سری لنکا کے باوقار لوگ
میں نے کافی عرصہ پہلے کی اخبار میں رپورٹ پڑھی تھی، جس میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور انڈیا کی عورتوں کی حیثیت، عملی سوچ اور کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا گیا تھا۔ جس کے مطابق، محقق نے سری لنکا کی ماؤں کو مثبت اور فعال قرار دیا۔ یہ ماں پڑھی لکھی اور سمجھدار ہونے کے ناتے، بچوں کی ذہنی، جسمانی و روحانی نشونما پر خاصا دھیان دیتی ہے، جس کی وجہ سے بچے کم بیمار ہوتے ہیں اور ان میں اموات کی شرح ایشیا یا ساؤتھ ایشیا کے دوسرے ملکوں سے کم بتائی گئی۔ یہ رپورٹ پڑھ کر اس وقت میرے دل میں سری لنکا دیکھنے کی شدید خواہش جاگی تھی۔
سری لنکا جاکر اندازہ ہوا کہ کافی سال پہلے جو رپورٹ میں نے پڑھی تھی، آج کا سری لنکا اس سے دوگنی چوگنی ترقی کے راستے پر سفر کرتا دکھائی دیا۔ سری لنکا آج ساؤتھ ایشیا کا چوتھے نمبر پر آنے والا امیر ترین ملک ہے۔ جو قیمتی پتھر، چائے، مصالحہ جات اور سیاحٹ کی صفت سے ہر سال اچھا خاصا زرمبادلہ کماتا ہے۔
قوم کی تقدیر اس ملک کے رہنما ترتیب دیتے ہیں۔ ان رہنماؤں میں سری لنکا کے کہنہ مشق سیاستدان، مہندا راجا بھی شامل ہیں۔ جو حال ہی میں دوسری بار سری لنکا کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ مہندا، 2005ء میں جس وقت صدر منتخب ہوئے تھے، ملک ہر طرح کے مسائل و خطرات میں گھرا ہوا تھا، انہیں بیک وقت ملک کی اکانامی، تعلیم، صحت اور دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا تھا۔
دنیا کی کتنی ہی ایسی قومیں ہیں، جو مستقل آزمائشوں سے گزرنے کے بعد اپنے عروج کو پہنچی ہیں۔ جیسے سندھ مستقل بیرونی حملہ آوروں کے تسلط میں رہی، لیکن سندھ کی زبان اور ثقافت کو کوئی بھی قوم کچل نہیں سکی۔ اسی طرح سری لنکا کی تاریخ بھی مستقل غیرقوموں کے جبر کے خلاف ڈٹ کر مقابلے کرنے کے واقعات سے بھری پڑی ہے، لیکن اس قوم کے لوگ ہر لحاظ سے ترقی یافتہ و دانا قوم کہلوانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ ان میں خود انحصاری اور ذاتی ذمیداری کی خصوصیات نظر آتی ہے۔ یہ وہ رویے ہیں جو کہ سماج کے اندر تیزی سے تبدیلی لاتے ہیں، جب کہ عموماً یہ تصور عام ہے کہ تبدیلی ظاہری ماحول کے بدلنے سے وجود میں آتی ہے۔
سری لنکا کے کتنے ہی شہروں کو دیکھ کر، واپس کولمبو لوٹے ہیں۔ یہاں سمندر بھی شہر کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ جس کے برابر ریل کی پٹڑیاں ہیں۔ دل میں بے اختیار ہی ریل میں سفر کرنے کی خواہش جاگ اٹھی۔ کشتی کے بنا یا پانی کے جہاز والی ٹرین میں سمندر کی رنگینیوں کو دریافت کرنے کی یہ رمز کتنی خوبصورت ہے۔ یہ خوبصورت جزیرہ چاروں اطراف سے سمندر کے گھیرے میں ہے، اس کے ہر علاقے میں سمندر کے حسین منظر نظر آتے ہیں، یہاں سمندری غذا فراوانی کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ کولمبو کی تاریخ ڈچ اور برطانوی ثقافت کے زیر اثر مختلف ثقافتی رنگ پیش کرتی ہے۔ یہاں مساجد سے لے کر کیتھولک، اینجلک چرچ اور مندر سیاحوں کی توجہ کے مرکز ہیں۔
ایک لمبی خانہ جنگی کی آگ میں جلتا، سری لنکا آج ساؤتھ ایشیا کا امیر ترین ملک بن چکا ہے۔ ملک کی قسمت کے بدلنے میں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ باشعور عوام کا بھی بہت بڑا کردار رہا ہے۔ 2230 سال پہلے، اس جزیرے پر دیوانہ مپیاٹسا نامی بادشاہ کی حکمرانی تھی۔ ”ٹسا“ مطلب دیوتاؤں کا پیارا۔ بہار کے کسی ایک خوبصورت دن بادشاہ جنگل میں شکار کی غرض سے گیا تو وہاں اس کو کسی نے پکارا۔ اس نے حیرانگی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زرد رنگ میں ملبوس لوگوں کا ایک ہجوم دکھائی دیا۔ تعارف کرنے پر معلوم ہوا کہ اسے پکارنے والا، ہندوستان کے حکمران اشوکا کا بیٹا ارمنت مہندا تھا۔ اس دوستی کا آغازسری لنکا میں بدھ مت کے عروج کا وسیلہ بنا، جس کے نتیجے میں وہاں نباتات اور جانوروں کے تھاک وجود میں آئے۔ مہندا نے بادشاہ سے کہا کہ: ”ہم پودوں اور ہریالی کے رکھوالے ہیں، کسی بھی حاکم کو کوئی حق نہیں کہ وہ درختوں، باغوں، دریاؤں، جانوروں اور ندی نالوں کو اپنی ملکیت کے طور پر استعمال کرے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم فطری ماحول کا بچاؤ کریں، تاکہ ہماری نسلیں صاف ستھرے ماحول میں سانس لے سکیں۔ “
یہ سوچ آج تک سری لنکا کے مزاج سے جھلکتی ہے۔ ان کی شاہراہیں، رستے، گلیاں اور محلے صاف ستھرے دیکھنے کو ملے۔ وہ فطری ماحول کے بچاؤ اور تحفظ کے لئے کوشاں ہیں۔ مختلف لوگوں سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ یہاں کے لوگ پئسے کو سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں، اچھی غذا کا استعمال اور ان کے گھر او ر آسپاس کا ماحول صاف ستھرا نظر آتا ہے۔ سری لنکا کے مختلف شہروں میں گھومتے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ حکمت عملی جوڑنے کا فن آکر کوئی ان سے سیکھے۔ یہ زندگی کے معاملات کی منصوبہ بندی بھی مہارت کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان میں خود شناسی اور ذاتی تنظیم بھی پائی جاتی ہے۔
شانتی، درختوں کے اوپر بسیراکیے رہتی ہے، جو کہ سری لنکا کی قوم کا بھی مزاج ہے۔ پرسکون سماج، مثبت نتائج مرتب کرتا ہے، جو معاشرے ذہنی انتشار سے نجات حاصل نہیں کرتے، وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ لوگ چیزوں کو حفاظت کے ساتھ سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ انہیں چیزوں کو ریسائکلنگ کے ذریعے دوبارہ کارآمد بنانے کا فن آتا ہے۔ چیزوں کے ایسے استعمال سے بچت کے ساتھ ساتھ معاشرہ گندگی اور کچرے سے بھی پاک ہوتا ہے۔ آسائش کی بھرمار اور دکھاوے سے مبرا یہ قوم روزمرہ کی زندگی میں سچائی، ایمانداری اور شعوری بیداری سے کام لیتی ہے۔
قدیم ادوار سے یہاں بدھ مت کی وجہ سے زراعت اور الٹرا ائڈوانس ہائیڈرو کلچرکی بنیاد پڑی۔ چیزوں کو خالص رکھنے کی کوشش اور ان کی اصلی حالت کو برقرار رکھنے کے رمز کوئی ان سے سیکھے۔ آبپاشی کا یہ بہترین نظام پوری دنیا کے لئے تعجب کا باعث ہے۔ کتنے ہی سالوں تک خانہ جنگی کے باعث یہ ملک خودانحصاری کے احساس تلے عملی، سماجی، معاشی، زرعی و صنعتی طور پر ترقی پذیر رہا۔ اس ملک میں خانہ جنگی کا آغاز 1983ء سے ہوا۔ سنہالیوں اور تامل آبادیوں کے بیچ میں ہونے والی یہ خانہ جنگی سالوں تک جاری رہی۔ یہ خوبصورت جزیرہ 1972ء تک سیلون کہلایا جاتا تھا۔ کچھ عرصہ یہ برطانیہ کے قبضے میں بھی رہا۔ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے سے پہلے یہ ملک ڈچ اور پرتگالیوں سے بھی لڑائی لڑتا رہا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بیوپاریوں نے جب سری لنکا کا رخ کیا تو انہوں نے یہاں پر چائے کے باغ لگائے۔
انہوں نے انڈیا سے تامل لوگوں کو سری لنکا میں بلوایا، جو چائے کی پتیاں چنتے تھے۔ سنہالیوں کواس وقت یہ بات پسند نہ آئی کہ برطانوی تامل قوم کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں۔ تامل زندگی کی دوڑ میں ان سے کافی پیچھے تھے، ان کو ووٹ تک دینے کا حق حاصل نہ تھا۔ وہ بطور شہری تک بنیادری سہولیات سے محروم تھے۔ اس لئے بغاوت کی آگ ان کی صفوں میں بھڑک اٹھی۔ انہوں نے الگ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام نامی تنظیم کی 1976ء میں بنیاد ڈالی۔ اسی لمبی خونی جنگ میں ستر ہزار سے زائد لوگ اجل کا شکار بنے۔ اس جنگجو تنظیم کے جڑنے کا عمل وجود میں آنے کا محرک، 1948ء میں سیلون سٹیزن شپ ایکٹ تھا، جس نے تامل آبادی کو شہریت کے حق سے محروم کردیا۔
ان کے لیڈر پرابھاکرن کی قیادت میں بیشتر خودکش حملےکیے گئے۔ دھماکوں کی زد میں آکر کتنے ہی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں انڈیا کا وزیر اعظم راجیو گاندھی اور سری لنکا کا صدر رانا سنگھی پریما داس بھی شامل ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پینتیس سالہ اس طویل جنگ میں سماجی شعور اور انسانیت کا احترام برقرار رہا۔ جب دہشتگردی کے واقعات بڑھنے لگے تو آخرکار گورنمنٹ نے ریکنسلی ایشن جوڑ لی۔ تامل قائد کے مارے جانے کے بعد یہ تنظیم منتشر ہوگئی۔ تاملوں کو شہریت کے ساتھ ووٹ دینے کا حق بھی دیا گیا۔ کچھ سال پہلے سیمی آٹو نومیس کاؤنسل کا الیکشن کروایا گیا، تامل نیشنل الائنس نے تیس سیٹیں جیت لیں اور ان کی صوبائی گورنمنٹ شمالی علاقہ جات میں بنی۔ سری لنکا کے ہائے کمشنر نے پاک۔ سری لنکا موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ: ”اگر پاکستان کا تعاون نہ ہوتا تو سری لنکا میں دہشتگردی اور خانہ جنگی کا خاتمہ ناممکن تھا۔ “


