EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈارون کا مذہب اور بیٹی کی موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈارون ایک سلجھے ہوئے شریف انسان تھا۔ جھکی ہوئی اور اختلاف کی صورت میں بھی مسکراتی آنکھیں اور زبان پر خاموشی۔ کسی کے معاملات ٹانگ اڑانے اور آسمان سر پر اٹھائے رکھنے کی بجائے اپنی دھن میں سر دھننے والا مست نابغہ۔ وہ اپنے چھوٹے سے خاندان، دو بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ یوں تو اسے بیوی اور بڑی بیٹی سے بھی بے حد محبت تھی لیکن اس کی دوسری بیٹی اینی اس کی آنکھوں کا نور تھی جسے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں تارے جگمگا اٹھتے۔ وہ جب بھی تحقیق اور مطالعے سے تھک جاتا تو اینی کے ساتھ کھیل میں ایسا مگن ہوتا کہ اس سے بھی چھوٹا بچہ بن جاتا۔ اینی اس کے بال بناتی اور اپنے ننھے ہاتھوں کی گدیوں سے تھپڑ مار کر اس کے کپڑوں سلوٹیں ٹھیک کرتی۔

ڈارون کی بیوی ایما تھوڑی مذہبی خاتون تھیں۔ وہ عام طور پر مذہب کے معاملے میں نہیں بولتا تھا لیکن ایک روز جب اسے علم ہوا کہ ان کے پادری نے اینی کو اس بات پر سزا دی ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اینی نے بس یہ کہا تھا کہ کبھی دنیا میں ڈائنو سارز بھی موجود تھے۔ اہل مذہب کی طرح اس پادری کا بھی خیال تھا کہ کسی مخلوق کا ناپید ہوجانا مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ زندگی اور مخلوق میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو رہی۔ سب کچھ مکمل خدا نے بنایا ہے اس لئے سب مکمل ہے۔

ڈارون یہ سن کر تھوڑا غصے میں آ گیا۔ وہ پندرہ سال پہلے ہی گالا پوگس جزائر سے لوٹنے کے بعد دنیا کا رخ موڑ دینے والی کتاب کے مسودے کو حتمی شکل دے رہا تھا جس میں نظریہ ارتقا پیش ہونا تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ زمین پر زندگی اور مخلوق کے بارے میں مذہبی تصورات مبنی بر قیاس، غیر حقیقی اور محض افسانوی نوعیت کے ہیں۔ گالا پوگس جزائر پر جو کچھ اس نے دیکھا اس کا احساس اس یقین میں بدل گیا کہ مذہب علم کا ایسا سرچشمہ ہرگز نہیں جس کی مدد سے ہم حقیقی مسائل کا حل تلاش کر کے اپنا اور دیگر مخلوق کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔

وہ اپنے ان خیالات کا کھل کر اظہار اپنی بیوی کے سامنے کرچکا تھا لیکن ایما نے انہیں مذہب مخالف خیالات قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ ایما کی ناراضگی ہی وہ وجہ تھی کہ وہ پندرہ سال میں مسودہ مکمل نہیں کر پایا تھا۔ ایما جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی سادہ خاتون تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اس کے خاوند نے کتاب شائع کرائی تو وہ جہنم میں جائے گا، وہ اکیلی جنت میں اور یوں وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے۔ جب ڈارون نے اینی کو دی گئی سزا کے بارے میں سن کر مذہب کے بارے میں اپنے حقیقی خیالات کا اظہار کیا تو ایما اس کا منہ دیکھتی رہ گئی کیونکہ اس کے نزدیک خدا سے بیوفائی کا مطلب صرف خدا سے نہیں بلکہ اس سے بھی بیوفائی تھا۔

ڈراون نے ایک بار پھر مسودہ مکمل کرنے کی کوشش کی لیکن اینی بیمار پڑ گئی۔ وہ ایما کی مرضی کے خلاف اسے ورسیسٹر شائر کے قصبے میں علاج کے لئے لے گیا لیکن بچی کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ ایما کا خیال تھا کہ خدا اس کے خاوند سے ناراض ہے۔ اگر وہ اپنی بیٹی کی جان بچانا چاہتا ہے تو اسے خدا کے حضور معافی مانگنا ہوگی۔ ایما نے رو رو کر اس سے شکوہ کیا۔ بیٹی کی زندگی اسے اپنی زندگی بھر کی محنت اور تحقیق سے زیادہ عزیز تھی۔

محبت علم پر غالب آئی تو ڈارون جیسے ٹوٹ گیا، جھک گیا۔ ایما اسے چرچ لے گئی تو وہ خدا کے حضور رویا۔ بیٹی کی زندگی کی بھیک مانگتے مانگتے گڑگڑایا لیکن خدا کو اس پر کوئی ترس نہ آیا اور اسی روز اینی اپنے باپ کی بانہوں میں جینی نامی ہتھنی کی کہانی سنتے ہوئے وہاں چلی گئی جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ بیٹی مر گئی تو ڈارون بھی مر گیا۔ شاید آدھا۔ شاید پورا۔ مگر اینی کی موت اسے ایک اور سبق سکھا گئی: قوانین فطرت میں خدا بھی درز نہیں لگا سکتا۔ انسانوں کی طرح خدا بھی فطرت کے سامنے بے بس ہے۔ ڈارون کے برعکس ایما کو یقین تھا کہ خدا نے ڈارون کو سزا دی ہے۔

اینی کی موت کے بعد وہ جب بھی بیوی کی ناراضگی کے خوف سے مسودے پر کام روک دیتا تو وہ جاگتی آنکھوں خواب دیکھتا جس میں کوئی طاقت اینی کا روپ دھارے اسے جلد از جلد مسودہ مکمل کرنے کو کہتی اور وہ ایک بار پھر کام شروع کر دیتا۔

ڈارون کے ہم عصر سائنس دان اور مفکر یہ جان چکے تھے کہ ڈارون کی تحقیق خدا کے وجود پر اتنا بڑا سوالیہ نشان چھوڑ جائے گی کہ خدا اس نشان کے پیچھے کہیں دکھائی نہیں دے گا۔ ڈارون کے دوستوں میں نباتیات دان سر جوزف ڈالٹن ہکر ( 1817۔ 1911 ) کے علاوہ حیاتیات اور علم البشریات کے ماہر ٹامس ہنری ہکسلے ( 1825۔ 1895 ) اس کے 230 صفحات پر مشتمل مسودے کا پہلا ڈرافٹ دیکھ چکے تھے۔ ہکسلے نے اسے بتایا تھا کہ اس کا نظریہ مذہبی خدا کو فطری موت مار دے گا۔

انسانیت کو ابدی سزاؤں سے ڈرانے اور خداؤں کے لہجے میں کڑک کر حکم چلانے والے مذہبی رہنماؤں سے نجات دلا دے گا۔ ”اب وقت آ گیا ہے کہ انسانوں کی اس اپینڈکس، اس زائدہ سے جان چھڑائی جائے“ ۔ وہ یہ سن کر وہ خوفزدہ ہو گیا۔ لیکن اب۔ اینی موت کے بعد بھی آ کر اسے کہہ رہی تھی وہ اپنا وقت اور زندگی بھر کا علم ضائع نہ کرے اور جلد از جلد یہ ’کام تمام‘ کردے۔

اسی دوران اسے رسل والس کا خط موصول ہوا اور خط پڑھ کر اسے یوں محسوس ہوا والس کی تحقیق بھی اسے انہی نتائج تک لے کر گئی تھی جو نتائج ڈارون اخذ کرچکا تھا۔ ڈارون مایوس ہو گیا کہ اس کی زندگی بھر کی تحقیق کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مایوسی کا حل اسے یہ سوجھا کتاب شائع نہ کرنے سے شاید اس کی محبوب شریک حیات ہی اس سے خوش ہو جائے۔ اس دوران دوست خاص طور پر ہنری ہکسلے اس پر زور دیتا رہا لیکن وہ انکار کرتا رہا۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ اسے اینی کے مشورے کی ضرورت ہے اور وہ ایک روز اسی ہوٹل میں گیا جس میں اینی کا انتقال ہوا تھا۔ واپس آیا تو وہ فیصلہ کر کے آیا تھا۔ اس نے اینی کی موت کے بعد پہلی بار کھل کر اپنی بیوی سے بات کی۔ اسے سمجھایا کہ اینی جینیاتی لحاظ کمزور تھی کیونکہ وہ ان کی بیٹی تھی اور وہ دونوں کزن ہیں۔

Annie Darwin

ڈارون ایما کی مرضی کے خلاف کتاب شائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہوٹل سے واپسی کے بعد اس نے ایما کو بتایا کہ وہ توہم پرست نہیں ہے مگر اسے لگتا ہے کہ اینی یہ کتاب شائع کرانا چاہتی ہے۔ ایما نے یہ سن کر آہ بھری اور اسے یہ کہہ کر کتاب شائع کرانے کی اجازت دے دی : ”مجھے امید ہے کہ خدا ہمیں معاف کردے گا“ ۔

ہم سب ڈارون کو ایک عظیم سائنس دان کے طور پر جانتے ہیں لیکن 2000 میں اس کے پڑ پوتے رینڈل کینس کو اینی کا ایک صندوق ملا تو اس نے ایک کتاب لکھ کر دنیا کو بتایا کہ وہ ایک محبت کرنے والا شوہر اور بے پناہ محبت کرنے والا باپ بھی تھا۔ رینڈل کی کہانی ”اینی کا صندوق“ پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ اگر اینی کی موت واقع نہ ہوتی تو شاید جہان علم میں آج بھی مذہبی نظریہ تخلیق یعنی کا راج ہوتا۔ ہمیں یہ بتایا جا رہا ہوتا کہ تمام مادی مظاہر اور ذی حیات مخلوق ارتقا پذیر نہیں۔

آج بھی انسان ہر دم اور ہر سمت میں اٹھنے والی ارتقا کی صدا نہ سن رہا ہوتا اور نہ ہی اسے یہ علم ہوتا کہ نقاب کے پیچھے قوت تخلیق و وفور حیات ہاتھ میں آئینہ تھامے مسلسل آرائش جمال میں مصروف ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں۔ اگر اینی نہ مرتی تو مذہبی خدا علوم کی دنیا میں آج تک زندہ ہوتا۔ اگر ڈارون کے رونے اور گڑگڑانے سے اینی بچ جاتی تو شاید وہ کبھی اپنی کتاب شائع نہ کراتا۔

اگر زندگی اور موت کا فیصلہ خدا کرتا ہے۔ اگر زمان و مکان سے بلند خدا کے لئے ماضی اور مستقبل بھی حال مطلق (absolute۔ now) ہیں تو کیا خدا یہ نہیں جانتا تھا کہ اینی کی موت کا فیصلہ سنا کر وہ دراصل کس کی موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے؟ اینی نے تو ویسے ہی مر جانا تھا جیسے ڈارون مر گیا۔ لیکن اینی کی موت سے پھوٹنے والا نظریہ ارتقا کا شرار عظیم تو شاید بلکہ یقیناً اس وقت تک باقی رہے گا جب تک زمین پر انسان باقی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہر واقعے میں خدا کی حکمت تلاش کرنے والے بتائیں کہ خدا کو اینی اور اس کے بعد اپنی موت میں کیا حکمت دکھائی دی؟ کیا ڈارون جیسے جہان بین اور عظیم نابغے کے رونے اور گڑگڑانے میں خدا کو وہ خوشی اور لطف نہیں آیا ہوگا جو اسے عام لوگوں کے رونے اور گڑگڑانے میں آتا ہے؟

شاید نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اینی تندرست ہوجاتی اور ڈارون باقی زندگی کسی کلیسا کی چوکھٹ پر گزار دیتا۔ کیا خدا ڈارون کو دائمی شہرت دینا چاہتا تھا؟ نظریہ ارتقا جیسے طاقتور تصور کو عام کرنے کے لئے خدا کو اینی جیسی معصوم بچی کی جان لینا پڑی تو اس فیصلے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ شاید یہ کہ خدا انسان کو اپنے ٹھیکہ داروں سے آزاد کرنا چاہتا ہے۔ شاید یہ کہ اسے گڑگڑانے والوں سے زیادہ وہ محقق پسند ہیں جو دنیا کو علم کا تحفہ دیتے ہیں۔ جو انسانوں کو نئے ڈھنگ سے دیکھنا سکھاتے ہیں۔ یہ کہ اسے عبادت گاہوں کی چوکھٹوں سے لپٹے اور بین کرتے لوگوں کی بجائے انکار کی ہمت کا مظاہرہ کرنے والے پسند ہیں۔ یقیناً یہ حکمت کہ خدا علم رکھتا ہے، علم پھیلانا چاہتا ہے اور علم کی خاطر اپنی قربانی سے بھی گریز نہیں کرتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے