میرا پہلا سفر عمرہ والدہ کے ساتھ ۔۔۔ ایک سعادت
صبح صادق کے وقت تہجد کی اذان سے پہلے غسل کیا نِے کپڑے پہنے خوشبو لگائی اور والدہ صاحبہ کو وھیل چئیر پر جو ہوٹل کی انتظامیہ نے مہیا کردی تھی بٹھا کر حرم کی طرف درور پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ سامنے ایک عجیب منظر تھا مسجد نبوی نور میں نہائی اور ہرا بھرا گنبد خضرا۔ کیسا روح پرور منظر تھا نور کی بارش ہورہی ہو اور اس کی ٹھنڈک جسم و جاں تک اترتی ہوتی محسوس ہورہی تھی اماں پر بھی رقت طاری تھی وہ برابر درود و سلام پڑھے جارہی تھیں۔ ان کو خواتین کے مخصوص حصہ میں اتارا اور گیٹ نمبر بھی یاد کرادیا جہاں زیارت کے بعد ان کو آنا تھا۔ مجھے خوش قسمتی سے روضہ اقدس کے قریب ہی جگہ مل گئی نماز تہجد ادا کی اور اپنی خوش بختی پر ناز کرتا رہا کہ مجھ سے گنہگار کو بھی حضور نے حاضری کے لئے طلب فرمالیا۔
سرکتا سرکتا ریاض الجنہ کے قریب پہنچ گیا کہ کسی طرع وہاں دو رکعت نفل ادا کرسکوں۔ نماز فجر سے کچھ پہلے تھوڑی سی جگہ سبز قالین جو ریاض الجنہ کی پہچان ہے پر میسر آگئی اور میں اپنی خوش نصیبی پر جھوم اٹھا۔ نہایت خشوع سے نفل ادکیے آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے۔ کچھ دیر بعد نماز فجر کے لئے جماعت کھڑی ہوگئی۔ مجھے روزہ مباک کی جالیوں کے قریب ہی جگہ مل گئی۔ امام صاحب کے قرات نے سماں باندھ دیا۔ آیات قرآنی دل میں اترتی محسوس ہورہی تھیں ایک عجیب سے کیفیت طاری تھی جس کے بیان کے لئے الفاظ نہیں۔ نماز کے بعد سب روضہ اقدس کی زیارت کے لئے بڑھے میں بھی ایک نادم اور شرمسار مجرم کی طرع سرجھکائے نمناک آنکھیں لئے آگے بڑھتا رہا۔ بائیں جانب روضے کی جالیاں تھیں۔ میرے پاؤں میں لغزش، سر گناہوں کے بوجھ سے جھکا ہوا آنکھوں سے اشک ندامت رواں اور کانپتے ہونٹوں پے درود و سلام۔
ڈرتے ڈرتے نگاہیں اٹھائیں تو روضہ مبارک کے سامنے تھا ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے ہاتھ باندھ کر ایک مجرم کی طرع سر جھکا دیا کہ اے آقا ہم آپ کی پیروی نہ کرسکے اور آپ کی تعلیمات بھی بھلا بیٹھے ہمارے پاس کہنے کو کچھ بھی تو نہیں کوئی عذر نہیں کوئی حیلا نہیں۔ بس اعتراف ہے اپنی کوتاہیوں کا اپنی لغزشوں کا اور التجا ہے آپ کی شفاعت کی جس کے ہم ہرگز لائق تو نہیں لیکن آپ کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ایک بس یہی تو آخری سہارا ہے۔ یکایک شرطہ کی آواز نے چونکا دیا ” طریق یلہ حاجی طریق ” اور میں بھی ہجوم کے ریلے کے ساتھ باہر تو آگیا لیکن بہت کچھ وہیں چھوڑ آیا۔ دل پر ایک ٹھنڈک کا احساس ضرور تھا کہ شفاعت ضرور ہوجائے گی جبھی تو بلایا ہے۔
حرم میں ہر نماز کے لئے والدہ صاحبہ کو وھیل چیر پر لاتا اور لے جاتا۔ دوسرے دن رات ہی سے موسلا دھار بارش شروع ہوگئی پریشان ہوا کہ تہجد اور فجر کے لئے کیسے جائیں لیکن جانا تو بہرحال تھا۔ ایک چھتری لی اس سے اماں پر اوٹ بنائی اور اسی بارش میں وھیل چئیر کو لے کر حرم کی طرف بگٹٹ بھاگا اور کسی طرع پہنچ ہی گیا۔ اسی رات نماز عشاء کے بعد مقررہ گیٹ پر اماں کو لینے پہنچا خواتین باہر آرہی تھیں لیکن وہ اب تک نہیں آئیں یہاں تک کہ سب خواتین جا چکی تھیں اور مسجد کے دروازے بند ہونے لگے تو تشویش ہوئی ہر طرف دیکھا کئی لوگوں سے پوچھا۔ کسی نے کہا سامنے پولیس چوکی ہے وہاں چلے جاؤ۔
شرطہ انگریزی سے نابلد اور مجھے عربی نہیں آتی لیکن وہ سمجھ گئے کہ ” ماما گم ” میں نے والدہ کے ہاسپورٹ پر لگی ان کی تصویر دکھائی تو اس نے وائرلیس پر پیغام نشر کردیا اور مجھے قہوہ اور کھجور کھانے کو دیا کچھ دیر بعد ایک میسج آیا اور مجھے ایک اہلکار جیپ میں بٹھاکر ایک دوسری چوکی پر لے گیا۔ دیکھا اماں وہاں بڑے آرام سے بیٹھی ہیں اور ایک پاکستانی سے ہنس ہنس کر بات کرہی ہیں۔ مجھے دیکھ کر نہال ہوگئیں اور اس شخص سے کہنے لگیں ” ہم کہ نہیں رہے تھے ہمارا بیٹا ہمیں ڈھونڈ لے گا“ معلوم ہوا کہ وہ غلطی سے کسی دوسرے گیٹ سے باہر آگئیں تھیں اور پھر بھٹک گئیں ایک نیک دل پاکستانی نے انہیں پولیس چوکی پر پہنچادیا جیاں ان کی خوب مدارت ہوئی۔ دوسرے روز مقامات مقدسہ کی زیارت کیں، جنت البقیع اور میدان احد پے فاتحہ پڑھی۔ پھر جدہ واپس آکر دوسرے روز شام کی فلائٹ سے اپنے گھر پہنچے۔
مقام شکر ہے کہ اماں کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور مجھے اس خدمت کا انعام بھی خوب ملا کہ اس دن کے بعد سے الحمد اللہ میں روزے اور نماز کا پابند ہوگیا۔ یہ تحفہ یقیناً مجھے اماں کے حکم کی بجا آوری کے صلے ہی میں ملا ہوگا۔
سنہ دوہزار میں مجھے کمپنی نے سعودی عرب بھیج دیا۔ میں تقریباً دس سال الخبر میں رہا۔ اس دوران متعدد عمرے کیے اور بیگم کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ دو ہزار دس میں نوکری سے استعفی دے کر میں گھر واپس پاکستان آگیا۔
پچھلے سال میرے چھوٹے صاحبزادے نے ہمیں ریاض بلانا چاہا تاکہ کچھ دن ان کے پاس قیام کریں اور عمرہ بھی ادا ہوجائے۔ میں نے بیٹے سے کہا تمھاری پھوپھو کی بھی شدید خواہش ہے کہ وہ عمرہ کریں لہذا ان کا بھی وزٹ ویزا اپلائی کردو۔ سعودی قانون کے مطابق والدین کو تو وزٹ ویزا دے دیا جاتا ہے لیکن خالہ پھو پھو یا کسی دوسرے رشتہ دار کو وزٹ ویزا ملنا ناممکن ہے لیکن جب نیت صاف ہو غیبی امداد بھی شامل ہوجاتی ہے۔ سعادتمند بیٹے نے میرے کہنے کے مطابق ہم تینوں کا ویزا اپلائی کردیا۔ حیرت کی انتہا نہ رہی جب والدین کے علاوہ پھوپھی کا ویزا بھی آگیا۔
ہمشیرہ کے ساتھ ہم لوگ ریاض روانہ ہوئے۔ ایک ہفتہ راض میں قیام کے بعد ہم تینوں عمرے کے لئے مکہ پہنچے۔ اس مرتبہ بیٹا ساتھ تھا وہ ہم تینوں کی ایسی نگہداشت کررہا تھا جیسے ہم ابھی بچے ہوں۔ مکہ پہچنے کے تھوڑی دیر بعد عمرے کی غرض سے ہم سب حرم پہنچے۔ اس مرتبہ ہمشیرہ کی یقینًا وہی کیفیت رہی ہوگی جو پہلی بار میری اور اماں کی تھی۔ ان کی بھی آنکھوں سے اسی طرع مسلسل آنسو رواں تھے وہی بے یقینی کی کیفیت کہ کیا میں واقعی کعبے میں ہوں۔ کیا میں اندر جا پاؤں گی۔ میں نے اور بیگم نے ان کو سنبھالا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر حرم شریف میں داخل ہوئے اور طواف شروع ہوا۔ بیٹے نے بڑی محبت سی پھو پھی کو طواف کرائے اور اپنے حصار میں ہجوم سے بچاتا بیت اللہ تک لے گیا اور ان کی آرزو کہ غلاف کعبہ سے لپٹ کر استغفار کریں پوری ہوئی۔ یقیناً ان کی بھی حالت وہی تھی جو اس لمحے ہونی چاہیے۔ آنسو ان کے بھی تھمنے کا نام نہیں لیتے ہوں گے۔ اللہ ان کی زیارت قبول فرمائے اور ان کی دعائیں مستجاب ہوں۔
طواف کے بعد ہم سعی کے لئے صفاء کی طرف بڑھے بھتیجے نے پھوپھی کو وھیل چئیر پر سعی کرائی اور دعائیں سمیٹیں۔ پھپھو کے بعد بیٹا اپنی ماں کو اسی وھیل چئیر پر بٹھاکر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان کبھی خراماں اور کبھی تیز دوڑرہا تھا اور میں اپنی ہمشیرہ کے ساتھ یہ دیکھ رہا تھا اور دل کی گہرائیوں سے بیٹے کے لئے دعائیں نکل رہی تھیں۔ تیس سال پہلے کا وہ منظر نگاہوں کے سامنے گھوم تھا جب میں اسی طرع اپنی ماں کو ان دونوں متبرک پہاڑیوں کے درمیان سعی کرارہا تھا۔ وقت بدلا چہرے بدلے لیکن منظر وہی تھا۔
اور تشکر کے آنسوں میری آنکھوں سے بہنے لگے۔
ھل جزاء الاحسان الا الاحسان

