پاکستان میں خواتین کی جنسی ہراسانی کا خاتمہ۔  خواب یا حقیقت؟


کیا پاکستان سےخواتین کی جنسی ہراسانی ختم ہو سکتی ہے؟

ایک لفظ میں اس کا جواب ہے ”نہیں“۔
یہ ایک لفظ کا جواب اس لئے کہ پاکستان ہی میں نہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں، ہہت سنجیدہ کوششوں کے باجود، جنسی ہراسانی کا مکمل سد باب نہیں ہو سکا۔

اس کی ایک سیدھی سادھی اور ناقابل تسلیم وضاحت یہ بھی دی جاتی ہے کہ جب تک انسان میں جنسی جبلت موجود ہے، اس کا اظہار انسانی روئے اور سلوک میں کسی نہ کسی شکل میں عیاں ہوتا رہے گا۔ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ چونکہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اس لیے انسانی جبلت کے تشدد اور قتل کے خلاف کوئی کوششش نہیں ہونی چاہیے۔

جبلت ہو نہ ہو، کسی مرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عورت پر صرف یہ سمجھ کر ہاتھ اٹھائے اور اسے ہراساں کرے کہ چونکہ ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے، اس لیے ابد تک اس رویے کے آگےسرتسلیم خم کردینا چاہئیے۔

اس حقیقت سے تو کو ئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جنسی ہراسانی ہمارے معاشرے میں موجود ہے، لیکن اس بارے میں اگر کو ئی خوش آیند خبر ہےتو یہ کہ اگرچہ ماضی میں اس موضوع کو ناقابل اظہار سمجھا گیا۔ اور معاشرے نے، خاص طور ہمارے سیاسی، اخلاقی اور مذہبی رہنماؤں نے، اس کبوتر کی طرح جو بلی کو حملہ آور ہوتے ہویے دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اس موضوع پر گونگے، بہرے اور اندھے پن میں ’صمن، بکمن، عمیّن فہم لایرجعون‘ کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اب جنسی ہراسانی کے موضوع پر مختلف حلقوں میں اختلاف رائے کے باوجود کھل کر گفتگو ہو سکتی ہے۔

ہم جب جنسی ہراسانی کی بات پاکستانی یا اسلامی اور برصغیر کے سیاق و سباق میں کرتے ہیں تو اکثر اپنی کشادگ ئی ذہن کا ثبوت دینے کے لیے اپنا موازنہ مغربی اور نام نہاد تہزیب یافتہ اقوام سے کرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں مغربی اقوام کی بنا سوچے سمجھے نقالی کی بجایے ہمیں اپنا معیار اپنے بل بوتے پر مقرر کرنا چاہیے جس پر ہم عورت کی عزت اوراس کے وقار کو جانچیں اور معاشرے میں ایسی تبدیلی لائییں جو ہماری مثبت اقدار پر پوری بھی اترے اور ترقی کی طرف گامزن بھی ہو۔

مغربی ممالک کا ذکر میں نے خاص طور پر جنسی ہراسانی کے حوالے سے اس لیے کیا کہ
”کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی“۔

کینیڈا کا شمار دنیا کے مہزب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ ہیاں کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو موجودہ دور کے پہلے حکومتی سربراہ ہیں جنہوں نے ایک مرد ہونے کے ناطے اپنے آپ کو فیمینسٹ کہا، اور بڑے فخر سے ایک ایسی اصطلاح کا اپنی ذات پر اطلاق کیا جو اس سے پہلے صرف عورتیں اپنے لئے استعمال کرتی تھیں۔ لیکن اس معاشرے میں بھی امتیازی اور ترجیہی سلوک، ہراسانی، اور خاص طور پر جنسی ہراسانی کی تاریخ کچھ بہت زیادہ روشن نہیں ہے۔

کینیڈا میں تمام وفاقی اور صوبا ئی وزارتوں میں ایک محکمہ انسداد امتیازی سلوک و ہراسانی موجود ہے، یہ ’آفس آف ورک پلیس ڈسکریمینیشن اینڈ ہراسمنٹ پریوینشن‘ ہر قسم کی ہراسانی اور امتیازی سلوک کے انسداد کے قوانین اور ضابطوں پر عمل در آمد کا ذمٔہ دار ہوتا ہے۔

مجھے اٹھارہ سال تک کینیڈا کے سب سے بڑے صوبے اونٹاریو کی دو وزارتوں میں اس پروگرام کے منتظم کے فرائض سر انجام دینے کا موقعہ ملا۔ اگرچہ ہر قسم کے دل شکن، سبق آموز، اور ساتھ ہی دلچسپ واقعات سے واسطہ پڑا۔ لیکن سب سے زیادہ جس چیز نے مجھےحیران کیا وہ یہ تھی کہ ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں مذہبی، نسلی، جنسی اور معزوری اور عمر کی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور ہراسانی کی شکایتیں آتی تھیں مگر اس دور میں بھی ان میں سب سے بڑی تعداد جنسی ہراسانی کی شکایتوں کی ہوتی تھی۔

حتی کہ 911 کے بعد بھی جب شمالی امریکہ میں مسلانوں کے خلاف مذہبی بنیاد ہر نفرت، اسلاموفوبیا، اورتشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا، جنسی ہراسانی کی شکایات پھر بھی تمام باقی بنیادوں پر مبنی شکایات سے تقریبأ دگنی تعداد میں فائیل کی جاتی تھیں۔ اکیسویں صدی میں کینیڈا جیسے ملک کے دفتری ماحول میں جنسی ہراسانی کی ایسی بہتات کا ہوناحیران کن بھی تھا اور مایوس کن بھی۔

ابھی تک امریکہ میں کالج میں داخل ہونے والی ہر پانچویں لڑکی کالج کی مدت ختم ہونے سے پہلے جنسی حملے یا ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ چند دن ہویے آر۔ سی۔ ایم۔ پی۔ (رائیل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس) پر ہراسانی کے الزام میں ایک بلین ڈالر کا کلاس ایکشن ہوا۔ رہا طاقت کا غلط استعمال، تو بل کلنٹن کی مانیکا لیونسکی اور دیگر خواتین کو ممکن ہے آپ نہ بھولے ہوں گے۔ اور اگر وہ بات پرانی ہو چک ئی ہے تو اس سے تو آپ یقینا غافل نہیں ہوں گے کہ وائیٹ ہاوس میں اب تک ایک ایسا شخص کرس ئی صدارت پر براجمان ہے جس کی خاصیت عورتوں کو ایک خاص اندار میں چھو کر ہراساں کرنا ہے جس کا وہ فخریہ اعتراف بھی کرتا ہے۔ با اقتدار لوگوں کی قانون سے بالا تری کی زندہ علامت اس سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے؟

اس لئے ضروری نہیں کہ ہم مغرب کی ہر بات کی اندھا دھند تقلید کریں۔ البتہ ان ترقی یافتہ ممالک سے ہم وہ طریقہ کار ضرور سیکھ سکتے ہیں جس کا اطلاق ہم اپنے معاشرے میں کر سکیں۔ مغرب اور مشرق کی منتخب اقدار کے امتزاج سے خواتین کو اپنے مکمل آئینی، قانونی اور انسانی حقوق حاصل کرنے ہوں گے تاکہ وہ معاشرے میں وہ مقام حاصل کر سکیں جو ان کا حق ہے۔ اور حق بھی، اختیار کی طرح، دیا نہیں جاتا، لیا جاتا ہے۔ اس بنیادی حق کے حصول کے لئے جو جد و جہد، جس جانفشانی سے، خواتین خود کر سکتی ہیں کو ئی اور ان کے ایما پر نہیں کر سکتا۔

ملکی فلاح و بہبود میں معاشی پہلو کی اہمیت سے کسی ذی ہوش کو انکار نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں خواتین کو معاشی سرگرمیوں سے بہت حد تک الگ تھلگ رکھا گیا۔ ہمارا معاشرہ عوتوں کے مثبت معاشی امکانات کو تلاش کرنا تو کیا، صاف نظر آتے ہویے بھی تسلیم کرنے سے منکر رہا۔

گھر سے باہر کے کام کاج کی دنیا میں جو حقارت آمیز سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان میں ہوتا ہے اس کی مثال صرف انتہا ئی متعصب اور پس ماندہ ملکوں میں ملتی ہے۔

اس مد میں ہم یقینأ مغربی ممالک سے ان کی انسداد ہراسانی کی پالیسیوں پرعمل، دفتروں میں لیاقت کی بنیاد پر خواتین کی ترقی، اور اداروں میں عورتوں کی اعلی ترین عہدوں پر تعیناتی، جیسی مثالیں بغیر مزید وقت ضایع کیے بلا جھجک اپنا سکتے ہیں۔

کچھ ایسے عملی اقدام بھی ہیں جن کو پاکستان کی خواتین اس موقعہ اور محل کی نسبت سے فوری طور پر اپنے حقوق کے حصول کےلئے اٹھا سکتی ہیں۔

پاکستان میں انتخابات ہونے میں صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ یہ وہ موقعہ ہے جو پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ نصیب ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے سیاست دان اور مستقبل کے راہنما قابل رسای ہوتے ہیں۔ انتخاب سےاگلے ہی دن، چاہے جیت ہو یا ہار، ان کی آنکھیں پھر جاتی ہیں۔

خواتین کو ذاتی طور پر ایٹیوست کی حیثیت سے، اور ایسی تنظیموں کے توسٔط سےبھی جن کا مقصد پاکستان میں حقوق نسواں کا حصول اور فروغ ہے، ایسے فورم تلاش کرنے چاہئییں جن میں وہ براہ راست، بلا واسطہ، ان امیدواروں سے عوام کےسامنے سوال کریں کہ خواتین کے انسانی حقوق اور کام پر ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہو گی، اور اگر انہوں نے اپنا وعدہ نہ نبہایا تو وہ اپنی جواب دہی کے لئے کیا لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔

چاہےخواتین یہ سوال میڈیا پر اٹھائیں یا پبلک میٹنگز میں، یہی وقت ہے جب لیڈران کرام تک ایک عام شخص کی باریابی ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ چڑیاں کھیت چگ جائیں اور یہ ایسے غائب ہو جائیں جیسے کسی کے سر سے سینگ، اور آپ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر بھی نہ ڈھونڈ پائیں۔ اس گھڑی کم از کم ان سے یہ ایک ہراسانی کے خلاف عملی کارروا ئی کی کمٹمنٹ ہی لے لیں۔ کون جانے اسی بہانے ہمارے سیاست دانوں سے شاید کو ئی نیکی سرزد ہو جائے۔

Facebook Comments HS