نے فلم فیئر میگزین کے لیے ایک ایسی تصویر کھنچوائی جس میں وہ اپنی سب سے بڑی بیٹی پوجا بھٹ کو ہونٹوں پہ کِس کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

Image result for pooja bhatt

باپ اور بیٹی کی اس بوس و کنار والی تصویر کے بعد باتوں، سوالوں اور الزامات کا ایک لمبا سلسلہ چل پڑا۔ اسی پر بس نہیں، اس کے بعد مہیش بھٹ نے یہ بیان بھی دے ڈالا کہ اگر پوجا بھٹ ان کی بیٹی نہیں ہوتی وہ ان سے شادی کر لیتے(سٹار ڈسٹ)۔

پوجا بھٹ اور مہیش بھٹ آپس میں صرف ایک باپ بیٹی ہی نہیں بلکہ ان کے درمیان بزنیس اور اخلاقی سطح پر بھی رشتوں کی کئی پرتیں ہیں۔ اس بات کو پوجا بھٹ کے اس بیان سے بھی پختگی مل جاتی ہے جو انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا  ’’میں نے انہیں (مہیش بھٹ) شراب کے نشے میں دھت بھی دیکھا ہے، اور میں نے انہیں شراب چھوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے، میں سمجھتی ہوں کہ شراب چھوڑنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی، یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں نے اپنے والد کو مایوسی کی گہرائیوں سے لے کر بلندیوں میں پرواز کرنے تک دیکھا ہے‘‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •