میرا پہلا سفر عمرہ والدہ کے ساتھ ۔۔۔ ایک سعادت


یہ بات ہے سنہ ستاسی کی جب والدہ مرحومہ نے مجھ سے حج پہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان دنوں میں ایک ملٹی نیشنل آئل کمپنی میں ایک اہم عہدے پر فائز تھا۔ ملازمت سے جڑی مصروفیات اور جس ماحول میں دن کا بیشتر حصہ گزارتا تھا وہاں کام کام اور صرف کام آرام کے لئے بھی بمشکل چند ہی گھنٹے ملتے۔ اس محنت اور جانفشانی کا صلہ بھی مجھے خوب ملا۔ سال میں کئی کئی انکریمنٹ ملتے۔ کمپنی نے میری صلاحیتوں کو مزید بڑھاوادیا اور میں نے ترقی کی منزلیں بہت تیزی سے طے کیں اور وہ سب کچھ بہت جلد پالیا جس کے اکثر لوگ خواب ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

ذاتی طور پر میں ایک مکمل دنیادار انسان تھا اور بمشکل جمعہ ہی کی نماز پڑھ لیا کرتا تھا روزے بھی گنڈے دار رکھتا تھا ایسے میں حج اور عمرے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا لیکن اماں کی خواہش کو ٹالنا بھی میرے لئے ناممکن تھا۔ لہذا ان کے سفر کے لئے اپنے ٹریول ایجنٹ سے معلومات حاصل کیں ان دنوں اسپانسر اسکیم ہوا کرتی تھی اس کا بآسانی انتظام ہوگیا چنانچہ اپنے خالہ زاد بھائی مرحوم ہارون نگرامی سے فون پر رابطہ کیا اور اماں کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے فرمایا خالہ جان کو کسی کے ساتھ جدہ بھیج دو باقی ہم دیکھ لینگے۔ ان دنوں ان کی ڈیوٹی بھی جدہ ایرپورٹ پر ہی تھی۔
اماں کے حج پر جانے کی تیاریاں شروع ہوگئیں ابھی حج میں کئی ماہ تھے کہ ایک دن وہ باتھ روم میں چکرا کر گر پڑیں۔ علاج کے بعد وہ اچھی تو ہوگئیں لیکن ڈاکٹرز نے ان کے حج پر جانے کی مخالفت کی کہ کمزوری کے باعث اماں حج کی مشقت برداشت نہیں کرپائینگی۔ والدہ مرحومہ کی مایوسی نا قابل بیان تھی وہ بہت دل گرفتہ اور ملول ہوئیں کہ حج پر نہیں جا سکیں گی۔ جب ان کی کی حالت کچھ سنبھلی تو ایک دن فرمایا ” بھیا ہمیں عمرہ ہی کرادو“ انہیں بیت اللہ کی زیارت اور روضہ رسول پر حاضری کی شدید خواہش تھی ان دنوں اماں اٹھتے بیٹھتے حمد اور نعت پڑھتی رہتیں۔ میں نے ہارون بھائی سے دوبارہ رابطہ کیا ان کا جواب وہی تھا کہ خالہ جان کو جدہ بھیج دو عمرہ ہم کرا دیں گے۔

میں نے اسی دن اپنے ٹریول ایجنٹ کو کہا کہ اماں کے لئے عمرے کے ویزے اور ٹکٹ کا بندوبست کردیں تو جواب ملا ساتھ میں محرم کون جائے گا اس کا جواب میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ انہوں نے مشورہ دیا کہ انوار صاحب یہ سعادت آپ کیوں نہیں حاصل کرلیتے کہ اپنی ماں کو عمرہ کرائیں۔ میں نے مصروفیت کا بہانہ کر ٹالنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ دنیا کے کام تو چلتے ہی رہتے ہیں آپ کسی طرع دو ہفتے کی رخصت لیں اور اس سعادت کو اپنا نصیب بنالیں۔ مزید کسی عذر کا اب میرے پاس کوئی جواز نہ تھا لہذا میں نے اپنا اور اماں کا پاسپورٹ بھجوا دیا۔ گھر والوں کو جب بتایا کہ میں اور اماں عمرے پر جارہے ہیں تو سب نے مبارکباد دی۔ اماں کی خوشی دیدنی تھی۔ جانے میں چند دن باقی تھے بیگم اصرار کرتیں رہیں کہ عمرے پر جا رہے ہیں اب تو نماز کی پابندی کرلیں اور میں ٹال جاتا۔

روانگی کا دن آن پہنچا۔ سہ پہر کا وقت تھا میں نے احرام باندھا اور روانگی سے پہلے دورکعت نفل ادا کیے جہاز میں ہم ماں بیٹے سوار ہوئے تو عصر کا وقت ہوگیا تھا۔ میں نے جہاز ہی میں عصر کی نماز ادا کی اور لبیک اللہ ہمہ لبیک کا ورد شروع کردیا۔ ایک عجیب سے کیفیت اور ایک انجانے احساس نے مجھے اپنے اندر جذب کرلیا۔ یہی سوال خود سے کرتا رہا کیا واقعی میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے جارہا ہوں وہ بھی ماں کے ساتھ کبھی آنکھیں نمناک ہوجاتیں اور کبھی ایک بے یقینی کا احساس اور کبھی ایک انجانی خوشی۔ ان احساسات میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلا کہ کب جہاز جدہ ایرپورٹ پر اتر گیا۔ ایرپورٹ پر مرحوم ہارون بھائی موجود تھے انہوں نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ اپنی خالہ جان کا استقبال کیا اور گھر لے گئے۔

دوسرے دن ناشتے کے بعد ہارون بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی عارف نگرامی کو ہمارے ساتھ کیا۔ ہم سب حالت احرام میں ” لبیک الھم لبیک ” کا ورد کرتے ہوئے سوئے کعبہ روانہ ہوئے اماں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ہونٹوں پر تلبیہ و تلاوت۔ ادھر میں ایک عجیب سی کیفیت کا شکار تھا کچھ بے یقینی اور کچھ ازطراب اور لبوں سے نکلتی ہوئی الھم لبیک کا ورد کبھی باآواز بلند اور کبھی زیر لب جس میں دوسرے بھی ہمنوا ہوجاتے تو ایک سماں بندھ جاتا۔ جب دور سے مکہ روڈ پر رحل پر رکھا قرآن نظر آیا تو سارے جسم میں سنسنی دوڑگئی۔ تصاویر میں بارہا دیکھا تھا اور آج اسی شاہراہ پر اسی رحل کے نیچے سے ہم گزرہے تھے۔

ہماری گاڑی بیت اللہ کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی۔ کچھ دیر بعد ہم مکہ کے مضافات میں داخل ہوگئے اور پھر یکایک دور سے کعبے کے مینار نظر آنے لگے۔ عارف بھائی نے کہا ” خالہ جان ہم کعبہ پہنچ گئے“ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور اماں کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں۔ لبیک کا ورد لڑکھڑانے لگا۔ گاڑی نے کئی موڑ کاٹے اور باب عبدالعزیز کے پاس پہنچ کر رک گئی۔ سامنے بیت اللہ کے مینارے تھے میں اور عارف بھائی اماں کا تھامے بوجھل قدموں سے آگے بڑھتے رہے یہانتک کہ حرم شریف کی بیرونی عمارت میں داخل ہوگئے۔ نگاہیں نیچی کیے، بدن پر لرزہ طاری اور ایک غیر یقینی کی سی کیفیت۔ قدم من من بھر کے محسوس ہورہے تھے۔ وہ ساری باتیں اور من گھڑت روایتیں ذہن میں کلبلا رہی تھیں کہ گناہگار تو بیت اللہ کے قریب جا ہی نہیں پائے گا۔ کسی نے بتا تھا کہ سامنے آگ کے شعلے آجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور کسی نے یہ بھی نوید سنائی کہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔

خوف سے لرزہ طاری تھا کہ مجھ عاصی بندے کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے لیکن دل میں کہیں ایک اطمیعنان بھی تھا کہ اماں کے ساتھ ہوں تو یقیناً حاضری لگ جائے گی اور میں نے اماں کا ہاتھ کس کر اپنے ہاتھ میں تھام لیا یونہی لڑکھڑاتے قدموں آگے بڑھتا رہا کہ اچانک صحن میں ایک کالے رنگ کے غلاف میں لپٹی ایک چوکور عمارت ستونوں کے درمیان دکھائی دی۔ عارف بھائی نے سرگوشی میں کہا وہ ” سامنے کعبہ ہے ”

اس کے بعد کچھ ہوش نہ رہا کیا دعا مانگنی ہیں کیا کہنا کیا کرنا ہے کچھ بھی تو یاد نہ رہا اماں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سختی سے بھینچ لیا قریب تھا کہ شدت جذبات سے میں گر جاتا میں نے ایک ستون کا سہارا لے لیا اور پھر پتہ نہیں۔ صرف سسکیاں اور بہتے ہوئے آنسو۔ اماں مجھ سے لپٹ کر رورہی تھیں اور میں ستون تھامے ہچکیوں میں اتنا ہی کہ پایا کہ ” اے رب کریم تو نے اس گنہگار کو بھی اس قابل جانا اور اس اعزاز سے نوازا کہ اپنے در پر بلالیا ”۔ بے شک تو رحیم بھی ہے اور کریم بھی کہ ہم جیسوں کو بھی نہیں دھتکارتا۔ حالت کچھ سنبھلی تو آگےبڑھے۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3