محبت: ابتدائے جسم سے انتہائے جسم تک
محبت صدیوں سے لکھاریوں کا پسندیدہ ترین موضوع رہا ہے لیکن اس ایک لفظ کی تعریف و تشریح آج تک جامعیت کی محتاج ہے۔ کوئی بھی تعریف آخری نہیں، کوئی بھی تشریح جامع نہیں لگتی۔ شاعروں کے ان گنت دیوان، ادیبوں کی بے شمار تصانیف اس ایک موضوع کی پیاس نہ بجھا سکے۔ ایسے لگتا ہے کہ ایک صحرا ہے جسے پانی کی بالٹیاں ڈال ڈال کے سمندر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ہر بالٹی کے بعد اس کی تشنگی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ نہ ہی یہ صحرا انجام کو پہنچ رہا ہے اور نہ ہی بالٹیاں ڈالنے والوں کا جذبہ اور اس صحرا میں بھٹکنے والوں کا آج کل یہ عالم ہے کہ پیدا بعد میں ہوتے ہیں، اس صحرا کا پتا پہلے پوچھتے ہیں۔
محبت کو ہمارے یہاں ہمیشہ کوئی روحانی الہام بنا کے پیش کیا گیا ہے جو اچانک کہیں سے نازل ہوتا ہے اور دل میں محبتیں فلم کا وائلن بجنے لگتا ہے۔ محبت کو ہمیشہ روح کی کوئی میلے میں بچھڑی بہن کی ہم شکل بنا کے دکھایا جاتا ہے اور یہیں سے ہماری منافقت اور دوغلے پن کی ابتدا ہوتی ہے۔ کیوں کہ الہام تو ایک ان دیکھا ان جانا علم ہے مگر حیرانی کی بات ہے کہ اگر تو یہ واقعی کوئی الہامی جذبہ ہے تو ہمیں کسی ان دیکھے ان جانے شخص سے کیوں نہیں ہوتی۔ آج تک کسی نے بھی دن رات کسی خیالی چہرے کو یاد کر کے عطا اللہ عیسی خیلوی کے گانے لگا کے ٹرک نہیں چلایا۔
یہاں تک کے خواب بھی کہ جن کا تعلق کہیں نہ کہیں ان دیکھی دنیاوں سے جوڑا جا سکتا ہے؛ اس میں بھی چارپائی کی شامت لانے والا چہرہ روز سامنے والے گھر کی دیوار پہ اُپلے تھوپنے والی ہمسائی کا ہوتا ہے، لیکن خواب ایک رعایت ضرور دیتے ہیں کہ جس نے کل آپ کے سر پہ غصے میں گوبر پھینکا ہوتا ہے، آپ اگلی ہی رات خواب میں اس کے ساتھ سرسبز میدانوں اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اور دوسرے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے گیت گاتے، جھومتے کھلکھلاتے بھینسیں چرانے جا سکتے ہیں اور اس تسلی کے ساتھ کہ کل کلاں کواسی گھر سے کوئی دودھ خریدنے والا کسی چائنا کے موبائل سے تصویر بنا کے کمر کی آدھی ملکیت کے لئے آپ کو یہ دھمکی نہیں دے گا کہ میں نے یہ تصویر ماسی برکتے کو دکھا دینی ہے کہ جسے سارا گاؤں پھپھا کٹنی کہتا ہے اور جو خبر اتنی تیزی سے پھیلاتی ہے کہ آج تک کسی نیوز چینل کی جرات نہیں ہوئی کہ ہمارے گاؤں کی خبر کو سب سے پہلے چلانے کا دعوٰی کر سکے۔
محبت کو روح سے جوڑ بھی دیا جائے تو بھی اس حقیقت سے کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ جسم کو الگ کر دینے سے روح خالی ایک لطیف سا دھواں ہو کے رہ جاتی ہے کہ جسے نا دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی چھوا۔ منافقت ہماری یہی ہے کہ ہم نے ان دو اٹوٹ انگوں کو الگ کر دیا اورخالی محبت محبت کی مالائیں جپتے رہے اور اگر کسی لکھاری نے اس منافقت کے خلاف آواز اٹھائی اور جسم کو اتنی ہی اہمیت دی کہ جتنا حق ہے تو اسے عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور اس پہ فحاشی پھیلانے کے الزام لگائے گئے حالانکہ آپ شعرا کو لے لیں تو سر سے پاؤں تک جسم کا کوئی حصہ نہیں جو غزلوں اور نظموں کا حصہ نہ بنا ہو، نثر بھی اس مقابلے میں کہیں شکست کھاتی نظر نہیں آتی مگر پھر بھی ہم بضد ہیں کہ محبت کو جسم سے الگ کر کے پرکھا جائے جو باتوں کی حد تو ممکن ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے کہ جسے ہم دیکھتے تو ہیں کرتے بھی ہیں مگر مانتے نہیں۔
محبت میں انتہا کی مبالغہ آرائیوں پہ نظر ڈالیں تو شاید سر فہرست ہو گی پہلی نظر کی محبت۔ اب پہلی نظر میں کیا دیکھا جا سکتا ہے۔ چہرہ، چہرے میں آنکھ، کان، ناک، ہونٹ، گال یا پھر بال اور اتنا کچھ ایک ہی لمحے میں شرافت کی نظر یا وہ جسے جائز کہا گیا دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک وہ نظر ہے کہ جس کا اصل میں راج ہے۔ جو چپکنے کی اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ ایلفی اپنی کم زوری پہ شرمندہ ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ نظر ہے جو چہرہ نہیں چہرے کی بناوٹ یا کسی ایکٹرس سے مماثلت، ہونٹوں کی گلابیت اور ان میں موجود رس کی مقدار، آنکھوں کی رنگت اور ان میں موجود پانی کی گہرائی، گردن کی گولائی، بالوں میں ناچتی راتوں اور ان کی سلکیت، جسم کی اترایاں اور چڑھایاں چڑھتی سانسوں، ذہن میں ہندسوں کے اندازے لگاتی سوچوں، غرضیکہ یہ نظر تب تک اپنی محبت کے معیار کی کان کنی کرتی رہتی ہے کہ جب تک کپڑوں کی اندرونی تہہ اس کا راستہ نہ روک لے۔ تو یہاں سے ہوتی ہے محبت کی ابتدا کہ جس میں اتنا وقت اور محنت صرف کرنے کے باوجود روح سے ملاقات ہی نصیب نہیں ہوتی۔
سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ باتوں سے لمبی باتوں اور ہر بات میں اصرار ملاقات۔ یہ صبر آزما اور محنت طلب مرحلہ ہے۔ کبھی خط کو آدھی ملاقات کہا جاتا تھا اور یہ اس سے جسم کی حقیقت کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ملاقات کا مطلب دو جسموں کا روبرو بیٹھنا ہے ورنہ ادھوری ہی رہے گی۔ آج چونکہ خط کا زمانہ نہیں رہا اس لئے باقاعدہ ملاقات سے پہلے تین چوتھائی وائی فائی یا سستے انٹرنیٹ پیکییجز کی بدولت روز ہی ہو جاتی ہے۔ حالانکہ روح کی تسلی تو محبوب کو پانچ میگا پکسل کے کیمرے کے ذریعے دیکھ کے ہی ہو جانی چاہیے مگر ہوتا اس کے بر عکس ہے۔ کیمرے کے سامنے کروٹیں بدلتے محبوب اور اراد ی یا غیر ارادی طورپہ فرضی ہندسوں کو مجسم ہوتے دیکھ لینے کے بعد تو محبت کی بے چینی آسمان ہو کے فرش سے ٹکرانے لگتی ہے، تب ملاقات ضروری ہو جاتی ہے۔
سلسلہ پہنچتا ہے ملاقات تک۔ کہا تو یہ گیا ہوتا ہے کہ تجھے سامنے بٹھا کے تیری پوجا کروں گا اور سوچ یہ لیا جاتا ہے کہ پوجا میں تو چادریں چڑھائی جاتی ہیں، مورتیوں کو دودھ پلایا جاتا ہے مگر چونکہ یہ محبت کا مذہب ہے یہاں سب کچھ الٹ ہوتا ہے۔ پوری ملاقات میں روح کو کھوجا جاتا ہے۔ اب روح چونکہ کہیں اندر ہوتی ہے اس لیے جسم کی ہر تہہ کھنگالی جاتی ہے۔ بڑی محنت اور جان جوکھوں کا کام ہے، جسم اور پسینا ایک کرنا پڑتا ہے مگر روح کو ایسی بے پردگی پسند نہیں اس لیے اتنی ریاضت کے باوجود درشن نہیں کراتی۔ اب محبت کے اکثر پجاری اس مرحلے کے بعد ایک ہی کوشش کے بعد بڑے مایوس ہو جاتے ہیں اور تنگ آ کے روح کی تلاش میں کسی نئے معبود کو تلاشنے نکل پڑتے ہیں۔ یہاں پر اکثر محبتوں کا انجام ہو جاتا ہے۔ معبود پجاری کو روکنے کے ہر جتن کرتا ہے مگر وہ مندر مندر گھومنے والا رکتا نہیں اور کسی نئی مورتی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔
کچھ پجاری من کے سچے ہوتے ہیں، یہ فراز کے وہ دیوانے ہوتے ہیں جو محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں لیکن پھر بھی ان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ جسم و پسینا ایک کرنے کی ریاضت میں ان کا پسینا محبوب کے پسینے سے پہلے ٹھنڈا نہ ہونے پائے ورنہ دھکے دے کے بے دخل کیا جائے گا، بے دخل نہ بھی کیا گیا پھر بھی محبوب کے ترچھے تیور یہ ضرور باور کرا دیں گے کہ محبت کے اس کٹھن امتحان کو کامیابی سے پاس کرنا ہی مزید محبت کی ضمانت ہے۔ ورنہ پجاریوں کی کمی نہیں، ایک سے بڑھ کر ایک۔ وہاں وہی ٹکا جس نے لمحوں کو اپنی مٹھی میں کرنے کا منتر سیکھ لیا۔ جاپ جتنا طویل، محبوب اتنا سرشار۔
کچھ محبت کے دیوانے سادے ہوتے ہیں، یہ صبر کرتے ہیں کہ دو گواہ اور دو بول پڑھانے والا باقاعدہ اجازت نامے کے ساتھ اسے محبت کا حق دیں۔ انھیں لگتا ہے کہ شاید یہ دو گواہوں والا کاغذ اسے روح تک پہنچنے میں مدد دے گا لیکن اس کی یہ غلط فہمی پہلی شب کی تاریکی دور کر دیتی ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ روح تک کا یہ سفر جسم کی گھاٹیاں، ڈھلوانیں، کھائیوں، تنگ و تاریک راہوں کی کٹھنائیوں سے اٹا پڑا ہے۔ روح تک پہنچنے کے لیے اسے پہلے جسم کے دشوار گزار جنگل بیلوں اور دلدلوں کو کامیابی سے پار کرنا پڑے گا ورنہ اس شب کی پہلی صبح وہ پھولوں سے سجی سیج اس لیے سونی ہو سکتی ہے کہ تم کم زور ہو، اس پھولوں کی سیج کے قابل نہیں۔ پھر محبت کا یہ پجاری سب چھوڑ چھاڑ کے منہ چھپاتا کسی حکیم کے سامنے اپنی ناکام محبت کے قصے سنا رہا ہوتا ہے اور پھر یہ محبت کی یہ ناکامی گردوں کی خرابی پہ جا دم توڑتی ہے اور ایک اور روح والی محبت کا دعویدار و پیروکار جسم کی ناکامی کے باعث جان دے دیتا ہے۔
جسم کی خواہش میں روح کی ملاوٹ کر کے ہم منافقت کیوں کرتے ہیں۔ ہمیں وقتی غرض کے لیے محبت نام کی سیڑھی کیوں استعمال کرنا پڑتی ہے۔ ہم یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ یہ انسان کی ضرورت ہے۔ اسے مختلف نام دے دینے سے یہ حقیقت یہ ضرورت نہیں بدلتی۔ آپ اسے پیار، انس، لگاؤ، عادت محبت کچھ بھی کہیں آخر ان کی تان جسم پہ ہی آکے ٹوٹتی ہے۔ ایک ہی ضرورت کی تکمیل کے مختلف نام ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جسمانی دوریاں یا فاصلے لوگوں کو کسی اور پجاری کو خود تک رسائی دینے پہ مجبور نہ کرتے۔ جسم کی کم زوریاں تعلق ٹوٹنے کی وجہ نہ بنتیں۔
لوگ ان سے بھی محبت کرتے کہ جنھیں ان کی جسمانی کم زوریوں نے معاشرے سے کاٹ کے انھیں گلی گلی ناچنے اور بھیک مانگنے پہ مجبور کیا، وہ جو عورت یا مرد پیدا ہوئے مگر چند قدرتی ناچاریوں نے نہ انھیں مکمل عورت رہنے دیا نہ مرد بلکہ معاشرے نے انہیں بڑے فخر سے ”تیسری مخلوق“ کہہ کر ان کی جنس کی تضحیک کی اور اگر کئی کئی سال کے رشتے آخر اس ایک ضرورت کی تکمیل نہ ہونے کے باعث ٹوٹتے ہیں تو مان کیوں نہ لیا جائے کہ جسم ہی حقیقت ہے۔ محبت جسم کی ضرورت کی تکمیل کا رستہ ہے۔ جس سے پوری ہو وہی محبوب ہے۔ اگر روح کا کوئی دخل اس میں ہوتا تو محبت کے کسی بھی مرحلے میں ہماری روح سے ملاقات ضرور ہوتی۔ پہلی نظر کی ابتدا سے آخری نظر کے انجام تک سب جسم ہی تو تھا۔ محبت کیا نکلی۔ ابتدائے جسم سے انتہائے جسم تک۔


