مزاح کا جنازہ

یوسفی صاحب نے زندگی بھر اتنا معیاری لکھا کہ ان کو پڑھنے کے بعد اس سے کم کچھ ملے تو دل ہی نہیں مانتا۔ اور دیکھئے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ان کی وفات کا سن کر دل غمگین اور آنکھ نم ہوگئی لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں جب سارا فیس بک ان کے اقتسابات سے ذرخیز ہوا تو باوجود ان کے انتقال کے دکھ سے لبریز دل وہ پڑھ کر مسکرائے بغیر رہ نہیں سکا۔ ہائے کیا کمال کی زندگی اور موت ہوتی ہے مزاح نگار کی۔ رشک آمیز مزاح کے مشہور شاعر دلاور فگار صاحب احمد فراز کی مشہور زمانہ غزل سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں کی زمین پر کیا خوب کہہ گئے ہیں۔
ادیب و شاعر فن کار بوتے ہیں جو شجر
یہ لوگ پھل کہاں اپنے شجر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے مرنے کے بعد ان کی قدر ہوتی ہے
سو چند دن کے لیے ہم بھی مر کے دیکھتے ہیں
ان سطور میں سنجیدگی نمایاں ہے مگر اس کے باقی اشعار لطیف ہیں جیسے
سنا ہے عشق میں مشکل ہے میٹرک کرنا
رزلٹ کچھ بھی سہی فارم بھر کے دیکھتے ہیں
طنز دراصل انسانی غلط رویوں کو نمایاں کرنے کے لئے اس دھار کا نام ہے جس سے میٹھی چبھن پیدا ہوتی ہے۔ گویا آئینہ بھی دکھا دیا جاتا ہے اور گدگدی بھی کی جاتی ہے۔ جیسے مشتاق احمد یوسفی صاحب نے لکھا کہ ”سات آٹھ مرد ایک جگہ یکجا ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ صرف ایک بولتا ہے۔ باقی سب نہیں بولتے۔ نہ سنتے ہیں۔ لیکن اگر سات آٹھ عورتیں یکجا ہوں تو سب ایک ساتھ بولتی ہیں اور اچھنبے کی بات ہے کہ بولتے وقت سب سن بھی لیتی ہیں۔
ایک عظیم مزاح نگار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ تعصب کی عینک کا استعمال نہیں کرتا۔ ہاں لیکن طنز و مزاح میں اس کی جھلک ایسی نظر آتی ہے کہ پڑھنے والے برا محسوس نہیں کرتے۔ اب یوسفی صاحب کا ہی ایک اور مشہور مزاحیہ جملہ ہے کہ ”مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کر لیتے ہیں لیکن عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے“
صرف دوسروں پر طنز کرنا یا لطیفے بنانا ہی مزاح نہیں بلکہ اپنے آپ سے شروع کرنا اصل ذوق کہلاتا ہے۔ ہماری قوم کا کئیوں میں سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم طنز و مزاح سمجھنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ ایک دن ایک مشہور عورتوں کے بلاگ پر کسی نے وہ مشہور لطیفہ پوسٹ کیا کہ رات کے کسی پہر ایک صاحب نے اپنی بھاری بھرکم بیوی سے کہا کہ بیگم تم کیا سمجھتی ہو انسان ایک دم سے مرجائے یا تڑپ تڑپ کر؟ بیگم فوراً بولی ایک دم سے مرجانا بہتر ہے۔ تو شوہر نے کہا اچھا پھر اپنی دوسری ٹانگ بھی میرے اوپر رکھ دو۔
ابتداء میں جب یہ لطیفہ تازہ تھا تو واقعی مزہ دیتا تھا مگر اب یہ صرف وزنی عورتوں کی بے عزتی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ بہر حال اس لطیفے کے کمنٹس میں کافی ساری عورتوں نے برا منایا اور ایک پڑھی لکھی خاتون نے کہا کہ یہ مرد اس طرح کے نفرت آمیز لطیفے کیوں عورتوں پر بناتے ہیں؟ میں نے صرف اتنا کمنٹ کیا کہ بہنوں خدا کے واسطے اپنے اندر کے مزاح کو مت مارئیے۔ اگر اس طرح لطیفوں میں سے نفرت کی چنگاریاں نکالی جائیں گی تو بہت جلد ہمارا معاشرہ جلا بھنا کباب ہو جائے گا۔ کیا پہلے ہی بہت سنجیدہ مسائل نہیں ہیں ہمارے پاس اپنا خون جلانے کے لئے؟
ہماری نوجوان نسل مزاح سے صرف اتنی آشنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر حالات حاضرہ کے واقعات میں سے طنز و مزاح کا عنصر نکال کر لطائف بنا کر پوسٹ کرتے اور دو نفلوں کا ثواب پاتے ہیں۔ تازہ ترین واقعات میں شریف خاندان کی جائیداد پر تو بن ہی رہے تھے مگر بیگم کلثوم نواز کی ناساز طبیعت کو بھی نہیں چھوڑا اور کسی کم ظرف نے یہ پوسٹ لگائی کہ ” مریم نواز نے کہا ہے کہ بقول ڈاکٹرز اگر شریف خاندان پر سے کیس ختم ہوجائے تو امی کی طبیعت ٹھیک ہو سکتی ہے“ معاف کیجئے یہ طنز و مزاح نہیں ہے بلکہ بھونڈا مذاق ہے اور نوجوانوں کی بدذوقی کا پیش خیمہ ہے۔
دوسری مثال ریحام خان کی آنے والی کتاب کا مبینہ مسودہ ہے جس پر دل کھول کر فحش لطیفے بنائے گئے۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں ان لوگوں سے جو اس طرح کے بے معنی اسکینڈلز پر لطیفے بناتے ہیں کیا وہ اپنے گھریلو معاملات یا مسائل پر بھی اسی طرح بے فکری اور مزاحیہ انداز کو اپنائے رہتے ہیں؟ یا یہ بے حسی صرف دوسروں پر موقوف ہے؟

