فیئر اور فاؤل پلے
محبت اور جنگ میں کہتے ہیں سب کچھ جائز ہے مگر ہمارے ہاں سیاست بھی محبت اور جنگ کا دوسرا نام ہے۔ سیاست کے میدان میں اترنے والے اس کے عشق میں ایسے ڈوبتے ہیں کہ اکثر عوام اور ان کے مسائل بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اپنے اقتدار کے حصول یا پھر اسے مزید طول دینے پر لگی رہتی ہیں، اس جدوجہد میں مخالفین سے کیسے نمٹنا ہے، کیا داؤ پیچ استعمال کرنے ہیں، اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
2008 کے الیکشن میں بننے والی حکومت کے ایک سنیئر رہنما کا کہنا تھا ان کی بڑی حریف یا اپوزیشن کوئی جماعت نہیں بلکہ ایک بڑا میڈیا گروپ اور اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ پر بیٹھے جج صاحب ہیں، جو ازخود نوٹس لے کر انہیں ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔
سیاست میں کچھ سچ ہوتے ہیں جنہیں خاص مواقع کے لیے رکھ چھوڑا ہوتا ہے باقی دعووں اور نعروں، جن پر جھوٹ کا لیپ چڑھا ہوتا ہے،کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
الیکشن کی آمد سے پہلے اصل میدان سجتے ہیں، اپنی جیت یقینی بنانے کے لیے تمام محاذ تیار کرلیے جاتے ہیں۔ حریف تو واضح ہوتے ہیں، حلیفوں کی صف بندی شروع ہوجاتی ہے۔
سب سے پہلا کام مخالف کی کمزوریاں، خامیاں اور ذاتی نوعیت کے عیب تلاش کئے جاتے ہیں۔ حریف جماعت کا کوئی منفی نقطہ پکڑ کر اسے لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اگر کچھ نہ ملے پھر بھی کوئی چھپی بات نکال لاتے ہیں۔ کرپشن، جرم، غلطی، منہ سے نکلا غلط جملہ، اخلاقی کمزوری، کوئی مذہبی حوالہ، خاندانی سکینڈل، مقصد یہ کہ کردارکشی کا سامان ڈھونڈنے کے جتن کئے جاتے ہیں۔
جہاں جیت کی خاطر ایک ایک ووٹ پر کام کیا جاتا ہے، اسے خریدنے تک سے گریز نہیں کیا جاتا۔ وہیں ووٹر کی توجہ حاصل کرنے اور اس کی نگاہوں میں اپنے مخالف کو پوری طرح سے ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاکہ مخالف پارٹی اور امیدوار ووٹر کی نظروں سے ہر لحاظ سے گرجائے۔ اس کے دل میں نفرت کا پودا لگا دیا جاتا ہے تاکہ آگے چل کر تن آور درخت بن جائے اور آئندہ کے لیے وہ پارٹی اور سیاسی شخصیت ووٹرز کے دل سے ہی اتر جائے۔
سیاست کی اس جنگ میں جہاں اپنی خصوصیات، کارنامے اور اچھی اچھی باتیں بلند وبانگ دعوے اور نعرے متعارف کرائے جاتے ہیں، خوبصورت دھنوں پر پارٹی ترانے پیش کئے جاتے ہیں۔ وہیں مخالف کی بینڈ بجانے کی ایک بھرپور اور جامع مہم تیار کرلی جاتی ہے۔
پاکستان میں پچھلی چند دہائیوں سے سیاست کی اس جنگ میں جہاں رول آف گیمز میں کچھ تبدیلی آئی ہے وہاں حریف اور حلیف کی صف بندیاں بھی نئے انداز میں ہونے لگی ہیں۔
اب کئی غیرسیاسی عناصر اور ادارے بھی حلیف اور حریف کی فہرست میں ہوتے ہیں۔ جنہوں نے حمایت یا مخالفت کرنا ہوتی ہے۔
جس جماعت کے بارے میں اگر عمومی تاثر قائم ہوجائے کہ اس کا اقتدار آنے والا ہے اس کے گرد حلیف کا حصار بڑھتا اور مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ یہ گمان کرلیا جاتا ہے کہ مقتدر حلقے اس کی پشت پناہی کررہے ہیں، پھر مہروں کی ترتیب بدلنی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ اشارہ بھی سیاسی عقلمندوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔
سیاست کی اس جنگ میں ایسے اشارے سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کامیاب کمانڈر بھی اسے تصور کیا جاتا ہے جو صورتحال کو بھانپ کر سیاسی پیش بندی کرتا ہے۔
اس جنگ کو لڑنے کے لیے جن حربوں کو استعمال کیا جاتا ہے وہ بڑا سوچ سمجھ کر ہوتا ہے۔ کیونکہ اب نئے حالات میں مخالف غیر سیاسی قوت بھی ہوتی ہے اور اس کا مقابلہ نہایت سوجھ بوجھ کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ اگر حملہ کرتے وقت کوئی الزام لگایا یا پھر کوئی ایسا سچ بول دیا جس سے بڑا ایشو کھڑا ہوجائے پھر اس کے نتائج کو بھی پہلے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ کئی بار ایک چھوٹی سی چال آپ کو کامیاب کردیتی ہے، جیسے 1988 کے الیکشن میں قومی اسمبلی میں کم نشستوں پر راتوں رات جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ کامیاب ہوگیا اور صوبے میں جیت مل گئی۔ 2008 میں پاکستان کھپے کا نعرہ بھی موثر ثابت ہوا۔
سیاست میں اپنی صفائی پیش کرنے کا عمل ضروری اور ناگزیر بھی ہوتا ہے لیکن ایسا کرنے کے دوران بیک وقت حریف پر حملے بھی جاری رکھنے پڑتے ہیں۔ صرف ایک بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی حساس یا مذہبی معاملے میں نہ پڑا جائے، جس کو سنبھالنا یا اس کی وضاحت مشکل ہوجائے۔ ایسی صورتحال میں بساط پلٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔
حالیہ سیاسی منظر نامے میں پے درپے کچھ ایسا ہوتا دکھائی دیا، جس سے صف بندیاں تیزی سے بدلتی جارہی ہیں۔ کئی سچ، راز اور نعرے بھی شاید اب اس کھیل کا پانسہ پلٹنے میں معاون نہ ہوں۔
لوگ بہت کچھ دیکھیں گے، بہت کچھ سننے میں آئے گا۔ مگر زیادہ محاذ کھولنے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہوتی ہے، جسے شاید سیاست کے بڑے کھلاڑی بھول رہے ہیں۔
سابق حکمرانوں نے کپتان کے ماضی کے حوالے دوبارہ نکالنے شروع کردیئے، سیتا وائٹ اور اس کی بیٹی ٹیریان کا تذکرہ نکل آیا۔ ایسے ذاتی حملے 80 کی دہائی میں بھٹو خاندان پر بھی کئے گئے۔ مگر سیاسی تاریخ گواہ ہے اس کے نتائج حملہ کرنے والوں کے حق میں نہیں آئے۔ تحریک انصاف نے لندن میں سابق خاتون اول کی بیماری کو ہدف تنقید بناڈالا۔
نہ جانے کیوں سیاست کو ایک فیئر گیم سمجھ کر کیوں نہیں لیا جاتا۔ اسے آخری جنگ کیوں بنالیتے ہیں۔ جس میں فتح کی خواہش جائز اور ناجائز فیئر اور فاؤل میں فرق ہی بھلا دیتی ہے۔


