میرا پہلا سفر عمرہ والدہ کے ساتھ ۔۔۔ ایک سعادت
عارف بھائی نے عمرہ کا طریقہ بتایا اور حجر اسود کے اس مقام تک لے گئے جہاں سے طواف شروع کرنا تھا۔ ان دنوں اتنا رش نہیں ہوا کرتا تھا۔ پہلا چکر شروع ہوا اور جو دل کی باتیں تھیں سب زبان پر آگئیں نہ مسنون دعائیں یاد رہیں اور نہ ہی وہ کتاب جس میں ہر چکر کی دعا ئیں درج تھیں بس نگاہیں کعبے پر لبوں پر استغفار اور آنکھوں سے آنسو رواں اس یقین کے ساتھ کے وہ عرش عظیم سے سب دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے وہ لطیف الخبیر بھی ہے اور سمیع الدعا بھی ہے۔ ہر چکر میں کوشش رہی کہ کسے طرع کعبے کے قریب سے قریب تر ہوجائیں۔ اماں کو میں نے اور عارف بھائی نے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا آخر موقع مل گیا اور ہم ماں بیٹے کعبہ سے لپٹ گئے۔ اماں کو میں نے اپنے آگے رکھا تاکہ ہجوم کی دھکم پیل سے محفوظ رہیں۔ غلاف کعبہ کو ہاتھ لگاتے ہی سارے جسم میں ایک بجلی سی کوندگئی۔ اس مہکتے ہوئے سیاہ غلاف کو آنکھوں سے لگایا اور پھر کچھ یاد نہیں کیا کہا۔ وہ ساری دعائیں جو بتائی گئیں بھول گیا بس اتنا یاد ہے کہ دونوں ماں بیٹے کعبے سے لپٹے ہچکیوں سے رورہے تھے اور دل کی گہرائیوں سے اس رب کریم کی حمد، گناہوں پر استغفار اور اس نعمت عظیم پر شکرانے کے کلمات تھے۔ یہی وقت تھا جو کہنا ہے کہ لو کہ وہ سب کی سنتا ہے اور کبھی مایوس نہیں کرتا۔
کچھ دیر بعد عارف بھائی نے آہستہ سے پشت پر ہاتھ رکھا اور کہا بس اب دوسروں کو موقع دیں۔ اسی کیفیت میں سات چکر پورے کیے اس کے بعد روایت کے مطابق آب زم زم خوب جی بھر کے پیا اور سارے جسم پر لگایا۔ مقام ابراہیم پر نفل ادا کیں اور سعی کے مقام پر پہنچے۔ میں نے محسوس کیا کہ اماں کے لئے خود چل کر سعی ممکن نہیں لہذا ایک وھیل چئیر لے لی لیکن میں نے شرط رکھی کہ چلاؤں گا میں خود۔ بھلا آدمی تھا مان گیا اور میں اپنی جنت کو لے کر صفا اور مروہ کے درمیان کبھی آہستہ اور کبھی تیز دوڑتا رہا۔ زبان پر مختلف دعائیں نگاہوں میں وہ ماں جو اپنے شیر خوار بچے کی پیاس سے بے خود ہوکر دیوانہ وار اسی بے آب و گیا مقام پر دوڑتی پھرہی تھی۔ ادھر اماں کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے اور زبان پر شکر کے کلمات۔ ہم دونوں کے لئے ایک نیا تجربہ اور وہ کیفیت تھی جو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ساتویں چکر کے اختتام پر عمرہ مکمل ہوا والدہ کے بالوں کی ایک لٹ کاٹی گئی اور میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر وہیں دو رکعت شکرانہ ہم نے ادا کی۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دی گئیں اور ایک بار پھر تشکر کے آنسو ہماری آنکھوں سے رواں ہوگئے۔ ” یہ بڑے نصیب کی بات ہے“ اماں کی خوشی ناقابل بیان تھی انہوں نے وارفتگی میں محھے اپنے سینے سے لگا لیا اور میرے ماتھے کو چوم لیا۔ بس مجھے یقین ہوگیا کہ میرا عمرہ قبولیت کے درجہ پر پہنچ چکا ہوگا اور میری سب دعائیں بھی یقیناً مقبول ہوئی ہوں گی۔
ہم سب رات تک جدہ واپس آگئے۔ میرا دل ابھی نہیں بھرا تھا۔ خواہش تھی کہ اپنے خاندان کےمرحومین اور والد مرحوم کی طرف سے بھی عمرہ ادا کروں۔ دوسرے دن پھر صبح ہی حرم کے لئے روانہ ہوگیا اس بار میں اکیلا تھا تاکہ یکسوئی سے عمرہ اور طواف کرسکوں۔ مجھے یاد ہے سہ پہر کے وقت گھر کے بادل آئے اور تیز بارش شروع ہوگئی میں طواف کرہا تھا ہر طرف پانی ہی پانی تھا کہیں سے پانی گرنے کی آواز سنائی دی دیکھا کہ کعبہ کی چھت سے پرنالہ گررہا ہے میں دیوانہ وار دوڑا اور اس کے عین نیچے جا کر کھڑا ہوگیا پرنالے کا سارا پانی میرے سر پر گزر کر سارے جسم کو بھگو رہا تھا۔ اور میں آنکھیں بند کیے یہ محسوس کررہا تھا کہ میری تمام گندگی غلاظت اور گناہ بھی اس پانی کے ساتھ بہے چلے جا رہے ہوں۔
استغفر للہ ربی من کل ذنب“ و اتوب الیہ۔
جدہ میں چند روز قیام کے بعد ہم ماں بیٹے سہ پہر کے وقت رحمتوں کی سرزمین مدینہ شریف کو روانہ ہوئے۔ جدہ سے نکلنے کے کچھ دیر بعد گاڑی مدینہ روڈ پر برق رفتاری سے رواں تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کالے سیاہ سنگلاخ پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہمارے لبوں پر درود و سلام جاری رہا اور دماغ کہیں بہت پہلے ہونے والی ایک ہجرت اور اونٹنی کے اس سفر کی طرف چلاگیا جب نبی کریم اپنے رفیق کے ہمراہ مکہ سے یثرب کی جانب گامزن تھے کیسا تکلیف دہ سفر رہا ہوگا کیسی صعوبتیں پیش آئی ہوں گی۔ ہمارا سفر تقریباً پانچ گھنٹے کا تھا۔ مدینہ شریف اب آنے ہی والا تھا۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ یہی کہیں یثرب کی بچیوں نے ” بدرالعلینا ” دف پر گا کر نبی کریم کا استقبال کیا ہوگا۔ یہیں کہیں معرکہ بدر ہوا ہوگا۔ کفر اور حق کے درمیان پہلا رزم جس میں مکہ کے متعدد نامور سورما کام آئے۔ کس بے سروسامانی کے عالم میں چند سو جانثاروں نے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور اور نخوت کے نشے میں بد مست سرداران مکہ عتبہ، ولید اور شیبا کو سیدنا علی مرتضی حمزہ اور حضرت عبیدہ نے خاک و خون میں نہلا دیا اورایک دنیا میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہوا۔
دور کہیں عشاء کی اذان سنائی دے رہی تھی ”حی علی الفلاح حی علی الفلاح ” اور ہم مدینہ کے مضافات میں داخل ہو چکے تھے دائیں طرف اندھیروں میں ڈوبی احد کی پہاڑیاں ذہن پھر تاریخ کے اوراق میں کھو گیا یہیں آس پاس کہیں غزوہ احد ہوا ہوگا۔ جناب امیر حمزہ کا کلیجہ ایک شقی القلب اور انتقام کی آگ میں اندھی خاتون سردار مکہ کی بیوی ہندہ نے چبایا تھا انہی میں سے کسی ایک ٹیلے پر تیر انداز بٹھائے گئے ہوں گے جن کی طمع نے ایک جیتی ہوئی جنگ کو شکست اور پسپائی سے دوچار کردیا تھا۔
سامنے کچھ فاصلے پر حرم نبوی کے مینارے جگمگا رہے تھے زباں پر درور و سلام کی ضرب تیز ہوگئی اور آنکھوں سے اشک رواں تھے اماں نے بیتابی سے پوچھا کیا مدینہ آگیا اور میں نے ان کو نوید سنائی کہ ہم حرم کے قریب ہی ہیں۔ گاڑی نے کئی موڑ کاٹے اور ہمارے بتائے ہوئے ہوٹل پر ٹھہر گئی۔ تھکن سے برا حال تھا لیکن تمنا تھی کہ کسی طرع جلد از جلد روضہ اقدس کا دیدار ہوجائے۔ دیر ہوگئی تھی لہذا مناسب یہی جانا کہ پہلے کچھ آرام کرلیں اور حاضری علی الصبح دی جائے۔ رات بے چینی سے کچھ سوتے کچھ جاگتے گزری۔
مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

